ہندوستان کے ایک گاؤں میں چار بوڑھے رہتے تھے۔ وہ بچپن کے دوست تھے۔ ساری زندگی انہوں نے ایک ساتھ کام کیا، ایک ساتھ کھایا، ایک ساتھ باتیں کیں۔ اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے، بال سفید ہو گئے تھے، ہاتھ کانپنے لگے تھے۔
ایک دن وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان کی باتیں چل رہی تھیں۔
پہلا بوڑھا بولا: “ہم نے ساری زندگی کام کیا، لیکن کبھی آرام نہیں کیا۔ اب مرنے سے پہلے کچھ ایسا کریں جو یاد رہے۔”
دوسرے نے کہا: “کیا کریں؟ ہم بوڑھے ہیں، ہاتھ نہیں چلتے، ٹانگیں نہیں چلتیں۔”
تیسرے نے کہا: “ہماری عقل تو چلتی ہے۔ عقل سے کچھ کریں۔”
چوتھے نے کہا: “چلو، اس درخت کو دیکھو۔ یہ بہت پرانا ہے، بہت بڑا ہے۔ لوگ اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے بچائیں۔”
انہوں نے سوچا: “لوگوں کو کیسے بتائیں کہ یہ درخت خاص ہے؟”
پہلے بوڑھے نے کہا: “میں جاؤں گا اور کہوں گا کہ میں نے اس درخت میں دیوی دیکھی۔”
دوسرے نے کہا: “لوگ تم پر ہنسیں گے۔ میں جاؤں گا اور کہوں گا کہ اس درخت میں دوائی ہے۔”
تیسرے نے کہا: “لوگ تم پر بھی ہنسیں گے۔ میں جاؤں گا اور کہوں گا کہ اس درخت کے نیچے خزانہ ہے۔”
چوتھے بوڑھے نے کہا: “تم سب جھوٹ بول رہے ہو۔ جھوٹ سے کوئی فائدہ نہیں۔”
اس نے کہا: “میں جاؤں گا اور سچ کہوں گا۔ میں کہوں گا کہ یہ درخت ہماری یاد ہے۔ ہم اس کے نیچے بچپن میں کھیلے، جوانی میں بیٹھے، بڑھاپے میں آرام کیا۔ یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔”
دوسرے بوڑھے ہنسے۔ “سچ کون سنے گا؟ لوگ سچ سے تنگ آ چکے ہیں۔”
لیکن چوتھا بوڑھا گاؤں میں گیا۔ اس نے لوگوں سے کہا: “یہ درخت ہماری یاد ہے۔ اسے مت کاٹو۔”
لوگوں نے کہا: “بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ درخت کو یادوں سے کیا مطلب؟”
انہوں نے درخت کاٹنا شروع کر دیا۔
پہلا بوڑھا اٹھا۔ وہ درخت کے پاس گیا اور زور سے چلایا: “رکو! میں نے اس درخت میں دیوی دیکھی ہے۔ اگر تم نے اسے کاٹا تو دیوی غصہ ہو جائے گی۔”
لوگ ڈر گئے۔ کچھ رک گئے۔ لیکن کچھ بولے: “یہ بوڑھا جھوٹ بول رہا ہے۔”
دوسرا بوڑھا آیا۔ اس نے کہا: “اس درخت میں دوائی ہے۔ اس کے پتے بیماریاں ٹھیک کرتے ہیں۔ اگر تم نے کاٹ دیا تو سب بیمار پڑ جائیں گے۔”
لوگ سوچ میں پڑ گئے۔ کچھ نے کہا: “ہو سکتا ہے سچ ہو۔”
تیسرا بوڑھا آیا۔ اس نے کہا: “اس درخت کے نیچے خزانہ ہے۔ میں نے خواب دیکھا ہے۔ اگر درخت کٹ گیا تو خزانہ کھو جائے گا۔”
اب لوگ پریشان ہو گئے۔ وہ نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ کیا کریں۔
چوتھا بوڑھا پھر آیا۔ اس نے کہا: “میں نے سچ کہا تھا، کسی نے نہیں سنا۔ اب جھوٹ بول رہے ہیں، تم سن رہے ہو۔ تمہیں کیا چاہیے؟ سچ یا جھوٹ؟”
لوگ خاموش رہے۔
بوڑھے نے کہا: “یہ درخت ہماری یاد ہے۔ ہم چاروں اس کے نیچے بڑے ہوئے۔ یہی سچ ہے۔ باقی سب جھوٹ ہے۔ اگر تم جھوٹ سن کر رک گئے تو تم جھوٹے ہو۔ اگر سچ سن کر بھی کاٹو گے تو ظالم ہو۔”
لوگ شرمندہ ہو گئے۔ انہوں نے درخت نہیں کاٹا۔
کچھ دن بعد پہلا بوڑھا مر گیا۔ مرتے وقت اس نے کہا: “میں نے جھوٹ بولا، لیکن جھوٹ سے درخت بچ گیا۔ شاید جھوٹ بھی کبھی بھلائی کر سکتا ہے۔”
دوسرا بوڑھا مرا تو بولا: “میں نے بھی جھوٹ بولا۔ لیکن جھوٹ بول کر میں نے سچ کی مدد کی۔”
تیسرا بوڑھا مرا تو بولا: “ہمارے جھوٹ نے سچ کو بچا لیا۔ شاید جھوٹ بھی کبھی سچ کا روپ دھار سکتا ہے۔”
چوتھا بوڑھا سب سے آخر میں مرا۔ اس نے کہا: “میں نے سچ بولا، لیکن میرا سچ کسی نے نہیں سنا۔ میرے دوستوں نے جھوٹ بولا، اور ان کا جھوٹ سچ بن گیا۔ اب میں سمجھ گیا ہوں کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ کی لکیر بہت پتلی ہے۔ مقصد دیکھو، ذریعہ نہیں۔”
وہ مر گیا۔ درخت آج بھی کھڑا ہے۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی سچ اور جھوٹ کی سادہ سی تعریف کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کبھی کبھی سچ بے اثر ہوتا ہے، اور جھوٹ بھلائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جھوٹ کبھی بھی حقیقی سکون نہیں دیتا۔ چاروں بوڑھے جانتے تھے کہ انہوں نے جھوٹ بولا، اور مرتے وقت انہیں اس کا احساس تھا۔ درخت بچ گیا، لیکن ان کے دلوں میں بوجھ رہ گیا۔
حوالہ:
یہ کہانی ہندوستانی لوک ادب کا حصہ ہے اور مختلف زبانوں میں مختلف ناموں سے ملتی ہے۔ کہیں اسے “چار بوڑھے” تو کہیں “درخت اور سچ” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی پنچ تنتر کے طرز پر لکھی گئی ہے جہاں ہر کہانی کے آخر میں کوئی نہ کوئی اخلاقی یا عملی سبق دیا جاتا ہے۔ اس کہانی کا خاصہ یہ ہے کہ یہ سچ اور جھوٹ کی روایتی تعریف سے ہٹ کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
