پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک کسان اپنی اونٹنی کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ راستے میں شام ہوگئی تو اس نے ایک گاؤں میں رات گزارنے کی اجازت مانگی۔ گاؤں والوں نے اسے مہمان بنا لیا۔ کسان نے جاتے وقت کہا کہ اونٹنی حاملہ ہے، اس کا خیال رکھنا۔
رات کو اونٹنی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ صبح جب کسان روانہ ہونے لگا تو وہ بچہ بھی ساتھ لے جانے لگا۔ گھر والوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے:
“یہ اونٹ کا بچہ نہیں، ہماری بکری کا بچہ ہے!”
بات بڑھ گئی اور گاؤں والے جمع ہوگئے۔ آخرکار سب معاملہ گاؤں کے نمبردار کے پاس لے گئے۔ نمبردار نے کچھ دیر سوچا اور فیصلہ سنایا:
“میرے پردادا کہا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب بکریاں اونٹ کے بچے جَنیں گی۔ لہٰذا یہ بچہ بکری ہی کا ہے۔”
کسان حیران رہ گیا اور خاموشی سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد وہ لوگ خوشی منانے لگے اور کہنے لگے:
“کاش ہمارے نمبردار ہمیشہ زندہ رہیں، ایسے انصاف کرنے والے کہاں ملتے ہیں!”
سبق:
جب انصاف کی جگہ جان پہچان اور مفاد لے لے، تو ظلم کو بھی لوگ کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔
