قدیم یونان کے ساحلوں کے قریب، پہاڑوں کے دامن میں ایک شہر تھا جہاں سوال کا درخت اُگا ہوا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ درخت ہر اس شخص سے ایک سوال پوچھتا ہے جو اس کے سائے میں رکتا، اور جو جواب دے دیتا، وہ آگے بڑھ جاتا
جو جواب نہ دے پاتا، وہ وہیں ٹھہر جاتا۔
ایک نوجوان فلسفی، لیون، شہر میں آیا۔ اس نے بہت کتابیں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے اسے یقین تھا کہ درخت اسے روک نہیں سکے گا۔ وہ سائے میں آیا تو پتے سرسرائے اور سوال گونجا:
“تو کیا جانتا ہے؟”
لیون نے لمبا جواب دیا تعریفیں، دلیلیں، مثالیں۔ درخت خاموش رہا۔
وہ اگلے دن پھر آیا۔ اس بار اس نے مختصر بات کی، مگر پھر بھی جواب ہی تھا۔ درخت پھر خاموش۔
تیسرے دن لیون خالی ہاتھ آیا۔ اس نے کہا:
“میں نہیں جانتا۔”
درخت کی شاخیں ہلیں، راستہ کھل گیا۔ آگے ایک تنگ گزرگاہ تھی جس سے شہر کے بزرگ گزرتے تھے۔ لیون نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو درخت اب بھی وہیں تھا، مگر اس کے سائے میں ٹھہرنے والے کم تھے زیادہ تر آگے بڑھ چکے تھے۔
لیون نے کتابیں بند نہ کیں، مگر اب وہ سوال پہلے رکھتا، جواب بعد میں۔
سبق
حکمت جواب جمع کرنے میں نہیں، سوال قبول کرنے میں ہے۔ “میں نہیں جانتا” کہنا علم کی پہلی سیڑھی ہے۔
حوالہ جات
یونانی تمثیلی و فلسفیانہ حکایات (Public Domain)
زبانی روایتِ درخت اور سوال
کلاسیکی اخلاقی ادب: جہلِ مقدس (Sacred Ignorance)
