کسی زمانے میں ایک خوبصورت گاؤں میں حامد نامی ایک تاجر رہتا تھا۔ وہ بہت امیر تھا، لیکن اس کی لالچ کی کوئی حد نہیں تھی۔ اس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے، پھر بھی وہ ہر وقت مزید دولت حاصل کرنے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ گاؤں کے غریب لوگ اس سے مدد مانگتے تو وہ انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیتا۔
اسی گاؤں میں کریم نامی ایک غریب لکڑہارا بھی رہتا تھا۔ وہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا اور ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔
ایک دن حامد اپنے پرانے گودام کی صفائی کروا رہا تھا کہ اسے لکڑی کے ڈھیر کے نیچے ایک عجیب و غریب صندوق ملا۔ صندوق پر زنگ آلود تالا لگا تھا اور اس پر لکھا تھا:
”اس صندوق میں موجود دولت صرف اسی شخص کو ملے گی جو اپنی لالچ پر قابو پا سکے گا۔“
حامد یہ عبارت پڑھ کر ہنسنے لگا۔ اس نے فوراً تالے کو توڑا اور صندوق کھول دیا۔ اندر سونے کے چند سکے اور ایک کاغذ پڑا تھا۔ کاغذ پر لکھا تھا کہ اگر وہ رات بارہ بجے صندوق میں اپنا سب سے قیمتی سکہ رکھے گا تو صبح اس کے سکے دگنے ہو جائیں گے۔
حامد خوشی سے پاگل ہوگیا۔ اس نے رات کو اپنا سب سے قیمتی سکہ صندوق میں رکھا اور سو گیا۔ صبح اٹھا تو واقعی دو سکے موجود تھے۔ اب تو اس کی لالچ اور بڑھ گئی۔ وہ روزانہ صندوق میں سکے رکھتا اور صبح دگنی دولت حاصل کرلیتا۔
چند ہی دنوں میں اس نے اپنی ساری دولت صندوق میں ڈال دی۔ لیکن ایک رات صندوق سے آواز آئی:
”حامد! دولت بڑھانے کے لیے تم نے اپنی خوشیاں قربان کردیں، مگر کیا تم نے کبھی کسی ضرورت مند کی مدد کی؟“
حامد خوف زدہ ہوگیا۔ اس نے جواب دیا، ”میں اپنی دولت سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا! یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے۔“
اچانک صندوق کا ڈھکن بند ہوگیا۔ اگلی صبح جب حامد نے اسے کھولا تو اس کے تمام سکے غائب تھے۔ وہ چیختا چلاتا گاؤں کے بزرگ کے پاس پہنچا اور سارا واقعہ سنایا۔
بزرگ نے کہا، ”تمہیں دولت بڑھانے کا موقع ملا تھا، لیکن تم نے لالچ میں آکر اپنی عقل کھو دی۔ دولت کا اصل فائدہ دوسروں کے کام آنے میں ہے۔“
حامد مایوس ہوکر گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں اس نے کریم لکڑہارے کو دیکھا۔ کریم اپنی معمولی کمائی میں سے ایک غریب بیوہ کو آٹا خرید کر دے رہا تھا۔
حامد نے حیرت سے پوچھا، ”تم خود غریب ہو، پھر بھی دوسروں کی مدد کیوں کرتے ہو؟“
کریم مسکرایا اور بولا، ”کیونکہ خوشی دولت جمع کرنے میں نہیں، بلکہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔“
یہ بات حامد کے دل میں اتر گئی۔ اس نے اپنی غلطی تسلیم کی اور دوبارہ محنت کرکے روزی کمانے کا فیصلہ کیا۔ کچھ عرصے بعد وہ پہلے سے بہتر انسان بن گیا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے لگا۔
سبق: لالچ انسان سے اس کی عقل اور سکون چھین لیتی ہے، جبکہ سخاوت اور دوسروں کی مدد انسان کو حقیقی خوشی عطا کرتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


