کانٹے دار چوہا

کانٹے دار چوہا

زمانۂ قدیم کی بات ہے۔ ایک مال دار تاجر اپنے کاروباری سفر پر نکلا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھنے اور پُراسرار جنگل میں راستہ بھول بیٹھا۔ دن گزرتے گئے، سورج طلوع ہوتا اور ڈوب جاتا، مگر منزل کا سراغ نہ ملتا۔ پانچ دن اور پانچ راتیں وہ جنگل کی بھول بھلیوں میں مارا مارا پھرتا رہا۔
آخرکار مایوسی کے عالم میں اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارا:
“اے خدا کے بندو! جو کوئی مجھے اس جنگل سے نکلنے کا راستہ دکھا دے، میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا!”
ابھی اس کی آواز درختوں کے سائے میں گونج ہی رہی تھی کہ اچانک زمین کے قریب سے ایک باریک سی آواز سنائی دی:
“میں تمہیں راستہ دکھاؤں گا!”
تاجر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے! ایک ننھا سا کانٹے دار چوہا اس کے سامنے کھڑا تھا۔
تاجر دل ہی دل میں گھبرایا، مگر وعدہ تو وعدہ تھا۔ چوہے نے اسے جنگل سے نکلنے کا صحیح راستہ بتا دیا اور تاجر بخیریت اپنے گھر پہنچ گیا۔
کچھ دن بعد کانٹے دار چوہا اپنا حق لینے آ پہنچا۔
تاجر کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے اپنی بڑی بیٹی کو بلا کر ساری بات سنائی۔ مگر وہ ناک بھوں چڑھا کر بولی:
“میں ایک چوہے سے شادی؟ کبھی نہیں!”
پھر اس نے اپنی چھوٹی بیٹی کو بلایا۔ وہ نہایت نرم دل اور سمجھ دار لڑکی تھی۔ اس نے باپ کی پریشانی دیکھی اور سکون سے بولی:
“ابا جان! اگر آپ نے وعدہ کیا ہے تو وعدہ نبھانا چاہیے۔ میں راضی ہوں۔”
یوں شادی کی تیاریاں ہوئیں اور ایک عجیب و غریب بارات نکلی۔
دولہا کانٹے دار چوہا تھا، اور وہ بھی کسی شاہی گھوڑے پر نہیں بلکہ ایک سرخ کلغی والے مرغے کی پشت پر سوار!
لوگ حیرت سے آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھتے رہے۔
جب دلہن اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئی تو راستے میں مسکرا کر بولی:
“میرے سرتاج! آپ مرغے پر سوار کیوں ہیں؟”
کانٹے دار چوہے نے آہ بھری اور کہا:
“کیونکہ میں ایک جادو کے شکنجے میں قید ہوں۔ ایک طلسم نے مجھے اس روپ میں جکڑ رکھا ہے۔”
لڑکی نے محبت اور یقین سے جواب دیا:
“آپ میرے شوہر ہیں۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔ چاہے آپ کانٹے دار چوہے ہوں یا دنیا کے سب سے بڑے شہزادے، میری عزت اور محبت آپ ہی کے لیے ہے۔”
یہ الفاظ گویا جادو کی کنجی ثابت ہوئے۔
اچانک فضا میں ایک عجیب سی روشنی پھیل گئی۔ چوہے کے کانٹے جھڑنے لگے، اس کا وجود بدلنے لگا، اور پلک جھپکتے ہی وہاں ایک حسین و جمیل شہزادہ کھڑا تھا۔
ادھر مرغا بھی بدل گیا اور ایک سنہری ایال والے شاندار گھوڑے میں تبدیل ہو گیا۔
طلسم ٹوٹ چکا تھا۔
شہزادے نے خوشی سے اپنی دلہن کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے محل لے گیا، جہاں دونوں ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔
مگر دوسری طرف بڑی بہن، جس نے غرور اور ظاہربینی کی وجہ سے اس رشتے کو ٹھکرا دیا تھا، جب یہ خبر سنی تو حسد کی آگ میں جل اٹھی۔ اپنی قسمت کو کوستی رہی اور بالآخر اسی جلن میں پاگل ہو کر ایک کنویں میں کود گئی۔
یوں اس کا انجام عبرت کا نشان بن گیا۔
سبق
زندگی میں ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر بے وقعت نظر آنے والی شے حقیقت میں حقیر ہوتی ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کا کردار اور دل ہوتا ہے، چہرہ یا ظاہری شکل نہیں۔
کیا خبر، جسے دنیا کانٹے دار چوہا سمجھ رہی ہو، وہ دراصل ایک مسحور شہزادہ نکلے۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner