بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بوڑھا شیر رہتا تھا، جسے سب جانور دل ہی دل میں اپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے۔ اگرچہ اس کی جسمانی طاقت پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر اس کی ہیبت اور وقار بدستور قائم تھا۔ اب وہ شکار کے بجائے دربار لگاتا اور جانوروں کے درمیان انصاف کے فیصلے کیا کرتا تھا۔

روزانہ جنگل کے مختلف جانور اس کے دربار میں حاضر ہوتے، ادب سے سلام پیش کرتے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے۔ خصوصاً لومڑیاں ہر وقت اس کے گرد منڈلاتیں اور نہایت خوشامدانہ انداز میں کہتیں: “حضور، آپ جیسا عادل حکمران زمانے نے نہیں دیکھا۔” “آپ کی دانائی تو مثال سے بالاتر ہے۔”

شیر ان باتوں سے خوش ہوتا اور ان چاپلوسوں کو اپنے قریب رکھتا۔

ایک دن ایک کمزور سا ہرن، لنگڑاتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں دکھ اور بے بسی نمایاں تھی۔ اس نے عرض کیا کہ لومڑیوں نے اس کے معصوم بچوں کا شکار کر لیا ہے اور وہ انصاف کا طلبگار ہے۔

شیر نے سنجیدگی سے لومڑیوں کی طرف دیکھا، تو انہوں نے فوراً نہایت چالاکی سے جواب دیا: “حضور، یہ محض جھوٹ اور بہتان ہے۔ دراصل یہ آپ کی عظمت اور مقبولیت سے حسد رکھتا ہے۔”

شیر نے بغیر تحقیق کیے، محض ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے، ہرن کو دربار سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔

وقت گزرتا گیا۔ لومڑیوں کی حوصلہ افزائی بڑھتی گئی اور انہوں نے پورے جنگل میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم کر دیا۔ کمزور جانور یا تو ہجرت کر گئے یا ان کا شکار ہو گئے۔ نتیجتاً جنگل ویران ہونے لگا اور خوراک کی قلت پیدا ہو گئی۔ بالآخر خود شیر بھی بھوک اور تنہائی کا شکار ہو گیا۔

ایک دن، اپنی کمزوری کے عالم میں، اس نے دیکھا کہ وہی لومڑیاں اب ایک نئے، طاقتور شیر کے گرد جمع ہیں اور اسی طرح اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہیں۔

یہ منظر دیکھ کر بوڑھے شیر کو اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہوا۔ اس نے نہایت افسوس کے ساتھ اپنی آخری سانسوں میں کہا: “میں نے سچ کہنے والوں کو خود سے دور کیا اور چاپلوسوں کو قریب رکھا… درحقیقت میرا زوال انہی کے سبب ہوا۔”

اخلاقی سبق:
چاپلوسی وقتی طور پر خوشی تو دیتی ہے، مگر حقیقت کو چھپا دیتی ہے۔ جو شخص یا حکمران صرف تعریف سننے کا عادی ہو جائے، وہ سچائی سے دور ہو کر اپنے ہی فیصلوں کی کمزوری کا شکار بن جاتا ہے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان سچ کو پہچانے، خواہ وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو، کیونکہ یہی اسے زوال سے بچا سکتا ہے۔

تحریر: سوشل میڈیا پر سے کاپی ہے

Leave a Reply

NZ's Corner