ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے شہر میں ایک بہت بڑا تالاب تعمیر کروایا اور پورے شہر میں یہ منادی (اعلان) کروا دی کہ ہر شہری اس تالاب میں روزانہ ایک گلاس دودھ ڈالے گا، تاکہ بعد میں اسے غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جا سکے۔
جب رات ہوئی تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا:
“یہ شہر اتنا بڑا ہے اور اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر شخص ایک ایک گلاس دودھ ڈالے گا تو تالاب تو بھر ہی جائے گا۔ ایسے میں اگر صرف میں ایک گلاس نہیں ڈالوں گا، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔”
حیرت انگیز طور پر، اس رات شہر کے ہر فرد نے بالکل یہی سوچا اور اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی۔
اگلی صبح جب بادشاہ تالاب کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تالاب بالکل خالی تھا۔
تب بادشاہ نے اہل شہر کو جمع کیا اور بھرے مجمع میں کہا:
“تم سب نے دیکھا؟ تمہاری اس ایک منفی سوچ نے اتنے بڑے مقصد کو ناکام بنا دیا۔ اگر تم میں سے ہر شخص اپنی ذمہ داری کو نیکی سمجھ کر نبھاتا تو آج یہ تالاب بھرا ہوتا اور کتنے ہی غریبوں کی بھوک مٹ سکتی تھی۔ یاد رکھو، قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بنتا ہے۔”
حاصلِ کلام: اگر ہم سب بھی اپنی سوچ کو مثبت کر لیں تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ اگر ہر انسان اپنی ذات سے بہتری کا آغاز کرے تو ہر دل میں ایک دوسرے کے لیے محبت پیدا ہوگی۔ سب کچھ ہماری سوچ پر منحصر ہے، کیونکہ فرد سے ہی معاشرہ بنتا ہے۔
منقول
