ایک بادشاہ تھا۔ اس کی چار بیویاں تھیں۔ وہ ان سے مختلف انداز میں محبت کرتا تھا۔
پہلی بیوی سب سے زیادہ قریب تھی۔ اس کے ساتھ وہ ہر وقت رہتا، ہر بات کرتا، ہر خوشی بانٹتا۔ وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔
دوسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا، لیکن اتنی نہیں جتنی پہلی سے۔ وہ اس کے ساتھ بھی وقت گزارتا، لیکن کبھی کبھار۔
تیسری بیوی کو وہ کبھی کبھی یاد کرتا۔ اس سے اس کی ملاقات کم ہوتی تھی، لیکن وہ اس کی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا۔
چوتھی بیوی سب سے زیادہ دور تھی۔ وہ اس پر توجہ نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا بھی کم تھا۔ لیکن وہ بیوی بہت وفادار تھی۔ وہ ہر کام کرتی، ہر تکلیف سہتی، اور کبھی شکایت نہیں کرتی۔
ایک دن بادشاہ بیمار ہو گیا۔ وہ مرنے لگا۔ اس نے اپنی سب سے پیاری بیوی پہلی بیوی کو بلایا اور کہا: “میں مر رہا ہوں۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گی؟ میں تمہیں سب سے زیادہ چاہتا ہوں۔”
پہلی بیوی نے کہا: “نہیں۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔ جب تم مر جاؤ گے، میں دوسری شادی کر لوں گی۔”
بادشاہ کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے دوسری بیوی کو بلایا۔ “تم میرے ساتھ چلو گی؟ میں نے تم سے بھی محبت کی ہے۔”
دوسری بیوی نے کہا: “نہیں۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔ تمہاری موت کے بعد لوگ میری عزت کریں گے، مجھے خراج دیں گے۔ میں یہیں رہوں گی۔”
بادشاہ نے تیسری بیوی کو بلایا۔ “تم میرے ساتھ چلو گی؟”
تیسری بیوی نے کہا: “میں تمہارے ساتھ صرف قبر تک آؤں گی۔ وہاں تمہیں دفن کروں گی، روؤں گی، پھر واپس آ جاؤں گی۔”
بادشاہ بہت اداس ہوا۔ اس نے سوچا کہ اب کون اس کے ساتھ جائے گا؟
اتنے میں ایک آواز آئی چوتھی بیوی کی، جسے اس نے کبھی یاد نہیں کیا تھا، جس پر اس نے کبھی توجہ نہیں دی تھی۔
وہ بولی: “بادشاہ! میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔ جہاں تم جاؤ گے، میں وہاں رہوں گی۔ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔”
بادشاہ حیران ہوا۔ اس نے کہا: “تم؟ میں نے تو تمہیں کبھی اہمیت نہیں دی۔ تم نے میرے لیے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ اب تم میرے ساتھ چلو گی؟”
چوتھی بیوی نے کہا: “میں ہمیشہ تمہارے ساتھ تھی۔ تم نے مجھے دیکھا نہیں۔ لیکن میں کبھی نہیں گئی۔ اب بھی نہیں جاؤں گی۔”
بادشاہ کو سمجھ آ گیا۔ اس کی چار بیویاں اس کی زندگی کی چار چیزوں کی علامت تھیں۔
پہلی بیوی اس کا جسم۔ جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ جسے وہ سنوارتا، سجاتا، آرام دیتا۔ لیکن جب وہ مرے گا، یہ جسم اسے چھوڑ جائے گا۔
دوسری بیوی اس کی دولت اور شہرت۔ جس پر وہ فخر کرتا تھا، جسے لوگ دیکھتے تھے۔ لیکن جب وہ مرے گا، یہ سب کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔
تیسری بیوی اس کے رشتہ دار اور دوست۔ جو اس کے ساتھ قبر تک آئیں گے، روئیں گے، پھر واپس چلے جائیں گے۔
چوتھی بیوی اس کے اعمال، اس کی نیکیاں، اس کا سچ۔ جسے اس نے کبھی اہمیت نہیں دی، جس کے بارے میں اس نے کبھی نہیں سوچا۔ لیکن وہی اس کے ساتھ جائے گی۔ وہی اس کا سچا ساتھی ہے۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں ہم کس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہم اپنے جسم کو سنوارتے ہیں، دولت جمع کرتے ہیں، رشتے بناتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ عارضی ہے۔ سچا ساتھی ہمارے اعمال ہیں جو ہم نے کیا، جو ہم نے دیا، جو ہم نے دوسروں کے لیے کیا۔
وہ اعمال ہی ہمارے ساتھ جائیں گے۔ باقی سب یہیں رہ جائے گا۔
حوالہ:
یہ کہانی مولانا جلال الدین رومی کی “مثنوی معنوی” میں موجود ہے۔ یہ صوفیانہ تعلیمات کا حصہ ہے جس میں انسان کو اس کی حقیقی ترجیحات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس کہانی کو بعد میں کئی زبانوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا۔ یہ نسخہ رومی کی تعلیمات پر مبنی ہے۔
