عقل مند نوجوان

عقل مند نوجوان

کسی زمانے میں ایک بڑے شہر میں بہرام نام کا ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی دکان پر سونے چاندی کے زیورات، قیمتی کپڑے اور نایاب اشیا فروخت ہوتی تھیں۔ شہر کے لوگ اسے ایک کامیاب تاجر سمجھتے تھے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ بہرام جتنا امیر تھا، اس سے کہیں زیادہ مکار تھا۔

وہ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کبھی میٹھی زبان استعمال کرتا، کبھی جھوٹی قسمیں کھاتا اور کبھی اپنی دولت کا رعب جھاڑتا۔ اس کا اصول تھا کہ اگر کسی کی سادگی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو تو موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

اسی شہر میں سلیم نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ غریب ضرور تھا، لیکن ذہین اور حاضر جواب تھا۔ اس کے والد ایک معمولی بڑھئی تھے، جنہوں نے مرتے وقت اسے ایک نصیحت کی تھی:

’’بیٹا! دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی محنت سے دوسروں کا دل جیتتے ہیں، اور دوسرے وہ جو دوسروں کی محنت پر قبضہ کرکے خود کو عقل مند سمجھتے ہیں۔ ہمیشہ پہلی قسم کے لوگوں میں شامل رہنا، لیکن دوسری قسم کے لوگوں کی چالوں سے خبردار رہنا۔‘‘

سلیم نے اپنے والد کی بات دل میں بٹھا رکھی تھی۔

ایک دن سلیم کے والد کا ایک پرانا دوست شہر آیا۔ اس نے سلیم کو بتایا کہ پہاڑوں کے قریب ایک گاؤں میں ایک بوڑھا شخص رہتا ہے، جس کے پاس نایاب نیلم کا ایک قیمتی پتھر ہے۔ وہ اپنی بیماری اور غربت کی وجہ سے اسے فروخت کرنا چاہتا ہے۔

سلیم نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور اس گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔ کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ بوڑھے کے گھر پہنچا۔ بوڑھے نے اسے پتھر دکھایا۔ سلیم نے دیکھا کہ پتھر واقعی خوبصورت اور قیمتی معلوم ہوتا تھا۔

اس نے مناسب قیمت ادا کی اور پتھر خرید کر شہر واپس آگیا۔

جب بہرام سوداگر کو اس معاملے کا علم ہوا تو اس کے دل میں لالچ جاگ اٹھا۔ اس نے سوچا کہ اگر یہ پتھر واقعی نایاب ہے تو سلیم اسے بہت زیادہ قیمت پر فروخت کرسکتا ہے۔ کیوں نہ کسی ترکیب سے پتھر اس سے ہتھیا لیا جائے؟

اگلے روز بہرام نے سلیم کو اپنی دکان پر بلایا۔

’’نوجوان! سنا ہے تم نے ایک قیمتی نیلم خریدا ہے۔ مجھے دکھاؤ، شاید میں اسے تم سے اچھی قیمت پر خرید لوں۔‘‘

سلیم پتھر لے آیا۔

بہرام نے اسے غور سے دیکھا، پھر مصنوعی حیرت کے ساتھ بولا، ’’یہ تو بہت معمولی پتھر ہے! تم نے یقیناً اپنی ساری جمع پونجی ضائع کردی۔ خیر، میں تمہارا نقصان کم کرنے کے لیے اس کے بدلے سو سکے دے سکتا ہوں۔‘‘

سلیم سمجھ گیا کہ سوداگر پتھر کی حقیقت جانتا ہے، لیکن اسے دھوکا دینا چاہتا ہے۔

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، ’’آپ کی پیشکش اچھی ہے، لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ کی دکان میں ایک ایسا جادوئی ترازو ہے جو کسی بھی چیز کی اصل قیمت بتا دیتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ پہلے آپ اسی ترازو پر میرا پتھر تول کر اس کی قیمت معلوم کرلیں۔‘‘

بہرام نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو اس طرح بات کرتے سنا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی دکان میں ایسا کوئی ترازو نہیں، مگر اپنی عزت بچانے کے لیے بولا، ’’بالکل! میرے پاس ایسا ترازو موجود ہے۔‘‘

وہ فوراً اندر گیا اور ایک عام ترازو لے آیا۔

سلیم نے پتھر ترازو پر رکھا اور بولا، ’’اب آپ اپنی دکان کی سب سے قیمتی چیز بھی اس کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیجیے۔ اگر پتھر معمولی ہوا تو آپ کی چیز کا پلڑا بھاری ہوگا۔‘‘

بہرام نے سوچا کہ یہ تو آسان کام ہے۔ اس نے سونے کی ایک بھاری ڈلی دوسرے پلڑے میں رکھ دی۔

لیکن ترازو کا پلڑا سونے کی طرف جھک گیا۔

بہرام مسکرایا، ’’دیکھا! میں نے کہا تھا نا کہ یہ پتھر معمولی ہے۔‘‘

سلیم نے فوراً کہا، ’’جناب! ابھی تو آپ نے صرف وزن معلوم کیا ہے، قیمت نہیں۔ اگر آپ کے ترازو میں واقعی جادو ہے تو اب اس پتھر کی قیمت کے برابر سونا نکال کر دکھائیے۔‘‘

بہرام کچھ دیر خاموش رہا، پھر غصے سے بولا، ’’تم مجھے بے وقوف سمجھتے ہو؟ یہ کوئی جادوئی ترازو نہیں!‘‘

سلیم ہنس پڑا۔

’’تو پھر آپ دوسروں کو اپنی باتوں سے بے وقوف کیوں بناتے ہیں؟ آپ نے پتھر دیکھتے ہی اسے معمولی قرار دے دیا، حالانکہ آپ نے اس کی حقیقت جاننے کے لیے کسی ماہر سے مشورہ بھی نہیں کیا۔ آپ کا مقصد اسے سستے داموں حاصل کرنا تھا۔‘‘

دکان میں موجود لوگ یہ گفتگو سن رہے تھے۔ کچھ لوگ مسکرانے لگے، جبکہ کچھ نے بہرام کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

بہرام نے بات بدلنے کی کوشش کی۔

’’اچھا، نوجوان! اگر تم اتنے ہی عقل مند ہو تو یہ بتاؤ کہ اس پتھر کی اصل قیمت کیا ہے؟‘‘

سلیم نے جواب دیا، ’’میں خود بھی ماہر نہیں ہوں۔ اسی لیے اسے ایک معتبر ماہر کے پاس لے جاؤں گا۔ عقل مندی کا مطلب ہر بات کا علم ہونا نہیں، بلکہ یہ جاننا ہے کہ کس بات کا علم کس شخص سے حاصل کرنا چاہیے۔‘‘

یہ بات سن کر کئی لوگ داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

سلیم پتھر لے کر شہر کے ایک مشہور جوہری کے پاس گیا۔ جوہری نے باریک بینی سے اس کا معائنہ کیا اور بتایا کہ یہ اصلی نیلم نہیں، بلکہ نیلے رنگ کا ایک عام معدنی پتھر ہے۔ اس کی قیمت سلیم کی ادا کی ہوئی رقم سے بھی کم تھی۔

یہ سن کر سلیم کو شدید دکھ ہوا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ بوڑھے کی باتوں پر ضرورت سے زیادہ بھروسا کر بیٹھا تھا۔

لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

سلیم نے بوڑھے کا پتا معلوم کیا اور دوبارہ اس کے گاؤں پہنچ گیا۔ اس نے بوڑھے سے کہا، ’’بابا جی! آپ نے مجھے پتھر کی اصل حقیقت کیوں نہیں بتائی؟ میں نے اپنی محنت کی کمائی آپ کے بھروسے پر خرچ کی تھی۔‘‘

بوڑھا پہلے تو خاموش رہا، پھر اس کی آنکھیں جھک گئیں۔

آخرکار اس نے اعتراف کیا کہ اسے بھی پتھر کی حقیقت معلوم نہیں تھی۔ اسے یہ پتھر اپنے باپ سے ملا تھا اور وہ اسے نایاب سمجھتا تھا۔ اس نے جان بوجھ کر دھوکا نہیں دیا تھا، لیکن اس نے اپنی لاعلمی چھپانے کے لیے پتھر کی قیمت کے بارے میں بڑھا چڑھا کر باتیں ضرور کی تھیں۔

سلیم نے کہا، ’’اگر آپ اپنی لاعلمی تسلیم کرلیتے تو شاید میں یہ پتھر نہ خریدتا۔ انسان کو صرف جھوٹ سے نہیں، بلکہ اپنی حقیقت چھپانے کی عادت سے بھی نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

بوڑھا شرمندہ ہوگیا۔ اس نے سلیم کی رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی استطاعت کے مطابق کچھ رقم فوراً ادا کردی۔

سلیم واپس شہر پہنچا تو بہرام نے اسے راستے میں روک لیا۔

’’تو پھر نوجوان! تمہارا قیمتی نیلم کہاں ہے؟ کیا تم نے اسے لاکھوں میں فروخت کردیا؟‘‘

سلیم نے مسکرا کر جواب دیا، ’’نہیں، وہ تو معمولی پتھر نکلا۔ لیکن اس کے بدلے میں نے ایک ایسی چیز حاصل کی ہے جس کی قیمت آپ کی ساری دولت سے زیادہ ہے۔‘‘

بہرام حیران ہوا۔ ’’وہ کیا چیز ہے؟‘‘

سلیم نے کہا، ’’تجربہ! اب میں جان گیا ہوں کہ ہر خوبصورت چیز قیمتی نہیں ہوتی، ہر میٹھی بات کرنے والا خیرخواہ نہیں ہوتا، اور ہر اعتماد کرنے کے قابل دکھائی دینے والا شخص قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔‘‘

یہ کہہ کر سلیم آگے بڑھ گیا۔

وقت گزرتا گیا۔ سلیم نے اپنے والد کا بڑھئی کا کام سنبھال لیا۔ وہ ہر چیز کی مناسب قیمت بتاتا، گاہکوں کے ساتھ انصاف کرتا اور اپنی غلطیوں سے سیکھتا رہا۔ رفتہ رفتہ اس کی دکان شہر کی مشہور دکانوں میں شمار ہونے لگی۔

ادھر بہرام کی مکاری کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔ لوگ اس کی دکان پر آنے سے کترانے لگے۔ اس کی دولت تو کچھ عرصہ باقی رہی، لیکن لوگوں کا اعتماد ختم ہوگیا۔ آخرکار اسے اپنی بہت سی اشیا کم قیمت پر فروخت کرنا پڑیں۔

ایک دن بہرام سلیم کی دکان پر آیا۔ اس کے چہرے پر پہلے جیسا غرور نہیں تھا۔

اس نے کہا، ’’سلیم! میں نے ساری زندگی دوسروں کو دھوکا دے کر دولت جمع کی، مگر آج میرے پاس دولت تو ہے، عزت نہیں۔ تم نے کمائی بھی کی اور لوگوں کا اعتماد بھی حاصل کیا۔ مجھے بتاؤ، تمہاری کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘

سلیم نے جواب دیا، ’’آپ نے ہمیشہ یہ سوچا کہ کسی دوسرے سے کیا حاصل کیا جاسکتا ہے، جبکہ میں نے یہ سوچا کہ کسی دوسرے کے لیے کیا فائدہ مند کام کیا جاسکتا ہے۔ فرق صرف سوچ کا ہے۔ آپ نے لوگوں کی کمزوریوں کو اپنا ہتھیار بنایا، میں نے ان کی ضروریات کو اپنی خدمت کا ذریعہ بنایا۔‘‘

بہرام نے سر جھکا لیا۔

اس دن اسے پہلی بار احساس ہوا کہ مکاری سے حاصل کی گئی کامیابی بظاہر بڑی ہوسکتی ہے، مگر اس کی بنیاد ریت پر کھڑی ہوتی ہے۔

سبق: چالاکی اور مکاری میں فرق ہوتا ہے۔ چالاکی انسان کو مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھاتی ہے، جبکہ مکاری دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنا فائدہ حاصل کرنے کا نام ہے۔ دھوکے سے وقتی فائدہ تو مل سکتا ہے، لیکن عقل، سچائی اور تجربے سے حاصل ہونے والی کامیابی زیادہ ہوتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner