ایک چینی بزنس مین کی کمپنی ایک عرصے تک سعودی عرب میں کام کرتی رہی تھی۔ بعد ازاں اس نے کمپنی کا انتظام اپنے بیٹے کے سپرد کیا اور خود چین واپس آ گیا۔
اس کی خواہش تھی کہ زندگی کے آخری حصے میں اپنے وطن کے پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کا سہارا بنے۔
ایک روز وہ چین کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی۔ وہ ایک معذور بزرگ خاتون کو ویل چیئر پر بٹھا کر لے جا رہی تھی۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے باوجود دونوں نے اپنے سروں اور جسم کو پلاسٹک کی بوریوں سے ڈھانپ رکھا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر بزنس مین رک گیا۔
اس نے قریب جا کر ان کا حال پوچھا اور حیرت سے پوچھا:
“اتنی شدید گرمی میں آپ دونوں نے پلاسٹک کی بوریاں کیوں پہن رکھی ہیں؟”
لڑکی نے بتایا کہ وہ دونوں ماں بیٹی ہیں۔
اس کی والدہ کچھ عرصہ قبل ایک پہاڑی علاقے میں مزدوری کر رہی تھیں کہ اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ نیچے جا گریں۔ اس حادثے کے نتیجے میں ان کی دونوں ٹانگیں ناکارہ ہوگئیں اور ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہوئی۔ تب سے وہ بستر اور ویل چیئر تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔
بیٹی ابھی زیرِ تعلیم تھی، مگر ماں کی حالت ایسی تھی کہ اس نے اپنی تعلیم چھوڑ دی اور ماں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
ان کا گزر بسر حکومت اور ایک کمپنی کی طرف سے ملنے والی محدود مالی امداد سے ہوتا تھا، جس سے بمشکل گھر کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی تھیں۔
چینی بزنس مین نے لڑکی کو مشورہ دیا:
“تم اپنی والدہ کو کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دو اور دوبارہ اپنی تعلیم شروع کرو۔ تمہارا مستقبل بھی تو اہم ہے۔”
لڑکی خاموشی سے مسکرائی۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
وہ جھکی، ویل چیئر پر بیٹھی اپنی ماں کے چہرے کو چوما اور آگے بڑھنے لگی۔
بزنس مین کو محسوس ہوا کہ شاید اس کی بات سے لڑکی کو دکھ پہنچا ہے۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور اپنے الفاظ پر معذرت کی۔
لڑکی نے معذرت قبول کی تو اس نے کہا:
“لیکن میرے سوال کا جواب ابھی باقی ہے۔ تم نے پلاسٹک کی بوریاں کیوں پہن رکھی ہیں؟”
لڑکی نے جواب دیا:
“میرا نام فاطمہ ہے اور میری والدہ کا نام خدیجہ ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔”
پھر اس نے پلاسٹک کی بوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“ہمیں جو مالی مدد ملتی ہے، اس سے بمشکل زندگی کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ نہ میری والدہ کے علاج کے لیے کافی رقم ہے اور نہ ہی میرے پاس مناسب لباس ہے۔ ہمارے کپڑے اتنے پرانے اور پھٹ چکے ہیں کہ ان پر پیوند لگانے کی بھی گنجائش نہیں رہی۔”
وہ بولی:
“میرے اور میری والدہ کے پاس سر ڈھانپنے کے لیے دوپٹہ تک نہیں۔ چنانچہ والدہ کے مشورے سے میں نے پلاسٹک کی بوریوں کو کاٹ کر اوور کوٹ بنا لیے اور انہیں ہی حجاب کے طور پر استعمال کرنے لگی، تاکہ ہم اپنا جسم ڈھانپ سکیں اور پردے کی حفاظت بھی ہو جائے۔”
چینی بزنس مین لکھتا ہے کہ وہ لڑکی اپنی داستان ایسے سنا رہی تھی جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو۔
مگر اس کی باتیں سنتے سنتے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
میں چاہتا تھا کہ آگے بڑھ کر اسے تسلی دوں، مگر اس کی حیا اور پردہ میرے لیے رکاوٹ بن گئے۔
پھر لڑکی نے اپنے سامان میں سے ایک ٹفن نکالا اور میری طرف بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا:
“آپ نے مجھے مشورہ دیا تھا نا کہ اپنی والدہ کو کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر کے دوبارہ پڑھائی شروع کر دوں؟”
وہ بولی:
“یہ مشورہ مجھے آپ سے پہلے بھی بہت سے لوگ دے چکے ہیں۔ مجھے یہ بھی سمجھایا گیا کہ اگر میں اپنی والدہ کو کسی ادارے کے حوالے کر دوں تو میں ان کی ذمہ داری سے آزاد ہو جاؤں گی۔ حکومت کی مالی مدد، لوگوں کی طرف سے ملنے والی خیرات، صدقات اور زکوٰۃ سے میں ایک بہتر زندگی گزار سکتی ہوں اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکتی ہوں۔”
پھر اس نے انتہائی اطمینان سے کہا:
“لیکن میرا ان سب کو بھی یہی جواب تھا اور آپ کو بھی یہی جواب ہے کہ جہاں تک میں نے اسلام کو سمجھا ہے، میرے لیے اپنی ضعیف والدہ کی خدمت دنیاوی تعلیم سے زیادہ اہم ہے۔”
“والدین کی خدمت میرے لیے بوجھ نہیں، سعادت ہے۔”
چینی بزنس مین کہتا ہے:
“اس جواب کے بعد میرے پاس کوئی سوال باقی نہیں رہا تھا۔”
اس نے انتہائی عاجزی سے لڑکی سے کہا:
“میں تمہاری والدہ کے لیے ایک مستقل خدمت گار کا انتظام کر دیتا ہوں، اور تمہاری تعلیم سمیت تمہارے تمام ضروری اخراجات بھی اپنے ذمے لینا چاہتا ہوں۔ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو مجھے اس نیکی سے محروم نہ کرو۔”
لڑکی نے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔
یوں اس بزنس مین نے اس خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی۔
وہ پہلے بھی کئی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کر چکا تھا، مگر یہ پہلی مسلمان فیملی تھی جس کی خدمت کا اسے موقع ملا تھا۔
اور پھر ایک عجیب اتفاق ہوا۔
جس دن اس نے اس مسلمان ماں بیٹی کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی، اسی دن سعودی عرب میں اس کی کمپنی کو 30 لاکھ سعودی ریال کا ایک نیا پروجیکٹ مل گیا۔
اس کا بیٹا خوشی سے اسے فون کر کے بتانے لگا کہ ان کے مقابلے میں کئی بڑی کمپنیاں تھیں، جن کے پاس ان سے زیادہ وسائل، مشینری اور افرادی قوت موجود تھی، مگر پھر بھی پروجیکٹ ان کی کمپنی کو مل گیا۔
بزنس مین نے اپنے بیٹے کو اس نیکی کے بارے میں بتایا جو اس نے اسی روز کی تھی۔
بیٹے نے یہ بات سنی تو بہت خوش ہوا اور اس نے بھی مزید دو ضرورت مند خاندانوں کی کفالت اپنے ذمے لے لی۔
یوں ایک نیکی نے دوسری نیکی کو جنم دیا۔
اس واقعے کا اصل سبق یہی ہے کہ انسانیت کی خدمت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
کسی مجبور کی مدد کرتے وقت یہ نہ دیکھیں کہ وہ کس قوم، ملک، رنگ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ ضرورت مند انسان کی مدد کرنا ہی سب سے بڑی انسانیت ہے۔
اور والدین کے بارے میں اس بیٹی کا جذبہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جن والدین نے ہماری خاطر اپنی زندگی لگا دی، ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا ہمارے لیے بوجھ نہیں بلکہ ایک عظیم سعادت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی قدر، انسانیت کی خدمت اور ضرورت مندوں کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
