ایک سلطنت کا بادشاہ بہت عقل مند مشہور تھا۔
وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں سے ایسے سوال پوچھتا جن کا جواب صرف کتابوں میں نہیں، عقل میں چھپا ہوتا تھا۔
ایک دن بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا:
“جو شخص مجھے یہ بتا دے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
کسی نے کہا، “لالچ۔”
کسی نے کہا، “غصہ۔”
کسی نے کہا، “غرور۔”
بادشاہ کسی جواب سے مطمئن نہ ہوا۔
اگلے دن ایک بوڑھا شخص دربار میں حاضر ہوا۔
اس نے کہا:
“بادشاہ سلامت! انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ سمجھنا ہے کہ وہ ہمیشہ درست ہے۔”
بادشاہ نے پوچھا،
“تم ایسا کیوں کہتے ہو؟”
بوڑھے نے جواب دیا:
“کیونکہ جو شخص اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے، وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں غلط فیصلے کر سکتا ہے۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر اس نے اپنے وزیروں کی طرف دیکھا اور کہا:
“آج سے میرے دربار میں سب سے قیمتی شخص وہ نہیں ہوگا جو میری تعریف کرے، بلکہ وہ ہوگا جو میری غلطی مجھے بتانے کی ہمت رکھتا ہو۔”
ایک وزیر نے حیرت سے پوچھا:
“بادشاہ سلامت، اگر کوئی آپ کے فیصلے کو غلط کہے تو؟”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“اگر وہ صحیح ہو تو مجھے اپنی غلطی سے بچا رہا ہے،
اور اگر وہ غلط ہو تو مجھے سچ کی تلاش کا ایک اور موقع دے رہا ہے۔”
پھر بادشاہ نے اعلان کیا:
“انصاف وہ نہیں جو بادشاہ کے حق میں ہو،
انصاف وہ ہے جو بادشاہ کے خلاف بھی ہو تو اسے قبول کیا جائے۔”
اس دن سے اس سلطنت میں لوگ بادشاہ سے ڈرنے کے بجائے اس پر اعتماد کرنے لگے۔
اور برسوں بعد جب بادشاہ دنیا سے رخصت ہوا تو تاریخ میں اس کی سب سے بڑی فتح کسی جنگ کی نہیں لکھی گئی…
بلکہ یہ لکھی گئی:
“وہ ایسا بادشاہ تھا جس نے اپنی سلطنت عقل سے چلائی،
اور اپنی عقل کو غرور سے محفوظ رکھا۔”
