غلط فہمی۔۔۔

غلط فہمی۔۔۔

جنگل کی سلطنت میں برسوں تک ایک شیر کی حکمرانی رہی۔ وہ انصاف پسند، باوقار اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس کی رفیقِ حیات، شیرنی، اپنی دانائی اور شفقت کے باعث پورے جنگل میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، نسلیں جوان ہوتی رہیں، یہاں تک کہ وہ دن بھی آ پہنچا جب بڑھاپے نے دونوں کے شانے تھپتھپائے۔

شیر نے اپنی بادشاہت اپنے جوان بیٹے کے سپرد کر دی۔
جنگل میں جشن منایا گیا، نئے بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی، اور بوڑھا شیر اپنی شیرنی کا ہاتھ تھامے جنگل کے ایک پُرسکون کنارے پر جا بسا، جہاں بہتے چشمے کی آواز، درختوں کی سرگوشیاں اور شام کے پرندوں کی چہچہاہٹ ان کی نئی زندگی کا سرمایہ تھیں۔

زندگی اگرچہ پرسکون تھی، مگر ایک عادت ایسی تھی جو دونوں کی عمر بھر نہ بدلی۔
دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے، لیکن جب بھی کسی بات پر دل دکھتا، وہ اظہار نہ کرتے۔
نہ کوئی شکوہ، نہ وضاحت۔
بس خاموشی۔

شیر خاموش ہو جاتا، شیرنی بھی خاموش ہو جاتی۔
پھر کئی کئی دن ایک ہی چھت کے نیچے رہتے، مگر جیسے دو اجنبی ہوں۔

نیا بادشاہ اکثر والدین کی خبر لیتا رہتا تھا۔ ایک دن اسے اطلاع ملی کہ بڑھاپے کی وجہ سے انہیں روزمرہ کے کاموں میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس نے فوراً ایک خدمت گار بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
مگر قسمت نے یہاں ایک آزمائش چھپا رکھی تھی۔

جنگل کی سب سے چالاک لومڑی، جو برسوں سے محل میں کوئی آرام دہ ذمہ داری حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھی، یہ خبر سنتے ہی حاضر ہو گئی۔
“بادشاہ سلامت! اگر اجازت ہو تو میں آپ کے والدین کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔”
بادشاہ نے اس کی ظاہری عاجزی دیکھی اور اجازت دے دی۔
لومڑی دوسرے ہی دن بوڑھے شیر اور شیرنی کے پاس پہنچ گئی۔

ابتدا کے چند دن اس نے ایسی خدمت کی کہ دونوں اس سے خوش ہو گئے۔
وہ پانی لاتی، پھل دھوتی، بستر بچھاتی، دوائیں دیتی اور نہایت ادب سے پیش آتی۔

پھر ایک دن اس نے اپنے اصل کھیل کا آغاز کیا۔
اس روز بادشاہ نے والدین کے لیے تازہ دودھ، شہد اور پھل بھیجے۔

لومڑی نے آدھا دودھ خود پی لیا۔
جب شیر نے پوچھا، “دودھ کم کیوں ہے؟”
لومڑی نے آہ بھری۔
“مالک، بیگم صاحبہ نے فرمایا تھا کہ آپ کو ویسے بھی دودھ کم پسند ہے، اس لیے میں نے باقی انہیں دے دیا۔”

شیر نے کچھ نہ کہا۔
شام کو جب شیرنی نے پوچھا، “میرا دودھ کہاں گیا؟”

لومڑی نے افسوس سے کہا، “بیگم صاحبہ! مالک نے آج اتنا شوق سے دودھ پیا کہ ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑا۔”

شیرنی نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔
اس نے سوچا، “اتنی عمر گزر گئی، مگر آج انہیں میری پروا نہ رہی۔”

دوسرے دن پھل آئے۔
لومڑی نے بہترین پھل خود کھا لیے۔

شیر سے کہا، “بیگم نے فرمایا، یہ نرم پھل میں خود کھاؤں گی، مالک کو سخت والے دے دو۔”
شیرنی سے کہا، “مالک نے فرمایا، میں بادشاہ رہا ہوں، اچھا پھل پہلے میرا حق ہے۔”
دونوں کے دل زخمی ہوتے رہے۔
مگر کسی نے دوسرے سے ایک لفظ نہ کہا۔
وقت گزرتا گیا۔

لومڑی دن بدن موٹی، چمکدار اور خوشحال ہوتی گئی۔
اور بوڑھا شیر اور شیرنی دن بدن کمزور۔
جو بھی انہیں دیکھنے آتا، حیران رہ جاتا۔
نوکرنی کے چہرے پر رونق تھی، مگر مالکوں کی آنکھوں کے گرد تھکن کے سائے تھے۔
ایک شام شیر تنہا بیٹھا ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔

اس نے دل ہی دل میں سوچا، “شاید اب ہم ساتھ رہنے کے لیے نہیں بنے۔”

ادھر شیرنی نے بھی یہی فیصلہ کر لیا۔
“میں واپس اپنے بیٹے کے پاس چلی جاؤں گی۔ یہاں خاموش رہنے سے بہتر ہے تنہا رہنا۔”
مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔

اسی رات نیا بادشاہ اچانک والدین سے ملنے آ پہنچا۔
اس نے دونوں کو دیکھا تو چونک اٹھا۔
“ابو جان! آپ اتنے کمزور کیوں ہو گئے؟”
“امی جان! آپ نے کھانا پینا کیوں چھوڑ دیا؟”

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، مگر حسبِ عادت خاموش رہے۔
بادشاہ سمجھ گیا کہ بیماری جسم کی نہیں، دل کی ہے۔

اس نے لومڑی کو بلایا۔
چند سوال کیے۔
پھر الگ الگ اپنے والدین سے بات کی۔
زیادہ دیر نہ لگی کہ حقیقت سامنے آ گئی۔
ہر وہ چیز جس پر دونوں ایک دوسرے کو قصوروار سمجھتے رہے تھے، دراصل لومڑی کی مکاری تھی۔
وہی دودھ پی جاتی تھی۔
وہی پھل کھا جاتی تھی۔
وہی دونوں کے دلوں میں خاموش زہر گھولتی رہی تھی۔

بادشاہ نے غصے سے لومڑی کی طرف دیکھا۔
لومڑی سر جھکائے کھڑی تھی۔

اس نے آہستہ سے کہا،
“بادشاہ سلامت، میرا قصور ضرور ہے، مگر ایک بات یاد رکھیے”
سب کی نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔

وہ بولی، “میں صرف وہاں کامیاب ہوتی ہوں جہاں لوگ ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔”

بادشاہ نے لومڑی کو جنگل سے نکالنے کا حکم دیا، مگر جاتے جاتے اس نے ایک ایسی بات کہی جس پر سب خاموش ہو گئے: “مجھے مت نکالیے، میری جگہ کوئی اور لومڑی آ جائے گی۔ جب تک رشتوں میں خاموشی رہے گی، میرے جیسے جانور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔”

اخلاقی سبق

غلط فہمی کا جنم ہمیشہ جھوٹ سے نہیں ہوتا، اکثر اس کی پیدائش خاموشی سے ہوتی ہے۔ جو رشتے گفتگو سے خالی ہو جائیں، وہاں کسی دشمن کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ دل کی بات وقت پر کہہ دینا، برسوں کی خاموشی سے کہیں بہتر ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner