محنت اور اخلاص

محنت اور اخلاص

شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک شخص کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان بہت بڑی نہیں تھی، نہ اس پر کوئی شاندار بورڈ لگا تھا اور نہ ہی اندر کوئی غیر معمولی سجاوٹ۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صبح دکان کھلتے ہی گاہک آنا شروع ہوجاتے اور شام تک رش کم ہونے کا نام نہ لیتا۔ کوئی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز لینے آتا، کوئی پرانا گاہک کسی نئے شخص کو ساتھ لے آتا اور کوئی صرف اس لیے آتا کہ اسے معلوم تھا یہاں چیز اچھی ملے گی اور دکاندار سے بات کرتے ہوئے عزت بھی ملے گی۔ اس دکاندار نے یہ مقام ایک دن میں حاصل نہیں کیا تھا۔ برسوں سے وہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چیز کا معیار اچھا رکھتا، گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا، کسی کو دھوکا نہ دیتا، معمولی نفع پر بھی خوش ہوجاتا اور اگر کسی چیز میں خرابی نکل آتی تو گاہک کے واپس آنے سے پہلے ہی مسئلہ حل کر دیتا۔ یوں اس کی دکان صرف دکان نہیں رہی تھی، لوگوں کا اعتماد بن چکی تھی۔ اسی بازار میں ایک دوسرا شخص بھی تھا۔ وہ روز سامنے سے گزرتا اور اس دکان کا رش دیکھتا۔ شروع میں دل میں خیال آتا، “واہ! اس کی دکان کتنی اچھی چل رہی ہے۔” مگر آہستہ آہستہ یہ خیال خواہش سے حسد اور حسد سے جلن بن گیا۔ اب اسے دکان کے گاہک نظر نہیں آتے تھے، صرف دکاندار کی کامیابی نظر آتی تھی۔ اسے یہ نہیں دکھائی دیتا تھا کہ سامنے والے نے کتنے سال محنت کی، کتنے گاہکوں کا اعتماد جیتا اور کتنی مرتبہ اپنا فائدہ چھوڑ کر دوسرے کا کام کیا۔ اسے صرف یہ دکھائی دیتا تھا کہ “اس کی دکان بھری ہوئی ہے اور میری خالی ہے۔” ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی بالکل اسی کے سامنے ایسی ہی دکان کھولے گا۔ اس نے سرمایہ لگایا، سامان منگوایا اور سامنے شٹر اٹھا دیا۔ دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔ اسے لگا اب گاہک تقسیم ہوجائیں گے، سامنے والے کا رش کم ہوگا اور شاید لوگ اس کی دکان کو چھوڑ کر اس کے پاس آنے لگیں گے۔ مگر چند دن ہی میں اسے حقیقت کا اندازہ ہوگیا۔ لوگ اس کی دکان کے سامنے سے گزرتے، ایک نظر اندر ڈالتے اور آگے بڑھ جاتے۔ کبھی کوئی گاہک اندر آ بھی جاتا تو چیز دیکھ کر واپس چلا جاتا۔ اس کے پاس نہ وہ معیار تھا، نہ تجربہ، نہ خوش اخلاقی، نہ وہ اعتماد جو برسوں میں بنتا ہے۔ جو ایک آدھ شخص کسی چیز کی ضرورت کے باعث آتا بھی، وہ خریدنے کے بعد دوبارہ دکھائی نہ دیتا۔ دوسری طرف سامنے والی دکان پہلے کی طرح بھری رہتی۔ صبح سے شام تک گاہکوں کا آنا جانا لگا رہتا۔ حسد کرنے والا شخص اپنی خالی دکان میں بیٹھا سامنے کا رش دیکھتا اور اندر ہی اندر جلتا رہتا۔ پہلے اسے سامنے والے کی کامیابی بری لگتی تھی، اب اس کی اپنی ناکامی نے اس کے دل میں مزید زہر بھر دیا تھا۔ وہ سوچتا، “آخر لوگ اس کے پاس ہی کیوں جاتے ہیں؟” کبھی اسے قیمت بری لگتی، کبھی سامان، کبھی گاہکوں کی پسند اور کبھی دکاندار کی قسمت۔ مگر ایک سوال وہ خود سے کبھی نہ پوچھتا: “کیا میں نے بھی وہ محنت، وہ معیار اور وہ اخلاق پیدا کیے ہیں جنہوں نے اسے یہاں تک پہنچایا؟”
  وقت گزرتا گیا۔ سامنے والی دکان پہلے کی طرح چلتی رہی، مگر حسد کرنے والے کی دکان کا شٹر آخرکار ہمیشہ کے لیے گر گیا۔ لوگ کہتے تھے وہ شخص بیماری سے مرا، کوئی کہتا پریشانی نے اسے کھا لیا، کوئی کہتا مسلسل ناکامی نے اسے توڑ دیا۔ مگر بازار کے ایک بوڑھے دکاندار نے بس اتنا کہا، “وہ دوسرے کی دکان بند کروانے نکلا تھا، مگر اپنی زندگی ہی بند کر بیٹھا۔” اس دن بازار میں کسی نے سامنے والی دکان کے مالک سے پوچھا، “آپ کو کبھی اس شخص کی حسد بھری حرکت کا برا نہیں لگا؟” وہ مسکرایا اور بولا، “مجھے تو اس پر ترس آتا تھا۔ وہ ہر روز میری دکان کے گاہک گنتا رہا، مگر اپنے ہاتھ کی صلاحیت کبھی نہ گن سکا۔ وہ ہر روز میرے رزق کو دیکھتا رہا، مگر اپنے رب کے خزانے کو بھول گیا۔” حقیقت یہی ہے کہ حسد ایک عجیب آگ ہے۔ اس میں انسان دوسرے کے ہاتھ میں موجود نعمت دیکھ کر جلتا ہے، مگر اس آگ میں سب سے پہلے اپنا دل جلتا ہے۔ دوسرے کی دکان میں گاہک بڑھتے ہیں تو حسد کرنے والے کے گاہک کم نہیں ہوتے، مگر اس کا سکون ضرور کم ہوجاتا ہے۔ دوسرے کی کامیابی سے اس کا رزق ختم نہیں ہوتا، مگر حسد کرنے والے کی خوشی ضرور ختم ہوجاتی ہے۔

