بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ساس کی کھانسی کی وجہ سے بہو کی نیند ڈسٹرب ہو رہی تھی شوہر کے سامنے خود تو ساس کو برا بھلا کہہ نہیں سکتی تھی
لہذا بہو نے فوراً اپنے چند ماہ کے بیٹے کو چٹکی کاٹی تھی جو رونے لگا تھا اور پھر اپنے بیٹے کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا تھا ماں کی وجہ سے چھوٹا بار بار اٹھ جاتا ہے اگر بچے کی نیند پوری نہ ہوئی تو اس شدید ٹھنڈ میں بچہ ویسے ہی بیمار پڑ جائے گا شوہر نے اٹھ کر بیوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماں کو جھڑکا تھا مگر کھانسی جھڑکنے سے کہاں رکتی ہے اور پھر بوڑھی ماں تو ٹی بی کی مریضہ تھی لہذا اس کے بیٹے نے اٹھ کر اس کا بستر صحن میں لگا دیا تھا۔

بوڑھی ناتواں ماں اپنے جوان پتر کی مضبوط گرفت میں گھسٹتے ہوئے صحن میں پڑھی ٹوٹی پھوٹی چارپائی تک آئی تھی بیٹے نے دھکا دے کر ماں کو چارپائی پر پھینکا تھا اور جگہ جگہ سے پھٹا ہوا کمبل لا کر ماں کے اوپر ڈال دیا تھا صحن میں سخت سردی تھی دسمبر کی یخ بستہ راتیں تھی اوپر سے ٹی بی نے بگڑ کر پھیپھڑوں تک کو ضائع کر دیا تھا کھانسی کرتے کرتے کئی بار سانس رک جاتی تھی اور پتہ نہیں کتنے کتنے لمحے رکی تھی تھی کئی بار تو الٹی تک نکل جاتی تھی بہو اب اندر پہلے سے بھی زیادہ پریشان تھی کیونکہ اب ٹھنڈ کی وجہ سے کھانسی میں وقفہ بھی نہیں رہا تھا سوائے ان چند لمحوں کے کب بوڑھی ساس کی سانسیں بھی تھمی ہوتی تھیں لہذا بہو نے ایک بار اپنے بیٹے کو چٹکی کاٹی جو رونے لگا. بیٹے کے رونے کی آواز پر اس کا شوہر بھی جاگ گیا اور بہو نے ایک بار پھر اپنے شوہر سے ساس کی کھانسی کی شکایت کی اب کی بار شوہر اٹھا اور اپنی ماں کے سر پر پہنچا۔

چارپائی کا ایک سرا پکڑا کر کھینچا اور کھینچتا ہوا صحن کے دوسرے سرے تک لے گیا ماں بچاری کہیں رستے میں ہی گر گئی واپسی پر منہ اندھیرے جب اپنی چہتی بیوی کے پاس لوٹ رہا تھا تو اس کا پاؤں اپنی ماں سے ٹکرایا تو منہ کے بل گرا اور ماں کے منہ سے بے اختیار حسبی اللہ کے الفاظ نکلے اور ساتھ ہی منہ سے نکلا ” پت تنو سٹ تے نہیں وجہ”

بیٹے نے کوئی جواب نہ دیا اٹھا اور ایک بار پھر اپنی ماں گھسٹینے کے انداز میں اٹھائے ہوئے لے جا کر بستر پر ڈال دیا جہاں اس کی ماں ساری رات ٹھنڈ کی وجہ سے کھانستے کھانستے صبح تک مر گئی اور جسم ٹھنڈ کی وجہ سے اکڑ گیا صبح جب بہو نے ناشتہ کر لیا اپنے شوہر کو بھی کروا لیا تو پھر اس نا ہنجار کو اس کی ماں کی موت کی خبر سنائی اور شوہر اب کی بار بھی کوئی پشیماں نہ ہوا بلکہ الٹا ماں کی موت کے نام پر گاؤں سے مانگ کر بیوی کے پیٹ کا جہنم بھرا اور ماں کو اس کا اپنا خرید کر رکھا گیا کفن پہنا کر قبر میں اتار دیا۔

وقت گزرتا گیا اس بدبخت کا بیٹا جوان ہوا بیوی بیٹے کی چڑھتی جوانی میں فوت ہو گئی جب کہ وہ مکافات عمل سے گزرنے کے لئیے زندہ رہا وہ بوڑھا ہو چکا تھا کھانسنے کی وجہ سے اس کی چارپائی دسمبر جنوری کی یخ بستہ راتوں میں بھی صحن کے آخری کونے میں عین اس مقام پر ہوتی جہاں آخری بار اس نے گھسیٹ کر اپنی ماں کو لٹایا اس کے پاس اوڑھنے کے نام پر وہ ہی ماں والا کمبل تھا البتہ وہ مرد تھا چل پھر سکتا تھا لہذا وہ دور دور کے دیہاتوں میں جا کر کچرہ کنڈیوں سے گرم کپڑے ڈھونڈ لاتا جو اسے سردی سے بچانے کے کام آتے تھے مگر سردی سے بچ سکتا تھا اپنے انجام سے نہیں۔

آج وہ اپنے نومولود پوتے کو پیار کر رہا تھا کہ بہو نے دیکھ لیا کہ اس کا پوتا رات کو بیمار پڑ گیا اس کی بیوی نے اپنے شوہر کے سامنے سارا الزام سسر پر ڈالتے ہوئے بتایا کہ سسر نے اسے اٹھا کر باہر ٹھنڈ میں اپنے پاس رکھا میرے مانگنے پر مجھے گالیاں دیتا رہا اور کہتا رہا کہ تو بچوں کو باپ دادا کے پیار سے محروم کر رہی ہے ساتھ ہی بیوی نے مگر مچھ کے آنسو بہانے شروع کر دئیے یہاں تک شوہر طیش میں اٹھ کر گیا اور باپ کو صحن کے کونے میں پڑی چارپائی سے اٹھا کر گھر کی دہلیز سے باہر پھینک دیا. جب اپنے بیٹے کے ہاتھوں ذلیل رسوا ہو کر بوڑھے کو گھر سے باہر پھینکا گیا تو اسے اپنی ماں کی یاد آئی جس نے آخری الفاظ میں بھی بیٹے کی فکر کرتے ہوئے پوچھا تھا بیٹا تمہیں کہیں چوٹ تو نہیں لگی. ساتھ ہی بوڑھا شخص اپنے بیٹے کا انجام سوچنے لگا اور انجام سوچتے سوچتے ساری رات سردی میں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر گیا🥲🥲🥲🥲🥲🥲🥲

کہانی سے سبق ملتا ہے کہ والدین کے ساتھ کیا گیا سلوک ہمارے ہاتھوں لکھی گئی ایک تحریر ہے جو ہماری اولاد ہمیں پڑھ کر سناتی ہے😒😒😒😒😒😒😒

Leave a Reply

NZ's Corner