ایک رات ملا نصر الدین اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہے تھے کہ اچانک باہر گلی میں دو آدمیوں کے لڑنے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں۔ سردی کا موسم تھا، اس لیے ملا نے اپنے اوپر ایک گرم کمبل اوڑھا ہوا تھا۔
جب لڑائی کی آوازیں بند نہ ہوئیں، تو ملا نصر الدین سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنا وہی کمبل اپنے گرد لپیٹا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔
ملا جیسے ہی گلی میں پہنچے، وہاں لڑنے والے دونوں آدمیوں کی نظر ملا کے قیمتی اور گرم کمبل پر پڑی۔ اس سے پہلے کہ ملا ان سے لڑائی کی وجہ پوچھتے، ان میں سے ایک آدمی نے بجلی کی تیزی سے ملا کا کمبل کھینچا اور دونوں چور اندھیرے میں بھاگ گئے۔ اصل میں وہ کوئی سچے لڑاکا نہیں بلکہ چور تھے جنہوں نے ملا کو باہر نکالنے کا یہ ڈرامہ رچایا تھا۔
ملا نصر الدین سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے خالی ہاتھ گھر واپس آ گئے۔
ان کی بیوی جاگ رہی تھی، اس نے پوچھا: “ملا جی! باہر گلی میں اتنی رات کو کس بات پر لڑائی ہو رہی تھی؟”
ملا نصر الدین نے سکون سے جواب دیا: “بیگم! پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں، وہ لڑائی صرف ہمارے کمبل کے لیے تھی۔ جیسے ہی انہیں کمبل ملا، لڑائی ختم ہو گئی اور وہ اپنے اپنے گھر چلے گئے!”
نتیجہ (Moral):
بسا اوقات انسان دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ ٹانگ اڑا کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتا ہے۔
