پرانے وقتوں کی بات ہے۔ ایک شہر میں ایک رحم دل اور نہایت عقلمند قاضی رہا کرتے تھے۔ ان کے انصاف کے چرچے دور دور تک تھے۔ وہ مجرم کو ایسی سزا دیتے کہ وہ دوبارہ جرم کا نام بھی نہ لیتا۔
ایک دن ایک امیر تاجر بھاگتا ہوا عدالت میں پہنچا۔ اس کا چہرہ زرد تھا اور آواز کانپ رہی تھی۔
“قاضی صاحب، میں لٹ گیا۔ میری دکان سے ہیروں کی پوٹلی چوری ہو گئی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کام میرے چار ملازموں میں سے ہی کسی کا ہے، کیونکہ دکان کی چابی صرف انہی کے پاس رہتی ہے۔”
قاضی صاحب نے تحمل سے سنا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “تاجر صاحب، پریشان نہ ہوں۔ چور کل صبح تک خود اپنا جرم مان لے گا۔”
اس کے بعد قاضی نے چاروں ملازموں کو فوراً عدالت میں طلب کیا۔ چاروں کے ہاتھ میں ایک ایک لکڑی کی چھڑی تھما دی اور سنجیدگی سے بولے:
“یہ چھڑیاں معمولی نہیں ہیں۔ یہ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرتی ہیں۔ تم سب یہ چھڑیاں گھر لے جاؤ اور کل صبح میرے سامنے پیش کرنا۔ یاد رکھو، جس نے چوری کی ہوگی، رات بھر میں اس کی چھڑی خودبخود دو انچ لمبی ہو جائے گی۔”
ملازم حیران و پریشان چھڑیاں لے کر گھروں کو لوٹ گئے۔
ان میں سے تین ملازم بے گناہ تھے۔ وہ مطمئن ہو کر سو گئے۔ مگر چوتھا ملازم — اصل چور — ساری رات جاگتا رہا۔ خوف نے اس کا کلیجہ منہ کو لا دیا تھا۔ وہ بار بار چھڑی کو دیکھتا اور سوچتا: “اگر صبح یہ واقعی دو انچ بڑھ گئی تو میری جان گئی۔ مجھے کچھ کرنا ہوگا۔”
آخر اس نے چالاکی سے کچن کی چھری اٹھائی اور چھڑی کو دو انچ کاٹ کر چھوٹا کر دیا۔ اب وہ مطمئن تھا کہ رات کو یہ دو انچ بڑھ بھی گئی تو صبح باقی چھڑیوں کے برابر ہی نکلے گی۔ اپنی اس چالاکی پر وہ دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا۔
اگلی صبح چاروں ملازم عدالت میں حاضر ہوئے۔ قاضی صاحب نے ایک ایک کر کے سب کی چھڑیاں دیکھنا شروع کیں۔ تین چھڑیاں ویسی کی ویسی تھیں۔ لیکن جب چوتھے ملازم کی باری آئی تو اس کی چھڑی باقی سب سے دو انچ چھوٹی نکلی۔
پورے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ قاضی صاحب کی آنکھوں میں چمک آئی۔ انہوں نے گرج کر حکم دیا: “سپاہیو، اسی کو گرفتار کر لو۔ یہی ہیرے کا چور ہے۔”
ملازم کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ فوراً قاضی کے قدموں میں گر پڑا اور گڑگڑا کر بولا: “حضور، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ میری چھڑی تو لمبی ہوئی ہی نہیں۔”
قاضی صاحب مسکرائے اور بولے: “نادان، چھڑی میں کوئی جادو نہیں تھا۔ وہ عام لکڑی ہی تھی۔ تمہارا جرم اور خوف خود بول اٹھا۔ تم نے سوچا کہ چھڑی لمبی ہو جائے گی، اس لیے اسے کاٹ دیا۔ سچے آدمی کو نہ نیند حرام ہوتی ہے نہ چھڑی کاٹنی پڑتی ہے۔ تمہاری اپنی چالاکی نے تمہیں پکڑوا دیا۔”
چور نے روتے ہوئے جرم قبول کر لیا اور ہیروں کی پوٹلی بھی برآمد ہو گئی۔
انسان جتنی بھی چالاکی کر لے، ضمیر کا خوف اور سچائی کی طاقت اسے ایک دن بے نقاب کر ہی دیتی ہے۔ گناہ انسان کو اندر سے کھوکھلا اور بزدل بنا دیتا ہے۔
