آئینہ

آئینہ

ایک قدیم شہر کی تنگ و پیچیدہ گلیوں میں ایک دانا شخص رہتا تھا۔ لوگ اس کے پاس  کا حل ڈھونڈنے آتے، مگر وہ اکثر جواب لفظوں میں نہیں بلکہ حکمت بھری مثالوں میں دیتا تھا۔
ایک دن اس کا ایک دوست نہایت جوش و خروش سے اس کے گھر آیا۔ گفتگو کے دوران دانا شخص نے میز پر رکھا ہوا ایک عجیب سا آئینہ اٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا:
“میں نے ایک ایسا آئینہ خریدا ہے جو انسان کی اصلی شکل دکھاتا ہے۔”
دوست کی آنکھوں میں تجسس چمک اٹھا۔
“واقعی؟ پھر تو مجھے فوراً دکھاؤ!”
دانا شخص نے خاموشی سے آئینہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
دوست نے آئینے میں جھانکا۔ چند لمحے تک خود کو دیکھتا رہا، پھر اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
“کیا خوبصورت چہرہ ہے!” وہ فخر سے بولا۔ “یہ تو یقیناً میرا ہی عکس ہے۔”
دانا شخص ہلکا سا مسکرایا اور بولا:
“نہیں دوست، آئینہ ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ الٹا دکھاتا ہے۔”
دوست چونک گیا۔
“الٹا؟ اس کا کیا مطلب؟”
دانا شخص نے نرمی سے کہا:
“تم نے جو خوبصورتی دیکھی ہے، وہ تمہارے چہرے کی نہیں، تمہارے اندر کے انسان کی ہے۔ یہ آئینہ صورت نہیں، سیرت دکھاتا ہے۔”
یہ سننا تھا کہ دوست کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
اسے محسوس ہوا جیسے اس کے غرور پر کسی نے چوٹ لگا دی ہو۔
“یہ مذاق ہے!” وہ غصے سے بولا اور دروازہ زور سے بند کرکے چلا گیا۔
دو دن گزر گئے۔
دانا شخص اپنے صحن میں بیٹھا شام کے دھندلکے کو دیکھ رہا تھا کہ وہی دوست دوبارہ آ پہنچا۔
مگر اس بار اس کے چہرے پر غصہ نہیں، سنجیدگی تھی۔
وہ خاموشی سے قریب آیا اور بولا:
“تم ٹھیک کہتے تھے۔”
دانا شخص نے مسکرا کر پوچھا:
“کون سی بات؟”
دوست نے دھیرے سے جواب دیا:
“میں نے ان دو دنوں میں کئی آئینوں میں خود کو دیکھا۔ اپنی شکل بھی دیکھی، اپنی عادتیں بھی، اپنے رویے بھی۔ میں واقعی اتنا خوبصورت نہیں جتنا میں سمجھتا تھا۔ میرے اندر خامیاں ہیں، غرور ہے، خود پسندی ہے۔”
فضا میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر دانا شخص نے محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا:
“اب آئینہ ٹھیک ہو گیا ہے۔”
دوست حیران ہوا۔
“مگر تم تو کہتے تھے کہ وہ ٹوٹا ہوا ہے؟”
دانا شخص مسکرایا۔
“آئینہ کبھی ٹوٹا ہوا نہیں تھا۔ صرف تمہاری نگاہ دھندلی تھی۔ جب انسان اپنی خامیوں کو مان لیتا ہے تو وہ حقیقت کو دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اور سچ قبول کر لینا ہی انسان کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔”
دوست کی آنکھیں جھک گئیں۔
اس روز پہلی بار اس نے اپنے چہرے سے زیادہ اپنے دل کو دیکھا تھا۔
اور شاید وہی دن تھا جب وہ واقعی خوبصورت ہوا۔
سبق
آئینہ ہمیں وہی دکھاتا ہے جو ہمارے سامنے ہوتا ہے، لیکن حقیقت کا آئینہ صرف اسے سچ دکھاتا ہے جو سچ دیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ دنیا میں خوبصورت چہرے بہت ہیں، مگر اپنی کمزوریوں کو پہچان کر انہیں قبول کر لینا سب سے نایاب حسن ہے۔ کیونکہ چہرے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، مگر سچ کو قبول کرنے والا دل ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner