کمبل، گائے اور درخت

کمبل، گائے اور درخت

ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ بڑا بیٹا بہت چالاک تھا جب کہ چھوٹا معصوم اور کم عقل تھا۔کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک کمبل تھا۔بوڑھے کسان کے انتقال کے بعد بڑے بھائی  نے چھوٹے سے کہا:”ہم یہ سب کچھ آدھا آدھا بانٹ لیتے ہیں۔
دیکھو، اس گائے کا پچھلا حصہ میں لے لیتا ہوں اور اس کا اگلا حصہ تم لے لو۔ چھوٹا بے وقوف تھا، مان گیا۔
پھر وہ چلے درخت کی طرف۔ بڑئے بھائی نے چالاکی دکھاتے ہوئے چھوٹے سے کہا:”ایسا کرتے ہیں کہ درخت کا نچلا حصہ تم لے لو اور اوپر والا حصہ میں لے لیتا ہوں۔“ چھوٹا بھائی ہر بات پر راضی تھا مان گیا۔
اب بڑے بھائی نے کہا:”چلو! کمبل کو ہم آدھا تو کر نہیں سکتے تو ایسا کرتے ہیں کہ صبح کے وقت کمبل کو تم استعمال کرنا اور رات کے وقت میں لے لوں گا۔
چھوٹا بھائی یہ بھی مان گیا اور  بے چارا ہر وقت گائے کو چارا کھلاتا رہا اور بڑا بھائی اس کا دودھ پی جاتا اور اسی طرح بڑا بھائی درخت کے اوپر چڑھ کر پھل کھاتا رہتا اور چھوٹا بھائی منہ دیکھتا رہتا۔
بڑا بھائی تو رات کو کمبل لے کر مزے سے سو جاتا اور چھوٹا رات کو سردی سے کانپتا رہتا اور کروٹیں بدلتا رہتا۔چند ہفتوں کے بعد اس کا ایک دوست آیا۔اس نے چھوٹے بھائی کو پریشان دیکھا تو وجہ پوچھی تو چھوٹے نے اپنے دوست کو ساری بات بتا دی۔دوست نے اسے ایک مشورہ دیا اور چھوٹا خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔گھر پہنچا تو بڑا بھائی گائے کا دودھ دھو رہا تھا۔اُدھر سے چھوٹے بھائی نے ڈنڈا لیا اور گائے کو مارنا شروع کر دیا۔بڑا بھائی جو پیچھے گائے کا دودھ نکال رہا تھا بے چین ہو کر بولا:”یہ کیا کر رہے ہو، نظر نہیں آ رہا دودھ نکال رہا ہوں۔“
چھوٹے بھائی نے جواب دیا:”اگلا حصہ میرا ہے میں جو چاہوں کروں۔
“ بڑا بھائی پریشانی کی حالت میں وہاں سے چلا گیا۔پھر کچھ دیر بعد بڑا بھائی درخت سے پھل اُتارنے لگا تو چھوٹا بھائی فوراً کلہاڑے سے درخت کاٹنے لگا۔بڑے نے منع کیا تو چھوٹے نے کہا:”درخت کا نچلا حصہ میرا ہے میں جو مرضی کروں۔“ بڑے کے پاس اب کوئی چارا نہیں تھا اس لئے خاموشی سے چلا گیا۔اب شام ہونے کو تھی، شام سے پہلے چھوٹے نے کمبل کو گیلا کر دیا۔بڑے نے دیکھا تو پریشانی سے کہا:”یہ کیا کر رہے ہو، میں رات کو کیسے سوؤں گا۔

چھوٹا جھٹ سے بولا:”شام سے پہلے کمبل میرا ہے میں اسے دھو رہا ہوں۔رات کو بڑا کمبل کے بغیر سردی سے ٹھٹھرتا رہا۔جب وہ دونوں صبح اُٹھے تو بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے معافی مانگی اور اپنی غلطی تسلیم کر لی اور چھوٹے بھائی سے کہا کہ آج سے ہم سب کچھ مل کر استعمال کریں گے۔ چھوٹے بھائی نے اسے معاف کر دیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے

Leave a Reply

NZ's Corner