حاصلِ سبق: کسی کی کامیابی دیکھ کر دو راستے ہوتے ہیں: یا تو اس سے سبق لے کر اپنی زندگی بہتر بنائی جائے، یا اس کے رزق کو دیکھ کر دل میں آگ لگا لی جائے۔ پہلا راستہ انسان کو آگے لے جاتا ہے، دوسرا اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یاد رکھیں، رزق دکانوں کے سامنے نہیں بٹتا، اللہ کے حکم سے دلوں اور نصیبوں میں بٹتا ہے۔ کسی کے حصے کا رزق دیکھ کر اپنے نصیب کو کم نہ سمجھیں۔ ممکن ہے جس شخص سے آپ حسد کر رہے ہیں، اللہ نے اسے کچھ اور دیا ہو اور آپ کے لیے کچھ ایسا لکھا ہو جو ابھی آپ کی نظر سے اوجھل ہے۔ اس لیے دوسرے کی شمع دیکھ کر اپنے چراغ کو آگ نہ لگائیں۔ حسد کی آگ میں جل کر دوسرے کا چراغ بجھ بھی جائے تو آپ کا گھر روشن نہیں ہوگا۔ اور جس آگ میں انسان اپنے ہی دل کو جلاتا رہے، وہ دنیا میں بھی جہنم کا ایک چھوٹا سا ذائقہ بن جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ دوسرے کی نعمت دیکھ کر کہیں: “یا اللہ! اسے بھی برکت دے اور مجھے بھی اپنے فضل سے عطا فرما۔” کیونکہ دوسروں کے رزق سے لڑنے والا کبھی خوشحال نہیں ہوتا؛ خوشحال وہ ہوتا ہے جو اپنے رب کے فیصلے پر دل سے راضی ہو کر اپنی محنت جاری رکھتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner