جنگل میں اگر کسی جانور کی سب سے کم عزت تھی، تو وہ گدھا تھا۔
جہاں سے گزرتا، کوئی نہ کوئی اس کی آواز کا مذاق اڑا دیتا، کوئی اس کی چال پر ہنس دیتا۔ رفتہ رفتہ گدھے کے دل میں ایک عجیب سی بھوک پیدا ہو گئی، عزت کی بھوک۔
وہ اکثر جنگل کے طاقتور اور مشہور جانوروں کو دیکھتا اور دل ہی دل میں سوچتا:
“آخر ان میں ایسی کیا بات ہے جو سب ان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں؟”
انہی دنوں جنگل کی سب سے چالاک مخلوق، وزیراعظم لومڑی، پورے جنگل پر اپنے اثر و رسوخ کا جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ شیر بادشاہ تھا ضرور، مگر جنگل کے اکثر فیصلے لومڑی کی چالاکی سے ہی چلتے تھے۔ وہ ہر جانور کو اس کی کمزوری کے مطابق استعمال کرنا جانتی تھی۔
گدھے نے ایک دن فیصلہ کیا:
“اگر میں لومڑی کے قریب ہو جاؤں، تو لوگ خود بخود میری عزت کرنے لگیں گے”
بس پھر کیا تھا۔
گدھا ہر وقت لومڑی کے آگے پیچھے گھومنے لگا۔ کبھی اس کے لیے پانی لاتا، کبھی اس کی تعریفیں کرتا، کبھی جنگل بھر میں اس کی ذہانت کے قصے سناتا۔ لومڑی اندر ہی اندر خوب لطف اٹھاتی، کیونکہ اسے ایک ایسا جانور مل گیا تھا جو عقل کم اور خوشامد زیادہ کرتا تھا۔
لومڑی نے کبھی اسے اپنا دوست نہیں سمجھا، مگر اپنے فائدے کے لیے اسے اپنے ساتھ رکھ لیا۔ جب بھی جنگل میں کوئی اعلان کرنا ہوتا، گدھے کو آگے کر دیتی۔ جب کسی جانور تک کوئی پیغام پہنچانا ہوتا، گدھا دوڑتا پھرتا۔ اور بدلے میں لومڑی ہر چند دن بعد اس کی تھوڑی سی تعریف کر دیتی:
“واہ گدھے صاحب! آپ تو بڑے وفادار ہیں”
یا کبھی کہہ دیتی:
“جنگل میں آپ جیسا مخلص اور اعلیٰ جانوار کوئی نہیں”
بس یہی دو چار جملے گدھے کے لیے ایسے تھے جیسے کسی فقیر کو خزانہ مل گیا ہو۔ وہ اگلے کئی مہینوں تک پورے جنگل میں گھوم گھوم کر لوگوں کو بتاتا:
“وزیراعظم صاحبہ نے خود میری تعریف کی ہے!”
جنگل میں جب بھی کوئی نئی خبر پھیلتی، گدھا سب سے پہلے اپنا منہ دھو کر درخت کے نیچے بیٹھ جاتا اور اپنے “ٹوئٹر” یعنی جنگل کے مشہور “چغلی چبوترے” پر کوئی نہ کوئی لمبی چوڑی بات لکھ دیتا۔
کبھی لکھتا:
“آج وزیرِاعظم لومڑی نے مجھے دیکھ کر مسکرایا، لگتا ہے جنگل اب ترقی کرے گا!”
کبھی لکھتا:
“بڑے لوگ صرف بڑے دل والوں سے ملتے ہیں، باقی جانور صرف گھاس کھاتے رہ جائیں!”
اور کبھی بغیر مطلب کے صرف یہ لکھ دیتا:
“خاموش رہنے والوں کو تاریخ کبھی یاد نہیں رکھتی!”
حالانکہ جنگل کے آدھے جانور یہ سمجھنے کی کوشش میں ہی بوڑھے ہو گئے تھے کہ گدھا آخر کہنا کیا چاہتا ہے۔
اصل کھیل تب شروع ہوتا جب لومڑی، جو خود کو بہت چالاک سمجھتی تھی، فارغ وقت میں گدھے کی کسی بات کو “ری ٹویٹ” کر دیتی۔
بس پھر کیا تھا۔
جس دن لومڑی نے اس کی بات آگے بڑھا دی، اس دن گدھا خوشی سے ایسے اچھلتا جیسے کسی نے خشک گھاس کے ڈھیر میں پٹاخے پھینک دیے ہوں۔
وہ فوراً جنگل کے نیوز چینلز پر پہنچ جاتا۔
طوطا اینکر پوچھتا: “آپ اس تاریخی ری ٹویٹ پر کیا کہیں گے؟”
گدھا گردن اکڑا کر کہتا: “یہ معمولی بات نہیں۔ بڑے لوگ ہر کسی کی بات آگے نہیں بڑھاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ میری سوچ اب ایوانوں تک پہنچ چکی ہے!”
پھر اگلے کئی ہفتوں تک وہ ہر جانور کو خود روک روک کر بتاتا:
“دیکھا؟ وزیرِاعظم نے میری بات کو اہمیت دی ہے!”
“میری پوسٹ پورے جنگل میں وائرل ہوئی ہے!”
“اب میری آواز دبائی نہیں جا سکتی!”
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ جنگل کے جانور اس کی باتیں سن کر ہنستے تھے۔
کچھ کہتے:
“یہ وہی گدھا ہے نا جو کل اپنے سائے سے ڈر گیا تھا؟”
اور کچھ ہنس کر بولتے:
“لومڑی اسے استعمال کر رہی ہے، اور یہ سمجھ رہا ہے کہ اسے عزت مل رہی ہے!”
