حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیا کرتے تھے۔
یہ باتیں فرشتوں کے درمیان لوگوں کے حالات کے بارے میں ہوتی تھیں، جیسے کسی شخص کی موت، رزق کی تقسیم اور دیگر غیبی امور۔
شیاطین یہ باتیں سن کر نیچے اترتے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں (جادوگروں) کو یہ خبریں پہنچاتے تھے۔
⚪️ اس دور میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ شیاطین غیب جانتے ہیں، اور بنی اسرائیل کے کاہن ان خبروں کو لوگوں میں پھیلاتے تھے، اور جو کچھ کہا جاتا وہ بعینہٖ پورا ہوجاتا تھا۔
اس وجہ سے لوگوں کا ان باتوں پر ایمان، اللہ کی نازل کردہ کتاب زبور پر ایمان سے بھی زیادہ ہوگیا۔
یہاں تک کہ لوگوں نے زبور کو چھوڑ دیا اور شیاطین کی باتوں کو اختیار کرلیا۔
لوگوں نے شیاطین کی باتوں کو جمع کرکے کتابوں کی صورت دے دی، اور وہی کتابیں اس وقت اللہ کی کتاب زبور کی جگہ معتبر سمجھی جانے لگیں۔
یہ خبریں حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچیں کہ شیاطین آسمان پر جا کر فرشتوں کی باتیں سنتے ہیں اور لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ شیاطین غیب جانتے ہیں۔
حضرت سلیمانؑ اس پر سخت غضبناک ہوئے اور شیاطین کو اس عمل پر سخت سزا دی۔
حضرت سلیمانؑ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ وہ شیاطین کی لکھی ہوئی تمام کتابیں جمع کریں۔
انہوں نے ان کتابوں کو ایک صندوق میں رکھ کر حضرت سلیمانؑ کے تخت کے نیچے دفن کردیا۔
پھر حضرت سلیمانؑ نے لوگوں سے فرمایا:
“جو کوئی یہ کہے کہ شیاطین غیب جانتے ہیں، میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔”
اور شیاطین کو خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی اس صندوق کے قریب گیا تو وہ جل کر راکھ ہوجائے گا۔
🌕 اس وجہ سے شیاطین کے دلوں میں حضرت سلیمانؑ کے خلاف شدید بغض، حسد اور غصہ پیدا ہوگیا، کیونکہ اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو ایک عظیم راز اور طاقت عطا فرمائی تھی، جس سے وہ جنات اور شیاطین کو مسخر کرتے، ان پر حکومت کرتے اور انہیں سزا دیتے تھے۔
شیاطین حضرت سلیمانؑ کی اطاعت تو کرتے تھے، مگر ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔
وہ صرف اس خوف سے اطاعت کرتے تھے کہ حضرت سلیمانؑ انہیں قید یا عذاب دے سکتے ہیں۔
وقت گزرتا گیا، لوگ اور کاہن شیاطین کی باتیں بھولتے چلے گئے، یہاں تک کہ حضرت سلیمانؑ کا وصال ہوگیا۔
ان کے انتقال کے کئی سال بعد اور نسلوں کے بدلنے کے ساتھ، وہ علماء بھی کم ہوتے گئے جو جانتے تھے کہ کتابیں تخت کے نیچے دفن ہیں۔
ایک دن بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس ایک اجنبی شخص آیا، جو درحقیقت انسان کی شکل میں ایک شیطان تھا۔
اس نے کہا:
“میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خزانہ ہے، اگر تم اسے حاصل کرلو تو دنیا کے سب سے طاقتور لوگ بن جاؤ گے۔”
بنی اسرائیل نے جواب دیا:
“یہ کیسا خزانہ ہے جس کی بات کر رہا ہے؟”
شیطان مسکرایا اور بولا:
“سلیمان کوئی نبی نہیں تھا بلکہ ایک جادوگر تھا۔ وہ جادو کے ذریعے تمہیں دھوکا دیتا تھا اور اسے معجزہ بنا کر پیش کرتا تھا۔”
لوگ اس کی باتیں غور سے سننے لگے اور پوچھا:
“وہ خزانہ کہاں ہے؟ ہمیں بتاؤ۔”
شیطان نے کہا:
“حضرت سلیمان کے تخت کے نیچے کھودو، وہاں ایک صندوق ملے گا۔”
مسلمان (موحد) بنی اسرائیل یہ سن کر غصے میں آگئے اور بولے:
“خاموش رہو! سلیمان جادوگر نہیں تھے، وہ اللہ کے نبی تھے!”
کافروں اور مسلمانوں کے درمیان سخت جھگڑے ہوئے، مگر آخرکار بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد نے اس شیطان کی بات مان لی۔
وہ سب حضرت سلیمانؑ کے تخت کے پاس پہنچے۔
شیطان خود پیچھے کھڑا رہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ قریب گیا تو جل جائے گا۔
اس نے کہا:
“تم کھودو، میں یہیں کھڑا رہوں گا۔”
جب انہوں نے کھودا تو واقعی ایک صندوق ملا۔
صندوق کھولا گیا تو اس میں بہت سی کتابیں تھیں۔
اس نسل کے لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ حضرت سلیمانؑ نے شیاطین کی لکھی ہوئی تمام جادو کی کتابیں دفن کی تھیں، جن میں شیاطین نے فرشتوں کی باتوں میں کفر اور جادو ملا دیا تھا۔
شیطان نے موقع پاکر کہا:
“یہی وہ کتابیں ہیں جن کے ذریعے سلیمان جنات، شیاطین، پرندوں اور ہواؤں کو مسخر کرتا تھا۔ وہ نبی نہیں بلکہ جادوگر تھا۔”
(نعوذ باللہ)
یہ کہہ کر شیطان ان کی آنکھوں کے سامنے اڑ گیا۔
اس کے بعد بنی اسرائیل نے جادو سیکھنا اور سکھانا شروع کردیا، اور جادو ہر جگہ پھیل گیا، یہاں تک کہ ہر گھر میں جادو عام ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ﴾
(البقرہ: 102)
ترجمہ:
“سلیمان نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے کفر کیا، وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے…”
ماخذ:
البداية والنهاية لابن كثير
تفسير الطبري
آخر میں، نبی کریم ﷺ، آپ کی آلِ پاک اور صحابہ کرامؓ پر درود و سلام بھیجیں۔
