وہ دیہاتی علاقے کا ایک تھانہ تھا۔ تھانہ خاصے بڑے گاؤں میں تھا۔ مجھے اس تھانے میں تعینات کیا گیا تھا۔
میں نے سرکاری کاغذات سنبھالتے ہوئے زرگل خان کو غور سے دیکھا۔ ایک پٹھان سب انسپکٹر، جس کی مونچھوں میں ابھی تک وہ اکڑ تھی جو سرکاری ملازمت کی پہلی تنخواہ سے بنتی ہے، مگر آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی۔ آنکھیں گہری کھائیوں میں گر چکی تھیں۔
“کیا واقعی چڑیل کا قصہ ہے؟” میں نے پوچھا۔
زرگل خان نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ “صاحب، میں نے سولہ سال نہیں، سولہ جنگیں لڑی ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ہر قسم کا انسان دیکھا۔ لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے…”
اس کی آواز بیچ میں ٹوٹ گئی۔
تھانے کے عقبی حصے میں رات کی ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل بشیر احمد بیٹھا تھا۔ وہ لرز رہا تھا، اور اس کی انگلیاں بار بار کانوں کو چھو رہی تھیں۔ میں نے اسے بلا بھیجا۔
“کانوں میں کیا مسئلہ ہے؟” میں نے پوچھا۔
بشیر احمد نے آنکھیں بند کر لیں۔ “صاحب، وہ آواز اب بھی کانوں میں گونجتی ہے۔ پانی کے کنویں میں گرنے کی آواز… لیکن پانی تھا ہی نہیں کنویں میں۔”
پھر اس نے وہ کہانی سنائی جو تھانے کی فائلوں میں درج نہیں تھی۔
وہ دن تھا، اتوار کا۔ بشیر احمد کو فتح پور گاؤں میں سمن پہنچانا تھا۔ وہ سائیکل پر دوپہر کی دھوپ میں نکلا تو راستے میں پرانے قبرستان کے پاس سے گزرا۔ یہ قبرستان مشہور تھا گاؤں میں – “چڑیل والا قبرستان”۔
بشیر احمد نے بتایا کہ جب وہ قبرستان کے پاس سے گزرا تو اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے پکار رہا ہے۔ اس نے سائیکل روکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ قبرستان میں کوئی نہیں تھا۔ اس نے پھر سائیکل چلائی تو پھر آواز آئی، اس بار زیادہ قریب سے۔
“بشیر… بشیر احمد…”
اس کی روح کانپ گئی۔ اس نے سائیکل کھڑی کی اور ادھر ادھر دیکھا۔ قبرستان سے متصل پرانے کنوئیں کی منڈیر پر اس نے ایک عورت کو بیٹھے دیکھا۔ سفید کپڑے، لمبے سیاہ بال جو چہرے پر پھیلے ہوئے تھے۔
بشیر احمد نے کہا، “میں نے سوچا کوئی مسافر عورت ہو گی، پانی مانگے گی۔ میں قریب گیا تو عورت نے سر اٹھایا۔”
یہاں بشیر احمد نے بات روک دی۔ اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
“اس عورت کا چہرہ نہیں تھا صاحب۔ جہاں چہرہ ہونا چاہیے، وہاں صرف سیاہی تھی۔ اور پاؤں… اس کے پاؤں الٹے تھے۔ ایڑیاں آگے اور انگلیاں پیچھے۔”
بشیر احمد نے بتایا کہ وہ وہیں بیہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو وہ کنوئیں کے اندر تھا۔ کنواں سوکھا تھا۔ اس کے اوپر آسمان تھا اور نیچے مٹی۔ کیسے وہ کنوئیں میں جا گرا، اسے کچھ یاد نہیں۔
بشیر احمد نے چار گھنٹے بعد کنوئیں سے نکلنے کا راستہ پایا۔ جب وہ تھانے پہنچا تو اس کے کانوں سے خون بہہ رہا تھا۔
میں نے زرگل خان کی طرف دیکھا۔ “آپ نے اس واردات کی تفتیش کی؟”
“کی صاحب،” زرگل خان نے کہا۔ “میں خود گیا وہاں۔ کنواں دیکھا۔ چاردیواری دیکھی۔ لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔ بشیر پاگل ہو گیا ہے، یہی میرے دماغ میں آیا۔”
“لیکن آپ کا بچہ…”
زرگل خان نے آنکھیں بند کر لیں۔ “میرا بچہ اسی قبرستان کے پاس کھیل رہا تھا۔ دوستوں کے ساتھ۔ شام کی اذان سے پہلے وہ گھر آنا تھا۔ نہیں آیا۔”
میں نے زرگل خان سے پوچھا کہ کیا اس کے بچے کو اغوا کرنے والوں نے کوئی رابطہ کیا؟ کوئی تاوان مانگا؟ کوئی خط آیا؟
“نہیں صاحب،” زرگل خان نے کہا۔ “نہ کوئی فون، نہ کوئی خط، نہ کوئی پیغام۔ بس ایک چیز…”
اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چیز نکالی۔ ایک لڑکی کا کھیلنے کا کنگن، پلاسٹک کا، گلابی رنگ کا۔
“یہ میرے بچے کی جیب میں تھا۔ اغوا سے ایک دن پہلے اس نے یہ کنگن مجھے دکھایا تھا۔ کہا تھا، ابا، ایک لڑکی نے مجھے یہ دیا ہے۔ میں نے پوچھا کون لڑکی؟ بولا، وہ جو قبرستان میں رہتی ہے۔”
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
“آپ نے کیا کیا؟”
“میں نے ڈانٹا اسے۔ کہا قبرستان کے پاس نہ جایا کرو۔ وہ چپ ہو گیا۔ اگلے دن وہ لاپتہ ہو گیا۔”
میں نے کچھ دیر سوچا۔ پھر کہا، “مجھے وہ کنواں دکھائیے۔”
✧ ✧ ✧
دوپہر کا وقت تھا جب ہم قبرستان پہنچے۔ دھوپ تیز تھی، پھر بھی وہ جگہ عجیب سرد تھی۔ پرانے قبرستان کی دیواریں گر چکی تھیں۔ بعض قبروں کے پتھر ادھر ادھر بکھرے تھے۔ اور پیچھے وہ کنواں۔
میں کنوئیں کے قریب گیا۔ اندھیرا کنواں، اتنا گہرا کہ نیچے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ایک عجیب سی بو آ رہی تھی، جیسے بھیگی ہوئی مٹی کی، حالانکہ مہینوں بارش نہیں ہوئی تھی۔
میں نے منڈیر کے گرد چکر لگایا۔ مٹی پر پرانے نشانات تھے۔ کچھ بچوں کے قدموں کے نشان بھی۔ اور ایک نشان… جیسے کوئی ایڑیوں کے بل چل رہا ہو۔
میں نے زرگل خان کو بلایا۔ “یہ دیکھیں۔”
زرگل خان نے دیکھا تو اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ “یہ تو الٹے پاؤں کے نشان ہیں۔”
اسی لمحے ہمیں کنوئیں سے ایک آواز آئی۔ جیسے کوئی پانی میں چھلانگ لگا رہا ہو۔ لیکن کنواں سوکھا تھا۔
ہم دونوں نے کنوئیں میں جھانکا۔ نیچے اندھیرا تھا۔ پھر اچانک، گہرائی میں ایک روشنی سی ہوئی۔ جیسے کوئی سفید کپڑے والی عورت کنوئیں کی دیوار سے اوپر آ رہی ہو۔
“بھاگو صاحب!” زرگل خان چلایا۔
ہم بھاگے۔ سائیکل اور موٹر سائیکل چھوڑ کر بھاگے۔ قبرستان سے باہر نکلے تو کھیتوں میں کام کرنے والے کسان ہمیں حیران دیکھتے رہ گئے۔
✧ ✧ ✧
تھانے پہنچ کر ہم نے سانس لیا۔ زرگل خان نے میری طرف دیکھا۔ “اب یقین آیا صاحب؟”
میں نے جواب نہیں دیا۔ میں نے صرف اتنا سوچا کہ کل پھر وہاں جانا ہے، اس بار دن کی روشنی میں نہیں، بلکہ اسی وقت جب چڑیلیں نکلتی ہیں۔
رات کو میں نے خواب دیکھا۔ ایک چھوٹا بچہ، زرگل خان کا بیٹا، کنوئیں کے کنارے بیٹھا کھیل رہا تھا۔ ایک سفید کپڑوں والی عورت اس کے قریب آئی اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ بچہ ہنسا۔ پھر عورت نے اسے اٹھایا اور کنوئیں میں چلی گئی۔
میں چیختا ہوا جاگا۔ پسینے سے شرابور تھا۔
اگلی صبح زرگل خان نے مجھے بتایا کہ اس نے بھی یہی خواب دیکھا۔
ہم نے فیصلہ کیا کہ آج رات قبرستان میں گزاریں گے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔
✧ ✧ ✧
رات کا وقت تھا، آدھی رات گزر چکی تھی۔ ہم قبرستان کی دیوار کے پیچھے چھپے بیٹھے تھے۔ ہوا تیز تھی، اور دور کتے بھونک رہے تھے۔
پھر اچانک ہوا تھم گئی۔ کتے خاموش ہو گئے۔ ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی، جیسے وقت رک گیا ہو۔
کنوئیں سے دھواں سا اٹھا۔ سفید دھواں، جو پھیلا اور پھر اکٹھا ہوا۔ دھوئیں سے ایک عورت بنی۔ سفید کپڑے، لمبے بال۔ وہ کنوئیں سے نکل کر قبرستان میں گھومنے لگی۔ پھر رکی۔
اس نے سر اٹھایا۔ چہرے کی جگہ صرف سیاہی تھی۔ اور پھر وہ ہماری طرف بڑھنے لگی۔
ہم سانس روکے بیٹھے رہے۔ وہ قریب آئی، اتنی قریب کہ اس کا دامن ہمارے چہروں سے چھو گیا۔ پھر وہ ہم سے آگے نکل گئی۔ اور غائب ہو گئی۔
جب صبح ہوئی تو ہم نے کنوئیں میں دیکھا۔ نیچے، گہرائی میں، کچھ چمک رہا تھا۔ زرگل خان رسی باندھ کر نیچے اترا۔ تھوڑی دیر بعد اوپر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا جوتا تھا۔ اس کے بچے کا جوتا۔