لیکن گدھے کو یقین تھا کہ اب وہ جنگل کی بڑی شخصیات میں شامل ہو چکا ہے۔
وہ جب راستے سے گزرتا تو خود ہی سینہ پھلا کر چلتا، جیسے پورا جنگل اس کی ذہانت کے قصے لکھ رہا ہو، جبکہ حقیقت میں جانور صرف اس کی حماقتوں کے لطیفے سناتے تھے۔
اور جنگل کے بزرگ اکثر یہ کہتے:
“بےوقوف جانور کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ دوسرے اس پر ہنستے ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ وہ ان ہنسیوں کو اپنی عزت سمجھ بیٹھتا ہے۔”
ادھر باقی جانور محنت کر رہے تھے۔ کوئی کھیت جوت رہا تھا، کوئی شکار کر رہا تھا، کوئی اپنے بچوں کے لیے رزق اکٹھا کر رہا تھا۔ مگر گدھا صرف عزت “دکھانے” میں لگا ہوا تھا، عزت “کمانے” میں نہیں۔
ایک دن اس کا پرانا دوست گھوڑا اسے ملا۔ گھوڑا محنتی بھی تھا اور سمجھدار بھی۔ اس نے گدھے کو لومڑی کے پیچھے پیچھے گھومتے دیکھا تو افسوس سے بولا:
“یار، تم یہ کیا کر رہے ہو؟”
گدھے نے فخر سے گردن اونچی کی:
“میں اب وزیراعظم کے خاص لوگوں میں شامل ہوں”
گھوڑا ہنس پڑا۔
“خاص؟ تمہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔ عزت کسی کے پیچھے گھومنے سے نہیں ملتی، اپنے کردار سے ملتی ہے”
گدھا فوراً غصے میں آ گیا۔
“تم مجھ سے جلتے ہو!”
گھوڑے نے سمجھانے کی کوشش کی:
“دیکھو، لومڑی چالاک ہے۔ وہ تمہیں صرف اپنا چہرہ بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ عزت وہ ہوتی ہے جو انسان کے عمل سے پیدا ہو، نہ کہ کسی طاقتور کے قریب کھڑے ہونے سے”
مگر گدھا سننے کے بجائے چیخنے لگا۔ بات بڑھتے بڑھتے جھگڑے تک جا پہنچی، اور آخرکار معاملہ شیر بادشاہ کے دربار میں پیش ہوا۔
پورا جنگل جمع تھا۔
شیر نے دونوں کی بات بڑے غور سے سنی۔ گھوڑے نے سکون سے ساری حقیقت بیان کر دی، جبکہ گدھا بار بار یہی کہتا رہا:
“یہ میری بے عزتی کرتا ہے، یہ وزیراعظم کی توہین کرتا ہے۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر اچانک شیر نے فیصلہ سنایا:
“گھوڑے کو دس سال قید کی سزا دی جاتی ہے”
پورا دربار حیران رہ گیا۔
گدھا خوشی سے اچھلنے لگا۔ وہ ناچ ناچ کر سب کو دیکھ رہا تھا، جیسے کوئی بہت بڑی جنگ جیت گیا ہو۔
مگر گھوڑا خاموش کھڑا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“حضور، آپ بھی جانتے ہیں کہ میں سچ کہہ رہا تھا، پھر سزا مجھے کیوں؟”
شیر نے تخت سے ٹیک لگائی، ایک گہری سانس لی اور بولا:
“سزا تمہیں سچ بولنے پر نہیں ملی”
“سزا تمہیں اس بات پر ملی ہے کہ تم نے ایک بےوقوف سے بحث جو کی ہے ”
گھوڑے نے سر جھکا لیا۔
اور گدھا
وہ اب بھی خوشی سے ناچ رہا تھا۔
کیونکہ بعض اوقات بےوقوف کو یہ تک سمجھ نہیں آتا کہ اصل میں سزا کس کو ملی ہے۔
اخلاقی سبق
یہ کہانی صرف جنگل کے ایک گدھے کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے اُن لوگوں کی تصویر ہے جو عزت “حاصل” کرنے کے بجائے عزت کا “ڈھونگ” رچاتے رہتے ہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی طاقتور شخص کے قریب کھڑے ہو جانے، اس کی تعریفیں کرنے، اس کے ساتھ تصویر لینے سے یا اس کے ایک اشارے کو اپنی کامیابی سمجھ لینے سے وہ بڑے بن جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وقتی توجہ اور حقیقی عزت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
حقیقی عزت انسان کے کردار، علم، محنت اور اخلاق سے پیدا ہوتی ہے،
خوشامد، شور اور دکھاوے سے نہیں۔
یہ کہانی یہ بھی سکھاتی ہے کہ:
بےوقوف انسان اکثر اپنی سب سے بڑی ذلت کو بھی عزت سمجھ بیٹھتا ہے۔
جو لوگ صرف تعریف سننے کے عادی ہو جائیں، وہ سچ بولنے والوں کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔
اور عقل مند انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہر بحث میں نہیں پڑتا، کیونکہ کچھ لوگ دلیل سمجھنے نہیں، صرف شور مچانے کے لیے جیتے ہیں۔
شیر کی آخری بات پوری کہانی کا نچوڑ تھی:
“ہر لڑائی لڑنے کے قابل نہیں ہوتی، کیونکہ بعض اوقات بےوقوف سے بحث کرنا خود اپنی عقل کی توہین بن جاتا ہے۔”
اس دنیا میں سب سے خطرناک چیز جہالت نہیں،
بلکہ وہ جہالت ہے جو خود کو عقل سمجھنے لگے۔
