نصیحت کرنا آسان ہے عمل کرنا مشکل ہے

نصیحت کرنا آسان ہے عمل کرنا مشکل ہے

کہتے ہیں، ایک دن ایک عقاب بلند فضا میں پرواز کر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر زمین پر پڑے ایک چوہے پر پڑی۔ چوہا ایک شکاری کے بچھائے ہوئے جال کے قریب منڈلا رہا تھا، جس کے اندر پنیر کا ایک ٹکڑا رکھا تھا۔ عقاب فوراً نیچے اترا اور چوہے سے کہنے لگا، ’’نادان! تمہیں نظر نہیں آتا کہ یہ تمہارے لیے موت کا پھندا ہے؟ ذرا سی لالچ تمہاری جان لے سکتی ہے۔ عقل سے کام لو، ہر چمکتی چیز فائدے کی نہیں ہوتی۔‘‘ چوہا اس کی نصیحت سن کر خاموشی سے وہاں سے نکل گیا۔
عقاب ابھی اپنی دانائی پر ناز ہی کر رہا تھا کہ اچانک اس کے پاؤں ایک دوسرے جال میں الجھ گئے، جو شکاری نے پرندوں کو پکڑنے کے لیے بچھا رکھا تھا۔ اس نے پھڑپھڑا کر نکلنے کی کوشش کی، مگر جال مزید سخت ہوتا گیا۔ کچھ دیر پہلے دوسروں کو عقل سکھانے والا عقاب اب خود بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔

اتفاق سے وہی چوہا وہاں سے گزرا۔ عقاب کو پھنسے دیکھ کر وہ مسکرایا اور بولا، ’’دوسروں کو نصیحت کرنا تو آسان ہے، عقاب صاحب! مگر کبھی اپنی پرواز کے راستے پر بھی نظر ڈال لیا کیجیے۔ آپ کو میری فکر تھی، لیکن اپنے قدموں کے نیچے بچھا جال نظر نہ آیا۔‘‘
چوہے نے اپنے تیز دانتوں سے جال کترنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں عقاب آزاد ہو گیا۔ عقاب شرمندہ تھا؛ آج اسے اس مخلوق سے سبق ملا تھا جسے وہ چند لمحے پہلے نادان سمجھ رہا تھا۔

حاصل سبق:
ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں کی زندگیوں کے مشیر بنے پھرتے ہیں۔ کسی کو راستہ دکھاتے ہیں، کسی کی غلطیاں گنواتے ہیں اور کسی کو زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتے ہیں، مگر اپنی زندگی کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں۔ دوسروں کے راستے کی ٹھوکریں ہمیں فوراً دکھائی دیتی ہیں، لیکن اپنے قدموں تلے موجود گڑھا نظر نہیں آتا۔ یاد رکھیے، دوسروں کو سنبھالنے سے پہلے خود کو سنبھالنا اور دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا ضروری ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner