فیس بک نے کچھ خواتین کو ایسا شاعر بنا دیا ھے کہ غالب اور میر بھی قبر میں کروٹیں بدلنے لگیں۔ 😅😆
ایک مُحترمہ نے شعر پوسٹ کیا:
“کاش میں آسمان بن جاؤں…
اور تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ھوئے فوراً چلے آؤ…”
نیچے کمنٹس میں واہ واہ کا سیلاب آ گیا۔ 🌊
ایک عاشق مزاج فین نے لکھا:
“بانو قدسیہ کے بعد اگر کسی نے دل کو چھوا ھے تو وہ آپ ھیں!” 😍🙅♀️
دوسرے نے حد ھی کر دی:
“سویٹ آپی! آپ کے اشعار میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ھے…” 🤭❤️
آپی جذباتی ھو گئیں اور اعلان کر دیا:
“اب ہر ہفتے ایک نئی غزل پیش کیا کروں گی!” 🥰✍️
چند دن بعد آپی نے سوال کیا:
“شاعری کی کتاب چھپوانے کے لیے کون سا پبلشر بہتر رھے گا؟” 🙂📚
ڈیڑھ سو لوگوں نے فوراً مشورے دینا شروع کر دیے۔
لیکن اصل دھماکا تب ھوا جب آپی نے یہ شعر پوسٹ کیا:
“بیچھڑا کچھ اس ادہ سے کے رُتھ ھی بدل گئی
ایک شخس سارے شحر کو ویرآن کر گیا”
😳😕🤦♂️
ایک بندے سے برداشت نہ ھوا، اس نے لکھا:
“اچھا ھوا وہ بچھڑ گیا ورنہ آپ کی اردو پڑھ کر خود ھی بھاگ جاتا!” 🤣
فوراً ایک غیرت مند فین میدان میں کود پڑا:
“سویٹ آپی! حکم کریں تو اس گستاخ کو سبق سکھاؤں؟” 😡🔥
آپی نے بڑے سکون سے جواب دیا:
“نہیں بھائی… ایسے ان پڑھ اور جاہل لوگوں کے منہ نہیں لگتے…” 😌😏
سبق:
فیس بک پر شاعر بننے کے لیے شاعری آنا ضروری نہیں صرف دو چیزیں کافی ھیں:
چند جذباتی فالوورز
اور مضبوط خود اعتمادی 😎😂
ادُھورا شاعر
