یہ کہانی ہے انگلینڈ کے چھوٹے سے قصبے ہائیڈ کی، جہاں تقریباً 30 ہزار لوگ رہتے تھے۔ وہاں ایک ڈاکٹر تھا، ڈاکٹر ہیرالڈ شپ مین۔
ڈاکٹر شپ مین زیادہ تر بوڑھی، اکیلی رہنے والی عورتوں کو نشانہ بناتا تھا۔ وہ ان کے گھروں میں خود جاتا، گھنٹوں ان کی باتیں سنتا، ان کا دل ہلکا کرتا۔ لوگوں کو لگتا تھا یہ تو فرشتہ ہے! یہاں تک کہ کچھ مریضوں نے اپنے گھر کی چابیاں بھی اسے دے رکھی تھیں۔
لیکن اس ہمدردی کے پیچھے ایک خوفناک منصوبہ تھا۔ وہ معلومات لیتا تھا — کون کب اکیلا ہوتا ہے، کس کے پاس کتنی جائیداد ہے، رشتہ دار کہاں رہتے ہیں۔ اور جب اسے تسلی ہو جاتی، تو وہ دوا کی نہیں، موت کی خوراک دیتا تھا — Diamorphine کا جان لیوا ٹیکہ!
چونکہ مرنے والی 80 سال سے اوپر کی ہوتی تھیں، کسی کو شک نہیں ہوتا تھا۔ اور سب سے بڑا کھیل یہ تھا — وہ خود ہی Form B پر موت کی وجہ “بڑھاپا” لکھ کر دستخط کر دیتا تھا، اور دوسرا ڈاکٹر بغیر سوچے Form C پر دستخط کر دیتا تھا۔ پھر وہ لاش جلانے کی سفارش کر دیتا تھا، تاکہ ثبوت ہی ختم ہو جائے!
اسی طریقے سے وہ 23 سال تک قتل کرتا رہا!
پہلی بار 1998 میں ڈاکٹر لنڈا رینالڈز کو شک ہوا۔ اس نے دیکھا کہ شپ مین کے چھوٹے سے کلینک میں 3 مہینے میں 16 اموات ہوئیں، جبکہ سامنے والے بڑے کلینک میں، جہاں 3 گنا زیادہ مریض تھے، صرف 14 اموات ہوئیں! اور سب کی لاشیں جلائی گئی تھیں!
اس نے رپورٹ کی، پولیس آئی، لیکن ثبوت نہ ملنے پر کیس بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے 3 قتل اور کیے!
پھر اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔
24 جون 1998، اس کی آخری شکار تھیں، 81 سالہ سابق میئر کیتھلین گرونڈی۔ انہیں بھی اس نے مار دیا اور پھر ان کی جعلی وصیت بنا دی کہ “میرا گھر ڈاکٹر شپ مین کے نام کر دیا جائے”۔
لیکن کیتھلین کی بیٹی خود وکیل تھی، انجیلا ووڈرف۔ اس نے کہا، “میری ماں کے تو دو گھر تھے، وصیت میں ایک کا ہی ذکر کیوں ہے؟” اسے شک ہوا کہ یہ وصیت جعلی ہے!
وہ پولیس کے پاس گئی۔ پولیس نے لاش قبر سے نکال کر ٹیسٹ کیا تو جسم میں ہیروئن کی بھاری مقدار ملی!
ڈاکٹر شپ مین نے کہا، “وہ تو خود ہیروئن لیتی تھی، میں نے تو پہلے ہی کمپیوٹر میں لکھا ہوا تھا!”۔
یہیں وہ پھنس گیا! اس نے کمپیوٹر میں تاریخ پیچھے کی ڈالی تھی، لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ کمپیوٹر خود بتا دیتا ہے کہ فائل کب بنائی گئی! فائل تو موت کے بعد بنائی گئی تھی!
اور دوسرا ثبوت — پولیس کو وہ ٹائپ رائٹر مل گیا جس سے جعلی وصیت بنی تھی۔ اس ٹائپ رائٹر کے کچھ حروف ٹوٹے ہوئے تھے، اور وہی ٹوٹے ہوئے حروف وصیت میں بھی تھے!
7 ستمبر 1998 کو ہائیڈ کا مشہور ڈاکٹر گرفتار ہو گیا۔
تحقیقات میں پتہ چلا کہ اس نے 1975 سے 1998 تک کم از کم 218 قتل کیے تھے، اور اندازہ 260 تک جاتا ہے! عدالت نے اسے 15 قتلوں میں مجرم قرار دے کر عمر قید دی۔
لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی۔ 13 جنوری 2004 کو اس نے جیل میں بیڈ شیٹ سے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ اس کے ایک جیل ساتھی نے کہا تھا کہ شپ مین نے اسے بتایا تھا کہ اس نے 260 نہیں، 508 قتل کیے ہیں!
آج تک کسی کو نہیں پتہ کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ پیسے کے لیے؟ طاقت کے لیے؟ یا اپنی ماں کی کینسر سے موت کا بدلہ؟
یہ تھی ڈاکٹر ہیرالڈ شپ مین کی کہانی، جس نے مسیحا کے بھیس میں موت بانٹی!


