قیمتی شے کی قدر

قیمتی شے کی قدر

عرب کے ایک مشہور شخص کو اپنی چچا زاد لڑکی پسند آ گئی۔ اس نے اس کے والد سے نکاح کا پیغام بھیجا اور مہر کے طور پر سو اونٹنیاں اور ان کا چرواہا دینے کی پیشکش کی۔

لڑکی کے والد نے کہا:

“تم دوسروں سے زیادہ اس کے حقدار ہو، لیکن میں اس کا مہر صرف تمہارا گھوڑا چاہتا ہوں، وہی گھوڑا جس پر تم سواری کرتے ہو۔”

گھوڑا اس شخص کو بے حد عزیز تھا، اس لیے وہ فوراً جواب نہ دے سکا۔

لڑکی نے اشارے سے اسے رضامند ہونے کا کہا، مگر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور سب کے سامنے یہ اشعار پڑھے:

گھوڑے کے سر پر لگام کی جھنکار
مجھے تم سے شادی کرنے سے زیادہ عزیز ہے۔

میرے گھوڑے کی لگام کی آواز
تمہارے اشاروں سے زیادہ محبوب ہے۔

میرا گھوڑا اتنا معمولی نہیں
کہ میں اسے آسانی سے دے دوں جبکہ نیزہ میرے ہاتھ میں ہو۔

مجھے ڈر ہے کہ اگر ہم کسی تنگ راستے میں پھنس گئے
اور تیز دوڑنے کی ضرورت پڑی تو تم میرا بوجھ نہ اٹھا سکو گی۔

گھوڑے مجھے خطرات سے بچا لیتے ہیں جب میں ان پر سوار ہوتا ہوں،
لیکن اگر میں تمہارے ساتھ ہو گیا تو شاید مصیبت میں پڑ جاؤں۔

اے میری چچا زاد! مجھے چھوڑ دو اور چلی جاؤ،
کیا تم صرف آنکھوں کے اشاروں سے مجھے بہکا رہی ہو؟

چاہے آج میں عزت اور نعمت میں ہوں،
لیکن اگر زمانہ بدل گیا تو شاید تم مجھے حقیر سمجھنے لگو۔

اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر میں بیمار پڑ گیا
اور بیماری طویل ہو گئی تو تم مجھ پر رحم نہ کرو گی۔

یہ سن کر لڑکی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اس نے جواب میں کہا:

اللہ کی پناہ! میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی،
چاہے میرا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے جدا ہی کیوں نہ ہو جائے۔

جب تم میرے ساتھ زندگی گزارو گے اور میری فطرت کو پہچانو گے،
تو جان لو گے کہ میں بہترین ساتھی ہوں۔

تم میری رفاقت پر خوش ہو گے اور کہو گے
کہ یہ عورت اس گھر کے لیے مضبوط قلعے کی مانند تھی۔

پس اچھا گمان رکھو اور بدگمانی چھوڑ دو،
اور عقلِ سلیم سے حق اور باطل میں فرق کرو۔

مجھ جیسی عورت سے کمی اور کوتاہی کا صدور ممکن نہیں،
اور امانت دار کے ساتھ خیانت کرنا بھی میری شان نہیں۔

جب والد نے دونوں کی گفتگو سنی تو سمجھ گیا کہ یہ نوجوان اس کی بیٹی کے لیے بہترین رفیق ہے۔

اس نے کہا:

“اپنی اونٹنیاں بھی رکھو، اپنا گھوڑا بھی رکھو، اور اپنی چچا زاد سے شادی بھی کر لو۔”

نوجوان نے کہا:

“نہیں چچا جان! میرا گھوڑا لے لیجیے۔”

والد مسکرایا اور بولا:

“مجھے تمہارے گھوڑے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم اپنی محبوب چیز سے کتنی وفاداری اور وابستگی رکھتے ہو۔”

سبق: جو شخص اپنی محبوب اور قیمتی چیز کی قدر کرنا جانتا ہو، وہ رشتوں کی قدر بھی خوب جانتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner