باتونی حجام اور کبڑا

باتونی حجام اور کبڑا



بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ بغداد شہر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے دربار میں بڑے بڑے امیر، وزیر، تاجر اور دانش مند لوگ آیا کرتے تھے۔ اسی شہر میں ایک ایسا حجام بھی رہتا تھا جس کی باتیں پورے شہر میں مشہور تھیں۔ وہ صرف بال اور داڑھی ہی نہیں کاٹتا تھا بلکہ اپنے گاہکوں کو باتوں میں ایسا الجھاتا کہ وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا۔

اس حجام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کسی کو بولنے کا موقع نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی شخص اس سے ایک سوال کرتا تو وہ جواب میں دس کہانیاں سنا دیتا۔

ایک عجیب دعوت

ایک دن شہر کا ایک امیر تاجر اپنے دوستوں کے لیے ایک شاندار دعوت کا اہتمام کر رہا تھا۔ اس نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو مدعو کیا۔ اتفاق سے اس دعوت میں ایک کبڑا آدمی بھی موجود تھا، جو اپنی ہنسی مذاق کی عادت کی وجہ سے لوگوں میں مقبول تھا۔

دعوت میں خوب کھانے پینے کا انتظام تھا۔ دسترخوان پر طرح طرح کے پکوان رکھے گئے تھے۔ لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔

کبڑے نے مچھلی کا ایک لقمہ کھایا۔ اس میں مچھلی کی ایک باریک ہڈی تھی جو اس کے گلے میں پھنس گئی۔ اس نے پانی پینے کی کوشش کی، مگر ہڈی گلے میں مزید پھنس گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کی سانس رک گئی اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔

لوگ گھبرا گئے۔ کسی نے اسے آواز دی، کسی نے پانی پلانے کی کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

تاجر نے سمجھا کہ کبڑا مر چکا ہے۔ وہ خوف زدہ ہو گیا کیونکہ اس کے گھر میں ایک مہمان کی موت ہو چکی تھی۔

لاش کو چھپانے کی کوشش

تاجر نے اپنے ملازم کی مدد سے کبڑے کو اٹھایا اور ایک مشہور طبیب کے گھر کے دروازے پر رکھ دیا۔

جب طبیب نے دروازہ کھولا تو اندھیرے میں اس کا پاؤں کبڑے کے جسم سے ٹکرا گیا۔ اس نے سمجھا کہ کوئی چور گھر میں گھس آیا ہے۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور زور سے دھکا دیا۔ کبڑا سیڑھیوں سے نیچے جا گرا۔

طبیب نے جب اسے قریب سے دیکھا تو اسے مردہ پایا۔ اب طبیب پریشان ہو گیا کہ اس کے گھر کے دروازے پر ایک آدمی کی لاش پڑی ہے۔

اس نے اپنے ملازم کی مدد سے لاش اٹھائی اور ایک تاجر کی دکان کے باہر رکھ دی۔

صبح ہوئی تو ایک اور شخص وہاں سے گزرا۔ اس نے لاش دیکھی تو شور مچا دیا۔ لوگ جمع ہو گئے اور بات بادشاہ کے سپاہیوں تک پہنچ گئی۔

چنانچہ طبیب، تاجر اور کئی دوسرے افراد کو گرفتار کر کے بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا۔

باتونی حجام کی آمد

بادشاہ نے حکم دیا کہ اس معاملے کی حقیقت معلوم کی جائے اور مجرم کو سزا دی جائے۔

اسی دوران ایک حجام کو بھی اس واقعے کی خبر ملی۔ وہ دربار میں پہنچا اور بولا:

”اے بادشاہ سلامت! میں اس معاملے کا حل جانتا ہوں۔ مجھے اس آدمی کو دیکھنے کی اجازت دی جائے۔”

بادشاہ نے اجازت دے دی۔

حجام کبڑے کے قریب گیا۔ اس نے اس کے جسم کو غور سے دیکھا اور پھر اس کے گلے کا معائنہ کیا۔ اچانک اس نے ایک خاص طریقے سے اس کے گلے کو حرکت دی اور کچھ دیر بعد کبڑے کے جسم میں جنبش پیدا ہوئی۔

حجام نے دوبارہ کوشش کی۔ اس مرتبہ کبڑے نے زور سے کھانسی کی اور اس کے گلے میں پھنسی ہوئی مچھلی کی ہڈی باہر نکل آئی۔

سب لوگ حیران رہ گئے!

کبڑے نے آنکھیں کھولیں، گہرا سانس لیا اور آہستہ آہستہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔

بادشاہ نے خوش ہو کر کہا:

”یہ تو ایک حیرت انگیز واقعہ ہے! حجام، تم نے اس کی جان بچا لی۔ تمہیں یہ ہنر کہاں سے ملا؟”

حجام نے فخر سے جواب دیا:

”بادشاہ سلامت! میں کوئی معمولی حجام نہیں ہوں۔ میں نے زندگی میں بہت سے عجیب واقعات دیکھے ہیں۔ میرے چھ بھائی بھی ہیں اور ہر بھائی کی اپنی ایک الگ عجیب کہانی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو اپنے اور اپنے بھائیوں کے حیرت انگیز واقعات سناؤں۔”

بادشاہ نے دلچسپی سے کہا:

”ضرور! لیکن پہلے یہ بتاؤ کہ تمہاری سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟”

حجام نے فوراً جواب دیا:

”حضور! میری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میں بہت کم بولتا ہوں اور ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرتا ہوں۔”

یہ سن کر دربار میں موجود تمام لوگ ہنسنے لگے، کیونکہ حجام اب تک اتنی لمبی تقریر کر چکا تھا کہ کسی دوسرے کو بولنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔

بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:

”اگر تم کم بولتے ہو تو پھر زیادہ بولنے والا کون ہوگا؟”

حجام نے فوراً اپنے چھ بھائیوں کے قصے سنانے شروع کر دیے۔

یوں بادشاہ کے دربار میں ایک نئی داستان کا آغاز ہوا، جس میں حجام کے چھ بھائیوں کے عجیب و غریب واقعات، ان کی مصیبتیں اور حیرت انگیز مہمات شامل تھیں۔

سبق آموز بات: انسان کو اپنی تعریف خود کرنے کے بجائے اپنے کردار اور عمل سے اپنی خوبی ثابت کرنی چاہیے۔ باتونی ہونا اور عقل مند ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں

Leave a Reply

NZ's Corner