غلط فہمی

غلط فہمی

زمانۂ قدیم میں ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک ایسا میدان تھا جہاں جانور اکثر اپنی طاقت کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ ایک دن اسی میدان میں ایک ہاتھی اور ایک گینڈا آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے۔
دونوں اپنی اپنی طاقت کے قصیدے خود پڑھتے تھے۔
ہاتھی فخر سے اپنی سونڈ لہراتا اور کہتا:
“جنگل میں اگر کوئی پہاڑ چلتا پھرتا ہے تو وہ میں ہوں!”
گینڈا اپنی ناک کا سینگ آسمان کی طرف اٹھا کر جواب دیتا:
“اور اگر کوئی آندھی زمین پر دوڑتی ہے تو وہ میں ہوں!”
باتوں باتوں میں بحث بڑھی، بحث سے تکرار ہوئی، اور تکرار سے نوبت لڑائی تک جا پہنچی۔
آخر فیصلہ ہوا کہ ایک زبردست مقابلہ کیا جائے تاکہ دنیا جان لے کہ دونوں میں اصل بڑا کون ہے۔
جنگل میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
لومڑیاں تماشہ دیکھنے کو بے تاب تھیں، بندر درختوں پر نشستیں سنبھال رہے تھے، اور طوطے تازہ تبصرے تیار کر رہے تھے۔
ادھر ہاتھی اپنی کامیابی کے خواب دیکھ رہا تھا۔
وہ سوچتا:
“آج ایسا کارنامہ دکھاؤں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی!”
اسی دوران آسمان کی طرف سے ایک بندر نمودار ہوا۔
یہ کوئی عام بندر نہ تھا، بلکہ مشتری، یعنی دیوتاؤں کے بادشاہ کا خاص خدمت گار سمجھا جاتا تھا۔
جیسے ہی ہاتھی نے اسے دیکھا، اس کا سینہ مزید پھول گیا۔
دل میں خیال آیا:
“واہ! میری عظمت کی خبر تو دیوتاؤں تک پہنچ گئی! یقیناً مشتری نے اپنا سفیر میری مدد کے لیے بھیجا ہے۔”
چنانچہ وہ بڑے ادب سے بندر کے قریب گیا اور بولا:
“چچا جان! آپ کی آمد مبارک ہو۔ کیا مشتری نے آپ کو میری حمایت کے لیے بھیجا ہے؟”
بندر نے حیرت سے آنکھیں جھپکائیں۔
“تمہاری حمایت؟”
“جی ہاں، میری اور گینڈے کی لڑائی ہونے والی ہے۔ یقیناً دیوتا اس اہم معرکے پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے!”
بندر نے سر کھجایا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“ارے بھائی، تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔”
ہاتھی چونکا۔
“غلط فہمی؟”
“ہاں۔ مجھے تمہاری لڑائی سے کوئی سروکار نہیں۔”
ہاتھی کا منہ کھل گیا۔
“کیا مطلب؟”
بندر نے اپنی بغل سے ایک خشک سا تنکا نکالا اور بولا:
“میں تو ایک اور کام سے آیا ہوں۔”
“کون سا کام؟”
“دو چیونٹیوں کے درمیان اس گھاس کے تنکے کی تقسیم کرنی ہے۔”
ہاتھی چند لمحے اسے گھورتا رہا۔
پھر بولا:
“چیونٹیوں کے درمیان… گھاس کا تنکا؟”
“جی ہاں!”
“اور تم اس کام کے لیے آسمان سے یہاں آئے ہو؟”
بندر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا:
“بالکل۔”
ہاتھی نے حیرت سے کہا:
“مگر ہماری لڑائی؟”
بندر ہنس پڑا۔
“دوست! تم خود کو بہت اہم سمجھ بیٹھے ہو۔ دیوتاؤں کی نگاہ میں ایک چیونٹی اور ایک ہاتھی کی حیثیت میں اتنا فرق نہیں جتنا تم سمجھتے ہو۔”
پھر اس نے تنکا کندھے پر رکھا اور چلتے چلتے کہا:
“تم لوگ آرام سے فیصلہ کرو کہ تم میں بڑا کون ہے۔ مجھے تو پہلے یہ طے کرنا ہے کہ اس تنکے کا کون سا سرا کس چیونٹی کو ملے گا!”
یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گیا۔
ادھر ہاتھی وہیں کھڑا رہ گیا۔
سونڈ ڈھیلی۔
کان لٹکے ہوئے۔
اور چہرے پر ایسی حیرت جیسے کسی نے اسے بتایا ہو کہ دنیا اس کے گرد نہیں گھومتی۔
گینڈا بھی خاموش کھڑا تھا۔
کچھ دیر بعد دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر آسمان کی طرف، اور پھر اپنی بے مقصد ضد پر شرمندہ ہو کر ہنس پڑے۔
جنگل کے تماشائیوں نے بھی قہقہہ لگایا، اور اس دن لڑائی کے بجائے عقل کی جیت ہوئی۔
سبق
ہم اکثر اپنے جھگڑوں، انا اور مقابلوں کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ دوسروں کی نظر میں وہ ایک معمولی سی بات بھی نہیں ہوتے۔
دنیا ہر وقت ہماری کہانی نہیں سن رہی ہوتی؛ ہر شخص اپنی الجھنوں اور مصروفیات میں مگن ہے۔
اور کبھی کبھی…
جس لڑائی کو ہم قیامت سمجھ رہے ہوتے ہیں، کائنات کے لیے وہ دو چیونٹیوں کے جھگڑے سے بھی کم اہم ہوتی ہے۔
“عظمت کا سب سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ انسان خود کو دنیا کا مرکز سمجھنے لگے۔”
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner