رات گہری ہو چکی تھی۔ ریڈیو اسٹیشن کے لائیو پروگرام میں اچانک ایک کمزور، کانپتی ہوئی آواز ابھری:
“بیٹا… میں کئی دنوں سے بھوکی ہوں۔ اگر اللہ کے نام پر کوئی کچھ کھانے کو دے دے تو بڑی مہربانی ہوگی…”
یہ الفاظ سن کر کئی دل پسیج گئے، مگر ایک شخص کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔
وہ ایک امیر، تعلیم یافتہ مگر خدا کا منکر انسان تھا۔ اس نے قہقہہ لگایا۔
“آج دیکھتے ہیں… اس کا خدا اسے کیسے رزق دیتا ہے!”
وہ فوراً بازار گیا۔ آٹا، چاول، گھی، دالیں، پھل، دودھ—گاڑی سامان سے بھر دی۔ پھر نوکر کو حکم دیا:
“یہ سب اس بوڑھی عورت کے گھر پہنچا دو… اور اگر پوچھے کس نے بھیجا ہے تو کہنا:
‘شیطان نے!’”
نوکر حیران ہوا، مگر خاموشی سے چل پڑا۔
تنگ اور سنسان گلی کے آخری کچے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
اندر سے نحیف آواز آئی:
“کون ہے بیٹا؟”
“اماں جی… آپ کے لیے کچھ سامان لایا ہوں۔”
دروازہ کھلا۔
سامنے ایک کمزور مگر نور سے بھرپور چہرہ تھا۔ جب سامان اندر رکھا گیا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے فوراً آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے:
“یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے…”
پھر اس نے مسکرا کر پوچھا:
“یہ سب کس نے بھیجا ہے؟”
نوکر ہچکچایا۔ آخر آہستہ سے بولا:
“اماں جی… شیطان نے بھیجا ہے۔”
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر بوڑھی عورت کے لبوں پر عجیب سا سکون بھرا تبسم آیا۔ وہ بولی:
“الحمدللہ… جب میرا رب حکم دیتا ہے تو شیطان کو بھی خدمت کرنی پڑتی ہے۔”
یہ جملہ نوکر کے دل میں تیر کی طرح اتر گیا۔
جب اس نے واپس جا کر سارا واقعہ مالک کو سنایا تو وہ پہلے ہنسا… پھر اچانک خاموش ہو گیا۔
اس رات وہ سو نہ سکا۔
بار بار ایک ہی جملہ اس کے ذہن میں گونجتا رہا:
**“جب میرا رب حکم دیتا ہے تو شیطان کو بھی خدمت کرنی پڑتی ہے…”**
اس کے غرور میں پہلی بار دراڑ پڑی۔
اگلے دن وہ سادہ لباس میں اس بوڑھی عورت کے گھر پہنچا۔
دروازہ کھلا تو اس نے نظریں جھکا کر کہا:
“اماں جی… میں وہی شخص ہوں۔ میں نے مذاق اڑانے کے لیے سامان بھیجا تھا… اور نوکر سے کہا تھا کہ شیطان کا نام لے۔”
بوڑھی عورت نے غور سے اسے دیکھا۔
پھر نرمی سے بولی:
“بیٹا… رزق دینے والا اللہ ہے۔ تم تو صرف ایک ذریعہ تھے۔”
وہ لرز گیا۔
“آپ کو مجھ پر غصہ نہیں آیا؟”
بوڑھی عورت مسکرائی۔
“میں بندوں سے کیوں ناراض ہوں؟ میرا یقین تو اپنے رب پر ہے۔”
یہ سنتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ برسوں کا غرور ٹوٹ چکا تھا۔
وہ شخص، جو کبھی خدا کے وجود کا مذاق اڑاتا تھا، اسی دن بدل گیا۔
اس نے غریبوں کی خدمت شروع کر دی۔ یتیموں کے لیے راشن، بیماروں کے لیے دوائیں، بھوکوں کے لیے کھانا—اب یہی اس کی زندگی تھی۔
چند ماہ بعد جب وہ دوبارہ اس بوڑھی عورت سے ملنے گیا تو وہ شدید بیمار تھی، مگر چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
وہ دھیمی آواز میں بولا:
“اماں جی… آپ اتنی تکلیف میں بھی مطمئن کیوں ہیں؟”
بوڑھی عورت نے کمزور مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“اس لیے کہ اللہ نے میرے خالی برتن کے ساتھ… ایک خالی دل بھی بھر دیا ہے۔”
چند دن بعد وہ دنیا سے رخصت ہو گئی۔
مگر اس کے الفاظ زندہ رہے۔
اور وہ شخص اکثر لوگوں سے کہا کرتا تھا:
“میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے…
اللہ جب کسی کی مدد کا فیصلہ کرتا ہے تو شیطان کو بھی خدمتگار بنا دیتا ہے۔”
#urdustories #moralstories #kahaniyan #stories #islamicstories
