اصل کی پہچان

اصل کی پہچان

قدیم مصر کی سرزمین پر دو ہرمس کھڑے تھے۔ ایک زمانے کی گرد میں بھی اپنی اصل شان برقرار رکھے ہوئے تھا، اور دوسرا اسی کی نقالی میں تراشا گیا ایک فریب تھا۔ دونوں کی صورت ایسی ملتی تھی کہ دیکھنے والوں کی نگاہ دھوکا کھا جاتی، اور عقل فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی۔
ایک روز فرعون نے دربار سجایا اور دونوں ہرمسوں کو اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ دربار خاموش تھا، سانسیں تھمی ہوئی تھیں۔
فرعون نے پُر جلال لہجے میں پوچھا:
“تم دونوں میں سے اصل کون ہے؟”
پہلا ہرمس فوراً بولا:
“میں ہی اصلی ہوں، دوسرا محض ایک جعل سازی ہے۔”
دوسرا بھی سکون سے گویا ہوا:
“اصل میں ہوں، اور جعلی وہ ہے۔”
فرعون چند لمحے سوچتا رہا۔ دونوں کے دعوے ایک جیسے تھے، دونوں کے چہرے خاموش مگر پُراسرار۔
“جب دونوں ایک ہی بات کہتے ہو،” فرعون نے کہا، “تو میں حق اور باطل میں فرق کیسے کروں؟”
پہلا ہرمس سینہ تان کر بولا:
“میں ابھی آسمان سے بارش برسا دوں گا۔ ایسا معجزہ دکھاؤں گا کہ شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔”
دربار میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔
مگر دوسرا ہرمس نہ مسکرایا، نہ گھبرایا۔ اس نے نہایت وقار سے کہا:
“اصل کو اپنی اصل ثابت کرنے کے لیے کرشموں کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ معجزے اکثر وہ دکھاتا ہے جسے اپنی حقیقت پر یقین نہیں ہوتا۔”
دربار پر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔
فرعون نے سر جھکایا، کچھ دیر غور کیا، پھر اعلان کیا:
“اصل وہی ہے جو اپنی سچائی کے لیے تماشے کا محتاج نہیں۔”
یوں اس نے دوسرے ہرمس کو اصلی قرار دیا، کیونکہ سچائی اپنی روشنی خود ہوتی ہے؛ اسے چراغوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سبق:
جو ہر لمحہ اپنی سچائی کے ثبوت ڈھونڈتا پھرے، اس کے دل میں کہیں نہ کہیں شک بسیرا کیے ہوتا ہے۔ مگر جو اپنی حقیقت پر قائم ہو، اسے نہ شور کی حاجت ہوتی ہے، نہ کرشموں کی۔ اصل کی پہچان اس کے وقار سے ہوتی ہے، نہ کہ اس کے دعوؤں سے۔

Leave a Reply

NZ's Corner