دانا مینڈک

دانا مینڈک

جنگل کے ایک پرانے کنویں میں ایک مینڈک رہتا تھا۔ کنواں گہرا تھا، اس کی دیواروں پر کائی جمی رہتی، اور دن کے بیشتر حصے میں اس کے اندر نیم تاریکی چھائی رہتی۔ مینڈک نے اپنی زندگی اسی کنویں میں گزاری تھی۔ باہر کی دنیا اس کے لیے چند آوازوں، پانی پر پڑتے سایوں اور کبھی کبھار جھک کر پانی پینے والے جانوروں تک محدود تھی، مگر اس کی گفتگو سننے والا یوں سمجھتا جیسے اس نے زمانے کے نشیب و فراز اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہوں۔ اسے ہر معاملے میں بولنے کا شوق تھا، اور اتفاق یہ تھا کہ سننے والے بھی اسے کوئی نہ کوئی مسئلہ سنا ہی دیتے تھے۔

ایک روز ایک لومڑی کنویں پر پانی پینے آئی۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔ جنگل میں اس کا کاروبار پہلے جیسا نہیں چل رہا تھا؛ شکار ڈھونڈنے میں محنت زیادہ اور فائدہ کم ہونے لگا تھا۔ مینڈک نے اس کی بات سنی تو فوراً گردن اکڑا کر بولا، ’’کاروبار میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ آدمی صرف محنت کرتا رہے، حکمتِ عملی نہ بدلے۔ تمہیں اپنی توانائی وہاں لگانی چاہیے جہاں فائدہ زیادہ ہو۔ کامیاب تاجر وہ نہیں جو سب سے زیادہ دوڑتا ہے، بلکہ وہ ہے جو درست سمت میں چلتا ہے۔‘‘ لومڑی نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا، جیسے کسی بڑے تجربہ کار کی بات سن رہی ہو، پھر سر ہلا کر رخصت ہو گئی۔ مینڈک نے فخر سے پانی میں ایک غوطہ لگایا اور دیر تک اپنے الفاظ کی بازگشت سے لطف اندوز ہوتا رہا۔

کچھ دن بعد ایک ہرن وہاں آیا۔ وہ جنگل کے نگہبانوں میں ملازم تھا اور اپنی ترقی کے معاملے میں فکر مند تھا۔ مینڈک نے اس کی پریشانی سنی تو بولا، ’’عہدہ صرف محنت سے نہیں ملتا، اپنی صلاحیت منوانی پڑتی ہے۔ وقت کی قدر کرو، اپنے سے آگے والوں سے سیکھو اور اپنی منزل پر نظر رکھو۔ جو شخص اپنے مقصد سے غافل ہو جائے، وہ ساری عمر دوسروں کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔‘‘ ہرن نے بھی اس کی باتیں پلے باندھیں اور آگے چل دیا۔ مینڈک نے دل ہی دل میں سوچا کہ اس جنگل میں اگر کوئی واقعی دانا ہے تو وہ خود ہے، کیونکہ جانور اپنے مسائل لے کر آتے ہیں اور مطمئن ہو کر جاتے ہیں۔

ایک شام ایک چیتا پانی پینے اترا۔ وہ جنگل کی دوڑ میں کئی مرتبہ ہار چکا تھا اور اس بار جیتنے کے لیے بے تاب تھا۔ مینڈک نے اسے دیکھا تو حسبِ عادت مشوروں کی جھڑی لگا دی۔ ’’رفتار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، میرے دوست! اصل کامیابی نظم و ضبط، مسلسل مشق اور اپنے حریف کی کمزوری سمجھنے میں ہے۔ تمہیں اپنی تربیت کا طریقہ بدلنا ہوگا۔‘‘ چیتے نے پوچھا، ’’اور تم نے یہ سب کہاں سیکھا؟‘‘ مینڈک ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر فوراً بولا، ’’حکمت حاصل کرنے کے لیے خود میدان میں اترنا ضروری نہیں؛ بعض اوقات باہر بیٹھ کر دیکھنے والا بھی وہ بات سمجھ لیتا ہے جو کھیلنے والے کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتی ہے۔‘‘ چیتا مطمئن تو نہ ہوا، مگر پانی پی کر چلا گیا۔ مینڈک نے اس کے جاتے ہی اپنی بات کو ایک نئی دانائی سمجھ کر دل میں محفوظ کر لیا۔

پھر ایک دن ایک بندر آیا جو جنگل کے تماشوں میں نام پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی خواہش بیان کی تو مینڈک نے اسے بھی کامیابی کا پورا نسخہ سمجھا دیا: ’’شہرت کے لیے صرف ہنر کافی نہیں، خود کو منوانا بھی آنا چاہیے۔ اپنی شخصیت بناؤ، لوگوں کی توجہ حاصل کرو، اور کبھی یہ مت سوچو کہ تم سے پہلے کون کامیاب ہوا۔‘‘ بندر نے پوچھا، ’’تم نے کبھی خود کوئی تماشا کیا ہے؟‘‘ مینڈک نے فخریہ جواب دیا، ’’میں نے تماشوں سے کہیں زیادہ اہم کام کیا ہے؛ میں لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے!‘‘ بندر ہنس دیا، مگر مینڈک کو اپنی بات میں کوئی مضحکہ خیز پہلو دکھائی نہ دیا۔

وقت گزرتا رہا۔ کنویں پر جانور آتے، اپنی الجھنیں بیان کرتے اور مینڈک کی طویل تقریریں سن کر واپس چلے جاتے۔ رفتہ رفتہ مینڈک کو اپنی دانائی پر ایسا یقین ہو گیا کہ اسے اپنی زندگی میں کسی کمی کا احساس ہی نہ رہا۔ وہ نہ کبھی کنویں سے باہر نکلا، نہ کسی میدان میں اترا، نہ کسی کاروبار میں نقصان اٹھایا، نہ کسی مقابلے میں ہارا؛ لیکن جنگل کے کاروبار، ملازمت، کھیل اور شہرت پر اس کی رائے ہمیشہ تیار رہتی۔

ایک دن ایک بوڑھا کچھوا کنویں کے کنارے رکا۔ اس نے مینڈک کی گفتگو سنی تو پوچھا، ’’تم دوسروں کو زندگی میں آگے بڑھنے کے اتنے طریقے بتاتے ہو، کبھی خود بھی اس کنویں سے باہر نکلنے کا سوچا؟‘‘ مینڈک نے ہنکارا بھرا، ’’مجھے باہر نکلنے کی کیا ضرورت؟ میں یہیں بیٹھ کر پوری دنیا کے معاملات سمجھ لیتا ہوں۔‘‘ کچھوے نے کنویں کی تاریک دیواروں، ٹھہرے ہوئے پانی اور اس کے اندر بیٹھے مینڈک کو دیکھا، پھر دھیمے لہجے میں کہا، ’’ممکن ہے تمہیں دنیا کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو، مگر ایک بات تم سے رہ گئی ہے۔‘‘ مینڈک نے بے چینی سے پوچھا، ’’وہ کیا؟‘‘ کچھوا بولا، ’’تم نے دوسروں کو زندگی گزارنے کے طریقے تو بہت بتائے، مگر خود زندگی کو آزمایا ہی نہیں۔ تمہیں معلوم ہے کہ کامیابی کے لیے کیا کرنا چاہیے؛ یہ نہیں معلوم کہ اسے حاصل کرنے کے لیے کن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘
یہ کہہ کر کچھوا اپنی سست رفتار چال چلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ مینڈک دیر تک خاموش رہا۔ پہلی بار اسے اپنے کنویں کی دیواریں پہلے سے زیادہ بلند محسوس ہوئیں۔ مگر اگلی صبح سورج کی کرن پانی پر پڑی تو اس نے پھر اپنا پرانا مقام سنبھال لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور جانور پانی پینے آیا، اور مینڈک نے حسبِ معمول گلا صاف کرکے کہنا شروع کر دیا، ’’دیکھو، کامیابی کا پہلا اصول یہ ہے…‘‘

حاصلِ سبق:
دوسروں کو راستہ دکھانا آسان ہے، مگر اس راستے پر چلنے کے لیے ہمت، تجربہ اور عمل درکار ہوتا ہے۔ ہر اچھی بات کہنے والا اس کا عملی نمونہ نہیں ہوتا، اور دنیا کے بارے میں بہت کچھ جان لینا، دنیا کو جینے کے برابر نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner