ایک بادشاہ کے دربار میں ایک خوش آواز گویّا آیا۔
اس نے ایسا سُریلا گانا چھیڑا کہ پورا دربار خاموش ہو گیا…
بادشاہ جھوم اٹھا
بادشاہ نے وزیر سے کہا:
“اس گویّے کو ہیرے دے دو!”
یہ سنتے ہی گویّا اور دل سے گانے لگا۔
بادشاہ پھر بولا:
“اسے موتی بھی عطا کرو!”
اب تو گویّے کی آواز میں اور بھی جادو آ گیا
بادشاہ خوش ہو کر چلایا:
“اشرفیاں بھی دے دو!”
گویّا اب پوری جان لگا کر گا رہا تھا…
سر، لے، آواز… سب عروج پر تھے
بادشاہ جوش میں آ کر بولا:
“اسے جاگیر بھی دے دی جائے!”
بس پھر کیا تھا…
گویّا خوشی خوشی گھر پہنچا اور بیوی بچوں کو بتایا:
“ہماری قسمت بدل گئی!
بادشاہ نے سونا، چاندی، اشرفیاں، موتی، ہیرے، حتیٰ کہ جاگیر تک دینے کا اعلان کیا ہے!”
گھر میں جشن شروع ہو گیا
مگر…
ایک دن گزرا…
پھر دوسرا…
پھر تیسرا…
نہ سونا آیا…
نہ چاندی…
نہ اشرفیاں…
نہ جاگیر…
آخرکار گویّا دوبارہ دربار پہنچا اور ادب سے بولا:
“بادشاہ سلامت! آپ نے مجھے اتنے انعام دینے کا اعلان فرمایا تھا… مگر ابھی تک کچھ نہیں ملا!”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“ارے بھئی! تم نے میرے کان خوش کیے تھے 🎶
اور میں نے تمہارے کان خوش کر دیے!
#urdustories #kahaniyan #stories #MoralStory
