گدھا اور کنواں یک بوڑھے کسان کا پسندیدہ گدھا غلطی سے ایک گہرے اور خشک کنویں میں گر گیا۔ جانور گھنٹوں درد سے چلاتا رہا جبکہ کسان سوچتا رہا کہ اب کیا کیا جائے۔ آخر کار، یہ دیکھ کر کہ کنواں بالکل سوکھا ہوا ہے اور گدھا بھی بہت بوڑھا ہو چکا ہے، کسان نے ایک مشکل فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا کہ گدھے کو اسی کنویں میں دفن کر دینا ہی اس کی تکلیف کا واحد حل ہے۔اس نے اپنے پڑوسیوں کو مدد کے لیے بلایا۔ سب نے اپنے ہاتھوں میں بیلچے اٹھائے اور کنویں میں مٹی ڈالنا شروع کر دی۔شروع میں تو گدھے کو اندازہ ہو گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ بری طرح چیخا چلایا۔ لیکن مٹی کے چند بیلچے گرنے کے بعد، وہ اچانک بالکل خاموش ہو گیا۔کسان نے جب کنویں کے اندر جھانکا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مٹی کا ہر بیلچہ جو گدھے کی پیٹھ پر گر رہا تھا، وہ اسے ایک حیرت انگیز طریقے سے اپنے جسم سے جھٹک دیتا اور اس مٹی کے ڈھیر پر ایک قدم اوپر چڑھ جاتا۔مٹی گرتی رہی، بیلچے چلتے رہے۔گدھا مٹی جھٹکتا رہا، اور اوپر اٹھتا رہا۔جیسے جیسے پڑوسی مٹی ڈالتے گئے، کنویں کی تہہ اونچی ہوتی گئی اور گدھا مسلسل اوپر کی طرف چڑھتا گیا۔ دوپہر تک، سب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب گدھا کنویں کے کنارے سے باہر نکلا اور خوشی خوشی ہری بھری چراگاہوں کی طرف بھاگ گیا۔
💡 کہانی کا اخلاقی سبقزندگی آپ پر ہر طرح کی مٹی (مشکلات) پھینکے گی، لیکن اگر آپ انہیں جھٹکنا سیکھ لیں تو یہی مشکلات آپ کے لیے کامیابی کا زینا بن سکتی ہیں۔آپ چاہے کتنی ہی گہری دلدل یا مشکل میں کیوں نہ ہوں، ہار ماننا کبھی بھی آخری راستہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ مایوسی کے بوجھ کو اپنے اوپر ہاوی کرنے کے بجائے اسے جھٹک دیں اور حالات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیں، تو آپ مشکل ترین حالات سے بھی سرخرو ہو کر نکل سکتے ہیں۔
