بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ سچا واقعہ پڑھیے اور دیکھیے آج بھی کیسے کیسے المیے لکھے جا رہے ہیں اور ہمارا قانون نہ تو انھیں روک سکا ہے نہ ظالموں کا کچھ بگاڑ سکا ہے۔۔۔۔۔

مرنے والوں کا کہاں خبر ہوتی ہے کہ ان کی نسلوں کا کیا حشر ہو گا۔ ایسا ہی ایک باپ اپنے بچوں کے لیے ہزاروں کنال زمین چھوڑ کر مرا تھا۔ اس کا ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی، جب وہ مرا تو اس کے بچوں کے لیے اتنی دولت موجود تھی کہ وہ ساری عمر مالی مسائل کا شکار نہ ہوتے لیکن وہ کروڑوں کی جائیداد کے مالک بچے بھوک سے تڑپتے رہے ،کھانے کو ترستے رہے۔

باپ امیر تھا ، کروڑوں کا مالک ، ہزاروں کنال زمین کا مالک لیکن موت نے آ لیا، ماں پہلے ہی خدا کو پیاری ہو چکی تھی ۔ جب باپ بھی گیا تو ان دونوں بہن بھائی کے ماموں زاد نے آگے بڑھ کر ان دونوں کی ذمہ داری لے لی، ان دونوں کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ اٹھا لیا اور پھر جو ہوا وہ انسانی تاریخ کا ایک بھیانک ترین باب تھا۔

اس نے ان دونوں بھائی بہن کو گھر میں قید کر دیا، انھیں بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر دیا ، ان کی زمینوں پہ قبضہ کر لیا اور کوئی اسے روکنا والا نہیں تھا۔ برس پہ برس ایسے ہی گزر گئے۔ بس گاؤں کے کسی فرد کے ذریعے انھیں کھڑکی سے کھانا پہنچا دیا جاتا کہ ان کے سینے میں سانس چلتا رہے۔ کسی کو خبر نہ ہوئی ، نہ کسی رشتے دار کو ، نہ کسی قانون کے رکھوالے کو۔۔۔۔۔ یا شائد کسی نے خبر لینے کی کوشش ہی نہیں کی اور جن کو خبر تھی وہ ڈر یا لالچ کے مارے چپ بیٹھے رہے۔

اور پھر پچھلے سال کسی کا ضمیر جاگا اور اس نے تھانے میں خط لکھا۔ یکم فروری کو پولیس کو ملے گمنام خط میں ان دونوں بہن بھائیوں کا حال لکھا ہوا تھا اور درخواست کی گئی تھی کہ کسی طرح ان کی جان بچا لی جائے۔ بتایا گیا تھا کہ کس طرح ان کے باپ کی جائیداد پہ قبضہ کرنے کے لیے ان بہن بھائی کو حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے، ان کو غلط ادویات دے کر نیم پاگل کر دیا گیا ہے۔ ان کے پاس پہننے کو مناسب کپڑے نہیں، ٹھنڈے موسم میں شدید سردی سے بچنے کے لیے بستر نہیں، پیٹ بھرنے کو کھانا نہیں اور انھیں کسی نے برسوں سے جانوروں کی طرح قید کیا ہوا ہے۔

پولیس نے خط وصول کیا اور اپنے ڈھیلے ڈھالے انداز میں معاملہ دیکھنا شروع کیا۔ بارہ دن بعد یعنی دو چار نہیں پورے بارہ دن بعد پولیس نے بتائے گئے پتے پہ چھاپہ مارا تو پہلے کمرے سے لڑکی کی لاش ملی۔ اسے مرے ہوئے آٹھ سے دس دن ہو چکے تھے۔ اب اس مردہ بدن سے زندگی کی حرارت نہیں، بس موت کی باس اٹھ رہی تھی۔

