ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے
جو حد سے زیادہ سست تھے ۔
وہ کوئی کام دھندا نہیں کرتے تھے
اور دن بھر بس آرام کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے تھے ۔
ایک دن وہ چاروں ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے،
اور ان کے پاس بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔
اچانک ایک پکا ہوا آم درخت سے گرا
اور ان میں سے ایک دوست کے سینے پر آ کر رک گیا ۔
پہلا دوست سستی سے بولا :
“یار… کوئی یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو ۔”
دوسرا دوست، جو اس سے بھی زیادہ سست تھا ، غصے سے بولا :
“تم بھی کتنے خود غرض ہو!
دیکھ نہیں رہے ایک کتا پچھلے دس منٹ سے میرا منہ چاٹ رہا ہے
اور میں نے اسے ہٹانے کے لیے ہاتھ تک ن
ہیں ہلایا ،
اور تمہیں آم کھانے کی پڑی ہے؟!”
تیسرا دوست ان دونوں کی بحث سن کر بولا :
“تم دونوں بہت بولتے ہو ،
میری تو بولنے سے بھی جان جاتی ہے ۔”
اتنے میں وہاں سے ایک گھڑ سوار گزرا۔
چوتھے دوست نے اسے آواز دی :
“اے بھائی! ذرا گھوڑے سے نیچے اترو
اور یہ آم میرے دوست کے منہ میں ڈال دو ۔”
گھڑ سوار ان کی سستی دیکھ کر حیران رہ گیا
اور غصے سے بولا :
“تم لوگ انسان ہو یا سستی کی دکان؟
اتنے سست ہو کہ اپنے ہاتھ سے آم بھی نہیں کھا سکتے؟
میں تمہارا نوکر نہیں ہوں! “
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔
جب وہ چلا گیا تو پہلا دوست افسوس سے بولا :
“دیکھا! دنیا میں کتنے بے رحم لوگ رہتے ہیں
کسی کو دوسرے کی مدد کرنے کی توفیق ہی نہیں ۔”
اور پھر چاروں دوبارہ سو گئے۔
نتیجہ (Moral):
سستی انسان کو ناکارہ بنا دیتی ہے ۔
سست انسان ہمیشہ دوسروں پر بوجھ بنتا ہے
اور اپنی سستی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔
#fypシ゚viralシ #fypviralシ
