بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت پر ایک نیک دل، بہادر اور انصاف پسند راجا حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اپنے راجا سے بہت خوش تھی، کیونکہ اس کے دور میں ہر طرف امن، خوشحالی اور انصاف کا بول بالا تھا۔
راجا کے چار بیٹے تھے۔ وہ عمر رسیدہ ہو چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بعد تخت پر وہی بیٹا بیٹھے جو واقعی ایک اچھا حکمران بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ایک دن راجا نے چاروں راجکماروں کو دربار میں بلایا اور کہا:
“میرے بچو! میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے جانشین کا انتخاب کروں۔ لیکن میں یہ فیصلہ عمر یا پیدائش کی بنیاد پر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو سب سے زیادہ سمجھدار، سچا اور قابل ثابت ہوگا، وہی اس سلطنت کا اگلا راجا بنے گا۔”
چاروں راجکمار حیرت سے اپنے والد کی طرف دیکھنے لگے۔
راجا نے چاروں کو ایک ایک مہر بند لفافہ دیتے ہوئے کہا:
“ان لفافوں میں تمہارے امتحان کا حکم لکھا ہے۔ تمہیں اپنی اپنی سمت میں جانا ہوگا اور وہ چیز لے کر واپس آنا ہوگی جس کا ذکر لفافے میں کیا گیا ہے۔ یاد رکھنا، کامیابی صرف چیز لے آنے کا نام نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ تم نے اپنا کام کس طرح انجام دیا۔”
اگلے دن چاروں راجکمار اپنے اپنے محافظوں کے ساتھ چار مختلف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔
کئی دن گزر گئے۔ آخرکار وہ مقررہ دن آ پہنچا۔
دربار لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ سب بے چینی سے راجکماروں کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔
سب سے پہلے سب سے چھوٹا راجکمار دربار میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سنہری ہرن کا بچہ تھا۔
وہ فخر سے آگے بڑھا اور ہرن کو راجا کے قدموں میں رکھ دیا۔
دربار خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔
کچھ دیر بعد دوسرا راجکمار بھی واپس آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں شفاف شیشے کا ایک خوبصورت برتن تھا، جس میں سات رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔
اس نے بھی فخر سے وہ برتن راجا کے سامنے رکھ دیا اور اپنے بھائی کے برابر جا کھڑا ہوا۔
اب سب کی نظریں تیسرے راجکمار پر تھیں۔
کافی دیر بعد وہ بھی دربار میں پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ایک سفید رنگ کا ننھا بھالو تھا، جس کے نرم بال برف کی طرح چمک رہے تھے۔
دربار میں ایک بار پھر خوشی کی آوازیں بلند ہوئیں۔
تینوں راجکمار اپنے اپنے تحفوں کے ساتھ فخر سے کھڑے تھے۔
لیکن سب سے بڑے راجکمار کا کہیں پتا نہ تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
دربار ختم ہونے کا وقت قریب آ گیا، مگر وہ واپس نہ آیا۔
آخرکار دروازے پر ایک شخص دکھائی دیا۔
وہ سب سے بڑا راجکمار تھا۔
لیکن اس کے ہاتھ بالکل خالی تھے۔
دربار میں پھیلی خوشی اچانک خاموشی میں بدل گئی۔
راجکمار نے سر جھکا کر اپنے والد کے سامنے کھڑے ہو کر کہا:
“ابا حضور! میں آپ کا حکم پورا نہیں کر سکا۔”
دربار میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
لوگ حیران تھے کہ جب باقی تین راجکمار اپنے ساتھ قیمتی اور نایاب چیزیں لے کر آئے ہیں تو سب سے بڑے راجکمار نے خالی ہاتھ واپس آنے کی جرأت کیسے کی؟
راجا خاموشی سے چاروں بیٹوں کو دیکھتا رہا۔
پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھا، چند قدم آگے بڑھا اور مسکراتے ہوئے بولا:
“میرا جانشین منتخب ہو چکا ہے۔”
سب لوگ حیرت سے راجا کی طرف دیکھنے لگے۔
راجا نے اپنا ہاتھ سب سے بڑے راجکمار کی طرف اٹھایا اور کہا:
“میرا بڑا بیٹا ہی اس سلطنت کا اگلا راجا بنے گا!”
پورے دربار میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔
ایک وزیر نے ہمت کرکے پوچھا:
“بادشاہ سلامت! لیکن اس نے تو کچھ بھی نہیں لایا۔ پھر یہ کیسے کامیاب ہو گیا؟”
راجا مسکرایا اور بولا:
“میں نے چاروں بیٹوں کو ایسی چیزیں لانے کا حکم دیا تھا جو حقیقت میں ان کی مقررہ سمت میں موجود ہی نہیں تھیں۔”
دربار پر خاموشی چھا گئی۔
راجا نے تینوں راجکماروں کی طرف دیکھا اور کہا:
“ان تینوں نے اپنی کامیابی ثابت کرنے کے لیے ایسی چیزیں پیش کر دیں جن کا وہاں ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ لیکن میرے بڑے بیٹے نے جھوٹ بولنے یا دھوکا دینے کے بجائے سچ کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے ناکامی قبول کر لی، مگر جھوٹ کا سہارا نہیں لیا۔”
راجا نے اپنے سر سے تاج اتارا اور بڑے راجکمار کے سر پر رکھتے ہوئے کہا:
“یاد رکھو! ایک حکمران کے پاس دولت، طاقت اور ذہانت ہونا کافی نہیں۔ سب سے ضروری چیز ایمانداری ہے۔ جو شخص سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہے، وہی دوسروں کے ساتھ انصاف اور رحم کر سکتا ہے۔”
یہ کہتے ہی پورا دربار نئے راجا کے استقبال کے نعروں سے گونج اٹھا۔
اور یوں ایک سچے راجکمار نے ثابت کر دیا کہ تخت کا اصل حقدار وہ نہیں جو سب سے زیادہ چیزیں حاصل کرے، بلکہ وہ ہے جو مشکل وقت میں بھی سچ کا دامن نہ چھوڑے۔
