🤣جب لفٹ میں پھنسے لوگوں نے ایک دوسرے کو بھوت
سمجھ لیا 🤣
آفس کی عمارت پرانی تھی اور لفٹ اکثر نخرے دکھاتی تھی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے جب تین لوگ لفٹ میں سوار ہوئے جن میں ایک پپو میاں، دوسرے ایک صاحب جو سفید کفن نما لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے، اور تیسری ایک خاتون تھیں جن کے سر پر بہت زیادہ ٹیلکم پاؤڈر گرا ہوا تھا کیونکہ وہ ابھی بیوٹی پارلر سے ہو کر آئی تھیں۔
اچانک ایک زوردار جھٹکا لگا، لائٹ چلی گئی اور لفٹ آدھے راستے میں پھنس گئی۔ گھپ اندھیرا چھا گیا اور لفٹ کے اندر ہوا کا گزر بھی بند ہو گیا۔ خاموشی ایسی کہ دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔ پپو نے ڈر کے مارے موبائل کی ٹارچ جلائی، لیکن ٹارچ کی روشنی نیچے سے اوپر کی طرف پڑی۔ سفید کرتے والے صاحب کا چہرہ روشنی میں ایسا خوفناک لگا کہ پپو چیخا کہ بھوت آگیا۔ وہ صاحب ڈر کے مارے پیچھے ہٹے تو ان کا پاؤں خاتون کے بھاری پرس پر پڑا، وہ ہڑبڑا کر گریں اور ان کے بالوں کا سارا سفید پاؤڈر فضا میں اڑ گیا۔ سفید دھوئیں کے درمیان جب انہوں نے پپو کو دیکھا جس کا چہرہ ڈر سے نیلا پڑ چکا تھا تو وہ بھی چلائیں کہ چڑیل آگئی ہے۔
اب اندھیرے میں تینوں ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ پپو نے آنکھیں بند کر کے مکا چلایا جو سیدھا سفید کرتے والے صاحب کی ناک پر لگا۔ انہوں نے سمجھا کہ بھوت نے حملہ کر دیا ہے، چنانچہ انہوں نے جوابی کارروائی میں خاتون کا پرس اٹھا کر اندھیرے میں گھمایا۔ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے پپو کا ہاتھ غلطی سے لفٹ کے ایمرجنسی الارم کے بجائے فائر سپرنکلر یعنی آگ بجھانے والے فوارے کے سینسر سے جا ٹکرایا۔ اگلے ہی سیکنڈ میں لفٹ کی چھت سے ٹھنڈے پانی کی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔
اب صورتحال یہ تھی کہ خاتون کا سارا میک اپ اور بالوں کا سفید پاؤڈر مکس ہو کر ان کے چہرے پر سفید کیچڑ کی طرح بہنے لگا، جبکہ سفید کرتے والے صاحب کا کرتا گیلے ہونے کی وجہ سے ان کے جسم سے چمٹ گیا اور وہ بالکل کسی دریائی گھوڑے جیسے لگنے لگے۔ پپو نے بدحواسی میں چیخ ماری کہ بچاؤ، بھوت اب ہمیں غسلِ میت دے رہا ہے۔
اسی لمحے لفٹ کا دروازہ گراؤنڈ فلور پر کھلا جہاں عمارت کا مالک ایک غیر ملکی وفد کے ساتھ کھڑا تھا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، لفٹ کے اندر سے پانی کے ریلے کے ساتھ تین عجیب و غریب مخلوقات پھسلتی ہوئی باہر نکلیں اور سیدھی مہمانوں کے قدموں میں جا گریں۔ پپو نے اٹھتے ہی سامنے کھڑے گورے مہمان کی ٹانگیں پکڑ لیں اور چلایا کہ فرشتے آ گئے اور ہمیں دوزخ سے نکال لیا۔ وہ گورے مہمان ڈر کے مارے بھوت اور مونسٹر چلاتے ہوئے عمارت سے باہر بھاگے، جبکہ آفس کے مالک نے غصے میں اپنا سر پیٹ لیا کیونکہ کروڑوں کی ڈیل ان تین زندہ بھوتوں کی وجہ سے غرق ہو چکی تھی
