بدقسمتی یا خوش قسمتی؟

بدقسمتی یا خوش قسمتی؟



ایک شخص کو جنگل میں ایک جنگلی گھوڑا ملا۔ وہ اسے اپنے گھر لے آیا۔

پڑوسیوں نے جب گھوڑا دیکھا تو خوش ہو کر کہنے لگے:

“واہ! تم تو بہت خوش قسمت ہو، تمہیں اتنا خوبصورت گھوڑا مل گیا!”

وہ شخص مسکرایا اور بولا:

“مجھے نہیں معلوم… یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی۔”

چند دن بعد اس کا بیٹا گھوڑے پر سوار ہوا۔ گھوڑا اچانک بدک گیا اور لڑکا زمین پر جا گرا۔ اسے شدید چوٹ آئی اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔

پڑوسی افسوس کرتے ہوئے بولے:

“ہائے! یہ تو بہت بڑی بدقسمتی ہوگئی۔”

اس شخص نے سکون سے جواب دیا:

“مجھے نہیں معلوم… یہ اچھا ہوا یا برا۔”

کچھ ہی عرصے بعد ملک میں جنگ چھڑ گئی۔ بادشاہ کے حکم پر گاؤں کے تمام صحت مند نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔

پڑوسیوں کے بیٹے بھی جنگ پر چلے گئے۔

مگر اس شخص کا بیٹا اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگوں کی وجہ سے فوج میں نہ جا سکا۔

کچھ عرصے بعد خبر آئی کہ جنگ میں بہت سے نوجوان مارے گئے ہیں۔

پڑوسی اپنے بیٹوں کے غم میں ڈوبے ہوئے اس شخص کے پاس آئے اور کہنے لگے:

“تم تو واقعی خوش قسمت نکلے! تمہارا بیٹا زندہ ہے۔”

وہ شخص چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:

“مجھے نہیں معلوم… یہ اچھا ہوا یا برا۔”

پڑوسی حیران رہ گئے۔

تب انہیں سمجھ آیا کہ **زندگی کے کسی ایک لمحے کو دیکھ کر اس کے انجام کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔**

جس واقعے کو ہم آج بدقسمتی سمجھ رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے کل وہی ہمارے لیے کسی بڑے نقصان سے بچنے کا سبب بن جائے۔

Leave a Reply

NZ's Corner