پانی

پانی

عجب زمانہ آن پڑا تھا۔ کنویں لبالب تھے، ندیاں گنگنا رہی تھیں، سمندر اپنی موجوں کے تاج پہنے اِتراتے پھرتے تھے، مگر پانی کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی تھی۔ وہ ڈھونڈتا پھرتا تھا وہ دل، جہاں کبھی شفافیت بستی تھی؛ وہ روح، جہاں کبھی پاکیزگی کی جھیل لہراتی تھی۔
انسان نے اپنی پیاس تو بجھا لی تھی، مگر اپنے وجود کے چشمے خشک کر بیٹھا تھا۔ حرص کی دھول نے ضمیر کے دریچوں کو بند کر دیا تھا، اور خودغرضی کی تپتی ہوئی ہواؤں نے احساس کی نمی چرا لی تھی۔
پانی حیران تھا کہ جس مخلوق کو زندگی دینے آیا تھا، وہی زندگی کے معنی بھول بیٹھی ہے۔ اس نے انسان کے اندر جھانکا تو وہاں خواہشات کے ریگستان تھے، حسد کے کانٹے تھے، اور محبت کے چشمے سوکھ چکے تھے۔
تب پانی نے آہ بھری اور کہا:
“مجھے زمین کی پیاس نہیں ستاتی، نہ آسمان کی خشکی ڈراتی ہے۔ میری اصل تشنگی تو اُس دل کے لیے ہے جو کبھی سمندر سے زیادہ وسیع اور چشمے سے زیادہ شفاف ہوا کرتا تھا۔”
اور یوں معلوم ہوا کہ پانی کی سب سے بڑی پیاس، انسان کے اندر مرتی ہوئی انسانیت تھی۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner