چالاک لومڑی اور عقلمند کوا

چالاک لومڑی اور عقلمند کوا



ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ ایک گرم دوپہر وہ کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم رہی تھی۔ اچانک اس نے ایک کوے کو درخت پر بیٹھے دیکھا، جس کی چونچ میں پنیر کا ایک ٹکڑا تھا۔

لومڑی پنیر حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ کوا اسے آسانی سے نہیں دے گا۔ وہ اس کی خوشامد کرنے لگی اور بولی، “پیارے کوے، سب تمہاری خوبصورتی کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ تمہاری آواز بھی بہت خوبصورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ تمہیں گاتے ہوئے سنوں۔”

کوا فخر محسوس کرنے لگا اور اپنی آواز دکھانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن چونچ کھولنے سے پہلے اسے اپنی ماں کی نصیحت یاد آ گئی: “کبھی بھی اس شخص پر بھروسہ نہ کرو جو بغیر کسی وجہ کے تمہاری تعریف کرے۔”

اس نے پنیر کو اپنے پنجوں میں مضبوطی سے پکڑ لیا اور درخت سے ایک چھوٹا سا سوکھا پتہ نیچے گرا دیا۔ لومڑی فوراً یہ سوچ کر آگے لپکی کہ پنیر گر گیا ہے۔ جب اسے چال کا پتہ چلا تو کوا ہنس کر بولا، “تمہاری چالاکی ناکام ہو گئی کیونکہ میں نے اپنی عقل استعمال کی۔”

لومڑی شرمندہ ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ کوے نے اپنا پنیر قریب موجود کچھ بھوکے چھوٹے پرندوں کے ساتھ بانٹ دیا۔ اس دن کے بعد سے کوا ہوشیار رہا اور جب بھی ہو سکا دوسروں کی مدد کرتارہا۔

*سبق: عقلمندی چالاکی سے بہتر ہے اور مہربانی خود غرضی سے زیادہ قیمتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner