ہر نامکمل حل نااہلی کا نتیجہ نہیں ہوتا،

ہر نامکمل حل نااہلی کا نتیجہ نہیں ہوتا،

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں چوہوں کی ایسی بھرمار تھی کہ جیسے گھر نہیں، چوہوں کی سلطنت ہو۔ دن ہو یا رات، کہیں اناج کے ڈبے کترے جا رہے ہوتے، کہیں کپڑے اور کہیں لکڑی کے صندوق۔ کسان نے ہر تدبیر آزما لی، مگر چوہے کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔

آخر ایک دن وہ شہر سے ایک بلی لے آیا۔
بلی جوان، پھرتیلی اور شکار میں ماہر تھی۔
اس کے آتے ہی چوہوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

جو چوہے برسوں سے بے خوف گھومتے تھے، اب بلوں میں چھپنے لگے۔
ہر روز کئی کئی چوہے اس کا شکار بنتے۔

کچھ ہی ہفتوں میں چوہوں کی تعداد اتنی کم ہو گئی کہ لوگ مذاق میں کہتے:

“یہ اب چوہوں کا گھر نہیں، بلی کا محل بن گیا ہے۔”

پڑوس میں ایک اور بلی رہتی تھی۔

وہ ہر شام دیوار پر آ بیٹھتی اور پوچھتی:

“بہن، آج کتنے شکار کیے؟”

کبھی جواب ملتا:

“دس۔”

کبھی:

“پانچ۔”

اور کبھی:

“سات۔”

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ پورے گھر میں صرف ایک ہی چوہا باقی رہ گیا۔

وہ بھی اتنا ہوشیار کہ ہر جال اور ہر حملے سے بچ نکلتا۔

پڑوس والی بلی حسبِ معمول شام کو آئی اور پوچھا:

“آج کتنے شکار کیے؟”

“کوئی نہیں۔”

“اور کل؟”

“کوئی نہیں۔”

“اور پرسوں؟”

“کوئی نہیں۔”

چند دن یہی سلسلہ چلتا رہا۔

آخر ایک دن پڑوس والی بلی بولی:

“اگر تم چاہو تو میں اس آخری چوہے کا شکار کر دوں۔ آخر ایک چوہا ہی تو رہ گیا ہے۔”

بلی مسکرائی۔

“نہیں، اسے رہنے دو۔”

پڑوس والی حیران ہوئی۔

“کیوں؟ تم تو اتنی بڑی شکاری ہو۔ ایک چوہا تم سے نہیں پکڑا جا رہا؟”

بلی نے آہستہ سے کہا:

“پکڑا تو آج بھی جا سکتا ہے۔”

“پھر روکتی کیا چیز ہے؟”

بلی نے گھر کی طرف دیکھا، جہاں کسان نے اس کے لیے دودھ رکھا ہوا تھا، آرام کی جگہ بنائی ہوئی تھی اور سب اس کا خیال رکھتے تھے۔

پھر بولی:

“جس دن یہ آخری چوہا بھی ختم ہو گیا، اسی دن میری ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔”

پڑوس والی بلی خاموش ہو گئی۔

بلی نے بات جاری رکھی:

“لوگ اکثر مسئلے حل نہیں کرتے، صرف اتنا کم کرتے ہیں کہ ان کی ضرورت باقی رہے۔”

یہ کہہ کر وہ اٹھی، دیوار سے نیچے اتری اور اس آخری چوہے کے بل کے سامنے جا کر خاموشی سے لیٹ گئی۔

چوہا اندر تھا، بلی باہر۔

دونوں جانتے تھے کہ ایک دوسرے کا وجود ہی دوسرے کے وجود کی وجہ ہے۔

اور شاید اسی لیے وہ آخری شکار کبھی نہیں ہوا۔

کہتے ہیں، دنیا میں بعض مسئلے اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی اہمیت انہی سے وابستہ ہوتی ہے۔

اخلاقی سبق:

“ہر نامکمل حل نااہلی کا نتیجہ نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ کسی کے مفاد کا محافظ بھی ہوتا ہے۔”


Leave a Reply

NZ's Corner