پیمانہ وہی لوٹ کر آتا ہے

پیمانہ وہی لوٹ کر آتا ہے

کسی زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اپنی محنتی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔
عورت روزانہ دودھ سے مکھن بلوتی، پھر اسے خوبصورت گول پیڑوں کی شکل دیتی۔ ہر پیڑا پورا ایک کلوگرام بنا کر تیار کیا جاتا۔

کسان وہ مکھن شہر کے ایک دکاندار کو بیچ آتا اور بدلے میں گھر کا راشن لے لیتا۔ یوں سادہ سی زندگی چل رہی تھی۔

ایک دن دکاندار کے دل میں شک پیدا ہوا۔
اس نے سوچا کیوں نہ آج خود مکھن تول کر دیکھوں۔

جب اُس نے پیڑے ترازو پر رکھے تو حیران رہ گیا — ہر “ایک کلو” کا پیڑا تقریباً نو سو گرام نکلا، یعنی وزن میں کمی تھی۔

غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
اگلے دن جب کسان حسبِ معمول مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا اور سخت لہجے میں بولا:

آج کے بعد میں تم سے سودا نہیں کروں گا! تم پورا وزن کہہ کر کم مکھن دیتے ہو۔ یہ تو سراسر دھوکہ ہے!”

غریب کسان نے نظریں جھکا لیں۔ اس کی آواز میں دکھ بھی تھا اور سچائی بھی۔ وہ آہستہ سے بولا:

جناب! ہمارے پاس اپنا ترازو نہیں ہے۔ ہم تو وہی چینی تول کر مکھن بناتے ہیں جو آپ سے خرید کر لاتے ہیں۔ جتنا وزن آپ نے دیا، ہم نے اتنا ہی وزن واپس کیا ہے۔”

یہ سن کر دکاندار خاموش ہو گیا…
اسے سمجھ آ گئی کہ کمی کہاں تھی۔

یاد رکھیں:
جس پیمانے سے آپ دوسروں کو تولتے ہیں، ایک دن وہی پیمانہ آپ کے لیے بھی استعمال ہوگا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner