بادشاہ اور دانا اجنبی۔۔۔ ایک سبق آموز کہانی

بادشاہ اور دانا اجنبی۔۔۔ ایک سبق آموز کہانی

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی شخص ملازمت کی درخواست لے کر حاضر ہوا۔

بادشاہ نے پوچھا: “تم کیا کام جانتے ہو؟”

اجنبی نے جواب دیا:

“میں لوگوں اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔”

اتفاق سے شاہی اصطبل کا نگران حال ہی میں فوت ہوا تھا، لہٰذا بادشاہ نے اسے اصطبل کی ذمہ داری سونپ دی۔

چند دن بعد بادشاہ نے اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کے بارے میں پوچھا۔

اجنبی نے کہا:

“یہ گھوڑا نسلی تو ہے، لیکن اس کی پرورش گھوڑوں کی طرح نہیں ہوئی۔”

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ گھوڑے کی ماں پیدائش کے وقت مر گئی تھی اور اسے ایک گائے نے دودھ پلا کر پالا تھا۔ اسی لیے اس کی کچھ عادتیں گائے جیسی تھیں۔

بادشاہ اس کی ذہانت سے متاثر ہوا۔

کچھ عرصے بعد بادشاہ نے اپنی ملکہ کے بارے میں رائے پوچھی۔

اجنبی نے جواب دیا:

“اس کے آداب تو شاہی ہیں، مگر وہ کسی بادشاہ کی بیٹی معلوم نہیں ہوتی۔”

تحقیق کی گئی تو حقیقت سامنے آئی کہ ملکہ دراصل ایک عام خاندان کی بچی تھی جسے سیاسی مصلحت کے تحت شہزادی بنا کر پالا گیا تھا۔

اب بادشاہ حیرت میں ڈوب چکا تھا۔

ایک دن اس نے اجنبی سے اپنی ذات کے بارے میں پوچھ لیا۔

اجنبی نے کہا:

“اگر جان کی امان ہو تو عرض کروں… آپ بادشاہ تو ہیں، مگر بادشاہ کے بیٹے نہیں لگتے۔”

یہ سن کر بادشاہ کے ہوش اڑ گئے۔

وہ فوراً اپنی والدہ کے پاس گیا۔

کافی اصرار کے بعد والدہ نے راز کھول دیا:

“تم واقعی بادشاہ کے بیٹے نہیں ہو۔ تم ایک چرواہے کے بیٹے تھے، جسے حالات کے باعث شاہی خاندان میں شامل کر لیا گیا تھا۔”

بادشاہ نے واپس آ کر اجنبی سے پوچھا:

“تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟”

اجنبی مسکرایا اور بولا:

“بادشاہ جب انعام دیتے ہیں تو سونا، چاندی اور جواہرات دیتے ہیں۔ لیکن آپ ہمیشہ اناج، بھیڑ بکریاں اور کھانے پینے کی چیزیں عطا کرتے ہیں۔”

“انسان کی زبان بہت کچھ چھپا سکتی ہے، مگر اس کی عادتیں اس کی اصل تربیت ظاہر کر دیتی ہیں۔ ✨ سبق

انسان کی پہچان صرف اس کے خاندان یا نسب سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے کردار، عادات، رویّے اور تربیت سے ہوتی ہے۔

اصل عظمت خون میں نہیں، اخلاق میں ہوتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner