چکور کی گواہی

چکور کی گواہی

نقل ہے کہ ایک ڈاکو آدمی ایک امیر کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا، اس دسترخوان پر بھنے ہوئے دو چکور رکھے تھے۔ ڈاکو نے ایک چکور اٹھا کر ہنسا۔ امیر نے اس سے ہنسنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:
“میں نے ایک مرتبہ ایک تاجر پر ڈاکہ ڈالا، جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے مجھ سے گریہ و زاری کی لیکن میں نے اسے قبول نہ کیا۔ جب اس نے مجھ سے پختگی اور ہٹ دھرمی دیکھی تو دوسری طرف متوجہ ہوا اور ایک پہاڑ پر دو چکور دیکھے، اب اس نے ان دونوں سے کہا کہ تم دونوں میرے گواہ رہو کہ یہ مجھے ظلم سے قتل کرتا ہے۔ پھر میں نے اسے مار ڈالا۔ اس وقت میں نے ان دونوں چکوروں کو دیکھا تو اس تاجر کی وہ حماقت مجھے یاد آئی جو اس نے ان دونوں پرندوں کو مجھ پر گواہ بنایا تھا، اس وجہ سے میں ہنسا۔”
جب امیر نے یہ سنا تو کہا: “بخدا! ان پرندوں نے تیرے خلاف ایسے شخص کے پاس شہادت دی جو قصاص لیتا ہے۔” چنانچہ امیر نے حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔

فَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ

(قليوبي)

بیان کرتے ہیں کہ ضرب الامثال اور اقوالِ مشہورہ میں کہا جاتا ہے:

شُرَيْحٌ أَحْيَلُ مِنَ الثَّعْلَبِ

شریح لومڑی سے زیادہ حیلہ باز ہیں۔ اور اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ شریح رحمہ اللہ عبادت کے لیے میدان میں جاتے تھے، جب وہ نماز شروع کرتے تو لومڑی ان کے سامنے آتی اور انہیں نماز سے باز رکھتی۔ جب یہ پریشان ہو گئے تو انہوں نے اپنے کپڑے لکڑیوں پر اس طرح رکھے کہ گویا کھڑے آدمی کی صورت ہو، اس کے بعد لومڑی آئی تاکہ اپنی عادت کے موافق انہیں نماز سے باز رکھے۔ شریح رحمہ اللہ اس کے پیچھے سے آئے اور دفعتاً اسے پکڑ کر مار ڈالا۔ پس یہ ایک مثل بن گئی۔ (ایضاً)

*میری زندگی کا سب سے عجیب و غریب واقعہ*

علامہ واقدی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے قبیلہ جُرہُم کے ایک شخص سے فرمایا:
“اگر تم نے اپنی زندگی میں کوئی عجیب و غریب بات دیکھی ہو تو اس کے متعلق کچھ بتاؤ۔”
اس نے اپنا عجیب و غریب واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا:
“ایک مرتبہ میں ایک وادی میں گیا تو دیکھا کہ لوگ بنی عُذرہ کے حرب نامی ایک شخص کا جنازہ لیے جا رہے تھے، میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔ جب اسے قبر میں اتارا گیا تو میں لوگوں سے ایک طرف ہو گیا۔ مجھے اس شخص کی موت پر خودبخود نہ جانے کیوں رونا آ رہا تھا، میری آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھا۔ مجھے کسی شاعر کے چند اشعار عرصۂ دراز سے یاد تھے لیکن شاعر کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ اس شخص کی موت سے مجھ پر غم طاری تھا، چنانچہ میں یہ اشعار پڑھنے لگا جن کا مفہوم یہ ہے:

(۱) میں نے اللہ تعالیٰ سے اچھے نصیب کی بھیک مانگی اور میں اس کی عطا پر راضی ہوں، جب بار بار آسانیاں ملتی ہیں تو تنگی بھی قریب ہے۔
(۲) انسان جب دنیا میں ہوتا ہے تو خوشحال اور قابلِ رشک ہوتا ہے، جب قبر میں پہنچ جاتا ہے تو زمانے کی تند و تیز ہوائیں اسے زمین میں چھپا دیتی ہیں۔
(۳) (موت کے بعد) اس کی قبر پر ایک مسافر تو آنسو بہاتا ہے حالانکہ وہ اسے جانتا بھی نہیں، لیکن مرنے والے کے عزیز و اقارب اس کی موت پر خوش نظر آتے ہیں۔

راوی کہتے ہیں: “میں انہی اشعار کا تکرار کر رہا تھا جب میرے قریب کھڑے ایک شخص نے یہ اشعار سن کر کہا: ‘اے اللہ کے بندے! کیا تجھے معلوم ہے کہ یہ کس کے اشعار ہیں؟'”
میں نے کہا: “خدا کی قسم! یہ اشعار مجھے عرصۂ دراز سے یاد ہیں لیکن یہ نہیں جانتا کہ یہ کس شاعر کے ہیں؟”
یہ سن کر اس شخص نے ایک عجیب و غریب انکشاف کرتے ہوئے کہا: “اے مسافر! اس ذات کی قسم جس کی تو نے قسم کھائی ہے! بے شک یہ اشعار ہمارے اسی رفیق نے کہے تھے جسے ہم نے تمہارے سامنے ابھی ابھی قبر میں اتارا ہے۔”
پھر اس نے چند لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “وہ اس کے قریبی رشتہ دار ہیں جو اس کی موت پر مسرور ہیں اور تم ایک مسافر ہو لیکن پھر بھی آنسو بہا رہے ہو۔ آج بالکل ایسا ہی ہو گیا جیسا اس نے اشعار کی صورت میں بیان کیا۔”
مجھے اس عجیب و غریب بات سے بڑا تعجب ہوا، ایسا لگتا ہے جیسے شاعر کو اپنی موت کے بعد کا علم ہو گیا تھا کہ میرے ساتھ یہ سلوک کیا جائے گا۔”
(پھر اس شخص نے کہا:) “اے امیر المومنین! یہ واقعہ میری زندگی کا سب سے عجیب و غریب واقعہ ہے۔”
(عیونُ الحکایات)

Leave a Reply

NZ's Corner