ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک نوجوان بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگ بےکار ہیں اور ملک پر بوجھ ہیں، کیونکہ وہ نہ زیادہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی پیداوار میں حصہ لیتے ہیں۔
بادشاہ کے درباری بھی نوجوان تھے، اس لیے وہ سب اس بات سے متفق ہو گئے۔ آخرکار ایک دن بادشاہ نے حکم جاری کر دیا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو ملک سے ختم کر دیا جائے۔
پورے ملک میں خوف پھیل گیا۔ بوڑھے لوگوں کو الگ کر دیا گیا، اور معاشرہ خاموش ہو گیا… مگر ایک خاموشی جو اندر ہی اندر خالی پن سے بھر رہی تھی۔
اسی ملک میں ایک نوجوان رہتا تھا جو اپنے بوڑھے باپ سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس ظلم کو برداشت نہ کر سکا۔ سپاہیوں کے آنے سے پہلے اس نے اپنے باپ کو ایک خفیہ تہہ خانے میں چھپا دیا۔
ہر روز وہ چپکے سے اپنے باپ سے ملنے جاتا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عمر کمزور کر دیتی ہے، مگر تجربہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
کچھ سال گزر گئے۔ اچانک ملک پر ایک خوفناک قحط آ گیا۔ زمینیں بنجر ہو گئیں، اناج ختم ہو گیا، اور لوگ بھوک و بیماری کا شکار ہو گئے۔ سب پریشان تھے مگر کسی کو کوئی حل نہیں مل رہا تھا۔
نوجوان بھی بے بس ہو گیا۔ آخرکار وہ اپنے چھپے ہوئے باپ کے پاس گیا اور ساری صورتحال بتائی۔
بوڑھے باپ نے سکون سے کچھ دیر سوچا اور پھر کہا:
“فکر نہ کرو… اپنے ہل کو لے کر گھر کے سامنے والے پرانے راستے کو اچھی طرح جوت دو، پھر اس پر سہاگا پھیر دو۔”
نوجوان حیران ہوا، مگر اس نے ویسا ہی کیا۔
کچھ دن بعد بارش ہوئی… اور سب نے دیکھا کہ اسی جوتی ہوئی زمین سے گندم کے پودے اُگنے لگے۔
پورا گاؤں حیران رہ گیا۔ بادشاہ تک یہ خبر پہنچی اور وہ خود حقیقت جاننے کے لیے نوجوان کو دربار میں لے آیا۔
نوجوان نے سچ بتا دیا کہ یہ مشورہ اس کے بوڑھے باپ نے دیا تھا۔
بادشاہ فوراً سمجھ گیا کہ اس کے حکم کے مطابق تو ملک میں کوئی بوڑھا باقی ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ سخت حیران ہوا اور اس بوڑھے شخص کو دربار میں بلایا گیا۔
بوڑھا آدمی پرسکون انداز میں آیا۔ سب نے اس سے سوال کیا۔
وہ مسکرا کر بولا:
> “بادشاہ سلامت، میں نے زمین کو دیکھا اور سمجھ گیا کہ لوگ اس راستے سے فصل لے جایا کرتے تھے۔ کچھ بیج یقیناً زمین میں گر گئے ہوں گے اور دب گئے ہوں گے۔ میں نے صرف تجربے کی بنیاد پر اندازہ لگایا تھا… اور اندازہ درست نکلا۔”
یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی۔
بادشاہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ طاقت عمر سے نہیں، عقل اور تجربے سے سنبھلتی ہے۔ اسے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔
اسی دن اس نے حکم واپس لے لیا اور فیصلہ کیا کہ اب سے ملک میں بزرگوں کو عزت دی جائے گی، کیونکہ وہ قوم کا خزانہ ہیں۔
بوڑھے لوگ صرف عمر رسیدہ نہیں ہوتے، وہ تجربے، حکمت اور بصیرت کا خزانہ ہوتے ہیں۔ مشکل وقت میں ان کی رہنمائی کسی بھی قوم کو بچا سکتی ہے۔
آپ کے خیال میں آج کے دور میں بزرگوں کے مشوروں کی کتنی اہمیت رہ گئی ہے