وہ بارہ دن جو پولیس نے اپنے ڈھیلے ڈھالے انداز میں معاملہ دیکھنے میں گزار دیے ، وہ ایک لڑکی کی جان کھا گئے۔ کیا مشکل تھی کہ پولیس فوراً اس پتے پہ جا کر بس دیکھ لیتی کہ یہاں کچھ مسئلہ ہے بھی یا نہیں لیکن انھیں ہوش آنے میں بارہ دن لگ گئے۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی اس لڑکی کی لاش زمین پہ اس طرح پڑی ہوئی تھی ، جیسے وہ سو رہی ہو۔ کمرے میں روٹی کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، اسی کمرے کے کونے میں پاخانہ پڑا ہوا تھا۔ سردیوں کے دن ، فروری کا مہینہ اور اس لڑکی کے پاس اوپر لینے کو کوئی کمبل یا رضائی نہیں تھا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ سردی اور بھوک سے تڑپ تڑپ کی مری ہے۔

دوسرے کمرے کا دروازہ توڑا گیا تو کروڑوں کی جائیداد کا دوسرا وارث، اس مردہ لڑکی کا بھائی ملا، گندے کپڑوں میں لاغر سا ، ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا بھائی۔ وہ زندہ تھا ، سانسیں چل رہی تھیں لیکن اس کا دماغی توازن الٹ چکا تھا۔ وہ ظلم سہتے سہتے ہوش کھو چکا تھا۔

پولیس نے بیان دیا کہ لڑکی کی موت کی وجہ ظاہری طور پہ شدید سردی اور بھوک ہے کیونکہ جس حال میں ان دونوں کو رکھا گیا تھا ، اس میں انسانوں کا زندہ رہنا ممکن ہی نہیں۔ پچھلے سال تیرہ فروری کو اس لڑکی کی لاش دفنا دی گئی۔

دس لوگوں کے خلاف کیس کیا گیا اور ان دس میں سے سات لوگوں نے قبل از گرفتاری ضمانت کروا لی۔ مرکزی ملزم اور اس کے دو بھائیوں کو گرفتار کیا گیا لیکن جلد ہی وہ تینوں بھی ضمانت پہ رہا ہو گئے۔ کیس چلنا شروع ہوا تو بالآخر فروری میں شروع ہوئے اس معاملے پہ دسمبر میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تین سال کی سزا اور جرمانہ سنا دیا۔

آپ بس جرم کی نوعیت دیکھیے، شدت دیکھیے اور سزا دیکھیے۔۔۔۔

لیکن رکیے، ابھی اس المناک کہانی کا ایک اور موڑ باقی ہے۔ ملزم نے اس سزا کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کر دی۔ ہائیکورٹ نے کیس سنا اور ابھی دو دن پہلے دس مارچ کو عدالت نے ملزم کی تین سال کی سزا کو بھی کالعدم قرار دے کر اسے بری کر دیا ہے۔ ملزم رہا ہو چکا ہے، آزاد فضا میں سانس لے رہا ہے اور اپنی زندگی جینے کے لیے اب اس پہ کوئی روک ٹوک نہیں۔

یہ سچہ واقعہ ہمارے پاکستان کا ہی ہے ، ضلع چکوال کا۔ ماضی کی بات نہیں، ابھی کا قصہ ہے۔ ملزم آزاد ہو چکا ہے۔ وہ ہزاروں کنال زمین جس پہ اس کا قبضہ تھا ، اس زمین کو اس سے چھڑوانے والا بھی کوئی نہیں اب ، اس ملزم کو سزا دلوانے والا بھی کوئی نہیں اب۔

ایک لڑکی مر چکی اور ایک لڑکا ہوش کھو چکا۔ ظلم کی شرمناک داستان لکھی جا چکی لیکن ہمارا اندھا قانون اور بہری عدالتیں ملزم کو باعزت بری کر چکی ہیں، اس لیے اب اسے پوچھنے والا کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

NZ's Corner