گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔
اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔
ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:
“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!”
مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:
“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ کے پیچھے موجود پانی کے چشمے تک پہنچ سکتے ہیں۔”
سب جانور ہچکچائے، مگر ہاتھی کی بات مان لی۔ راستہ مشکل تھا۔ ایک جگہ شیر پھسل کر گہرے گڑھے میں گر گیا۔ وہ زور زور سے دھاڑنے لگا، مگر اس کی طاقت کام نہ آئی۔
سب جانور ڈر گئے، مگر بوڑھا ہاتھی آگے بڑھا۔ اس نے اپنی سونڈ سے مضبوط بیلیں باندھیں اور باقی جانوروں کی مدد سے شیر کو باہر نکال لیا۔
شیر شرمندہ ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار عاجزی تھی۔ اس نے سر جھکا کر کہا:
“آج مجھے سمجھ آیا کہ اصل طاقت زور میں نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی مدد میں ہے۔”
اس دن کے بعد شیر بدل گیا۔ وہ اب جنگل کا بادشاہ ضرور تھا، مگر ظالم نہیں بلکہ عادل بن گیا۔
سبق: اصل طاقت جسم کی نہیں، کردار اور اتحاد کی ہوتی ہے۔
اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں اور پیج کو بھی ضرور فالو کریں۔