زرگل خان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “میرا بیٹا یہاں ہے صاحب۔ وہ اس عورت کے پاس ہے۔”
میں نے کہا، “ہم اسے نکالیں گے۔ پوری پولیس اکٹھی کریں گے۔ گاؤں والوں کو جمع کریں گے۔”
زرگل خان نے سر ہلایا۔ “نہیں صاحب۔ وہ اسے اس لیے لے گئی کہ میں نے اس کی بات نہ مانی۔ بشیر احمد نے اسے دیکھا تو میں نے اسے پاگل کہا۔ میرے بیٹے نے اس کا کنگن دکھایا تو میں نے اسے ڈانٹا۔ وہ عورت تنہا تھی، کوئی اسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے میرے بیٹے کو اس لیے چنا کہ وہ ابھی معصوم تھا، ابھی اس نے یہ نہیں سیکھا تھا کہ کس کو دیکھنا ہے اور کس کو نہیں۔”
یہ کہہ کر زرگل خان کنوئیں میں کود گیا۔ میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی، مگر وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
میں نے گھنٹوں انتظار کیا۔ صبح ہوئی تو کنواں سوکھا تھا، بالکل خالی۔ نہ زرگل خان تھا، نہ اس کا بیٹا۔ صرف کنوئیں کی منڈیر پر وہ گلابی کنگن پڑا تھا۔
✧ ✧ ✧
ایک ہفتہ بعد
میں نے وہ کنگن اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ کبھی کبھی رات کو جب نیند نہیں آتی تھی، تو میں اسے دیکھتا تھا۔ تھانے میں اب سناٹا تھا۔ زرگل خان کی گمشدگی کی رپورٹ اوپر بھیج دی گئی تھی۔ تفتیش جاری تھی۔
لیکن پھر وہ ہوا۔
ایک رات میں تھانے میں اکیلا بیٹھا تھا۔ بارہ بج رہے تھے۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے کھولا تو سامنے ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی۔ سفید کپڑے، چہرے پر جھریاں، اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔
“تم وہی ہو نا جو کنوئیں والی چڑیل ڈھونڈ رہے ہو؟” اس نے پوچھا۔
میں چونک گیا۔ “آپ کون ہیں؟”
وہ اندر آئی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔ “میں وہی ہوں جسے تم چڑیل کہتے ہو۔”
میرے ہاتھ کانپنے لگے۔ میں نے بندوق کی طرف دیکھا۔
“مت ڈرو،” اس نے کہا۔ “میں تمہیں کچھ نہیں کروں گی۔ میں صرف سچ بتانے آئی ہوں۔ وہ سچ جو زرگل خان تمہیں نہیں بتا سکا۔”
“زرگل خان؟ آپ اسے جانتی ہیں؟”
وہ بوڑھی عورت نے گہری سانس لی۔ “زرگل خان میرا بیٹا تھا۔”
میں نے اسے حیران سے دیکھا۔ “کیا؟ لیکن وہ تو…”
“وہ تو کیا؟” اس نے تلخی سے کہا۔ “وہ تو تمہیں بتا چکا ہے کہ اس کی ماں مر گئی تھی جب وہ چھوٹا تھا؟ یہ جھوٹ تھا۔ میں زندہ ہوں۔ اور اسی قبرستان میں رہتی ہوں۔”
✧ ✧ ✧
پھر اس نے وہ کہانی سنائی جس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
چالیس سال پہلے کی بات ہے۔ زرگل خان کا باپ، شاداب خان، گاؤں کا زمیندار تھا۔ اس کی شادی زینت سے ہوئی۔ زینت خوبصورت تھی، مگر اس کی خوبصورتی اس کے لیے مصیبت بن گئی۔ گاؤں کے لوگ اسے “چڑیل” کہنے لگے کیونکہ اس کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں اور بال لمبے تھے۔ بچے اسے دیکھ کر ڈرتے تھے۔ عورتیں اسے چڑیل کہہ کر پکارتی تھیں۔
شاداب خان نے اسے طلاق دے دی۔ کہا، “میری بیوی چڑیل نہیں ہو سکتی۔” زینت بے گھر ہو گئی۔ وہ قبرستان میں آ کر رہنے لگی۔ لوگوں نے کہا، “دیکھو، چڑیل قبرستان میں رہتی ہے۔”
لیکن وہ چڑیل نہیں تھی۔ وہ ایک ماں تھی۔ اور اس کا بیٹا زرگل خان اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ چھپ چھپ کر۔ رات کے وقت۔ زینت اسے کنوئیں کے پاس بٹھا کر کہانیاں سناتی تھی۔ وہی کنواں۔
ایک دن زرگل خان کے باپ کو پتہ چل گیا۔ اس نے زرگل خان کو سخت ڈانٹا۔ کہا، “اگر دوبارہ اس چڑیل کے پاس گئے تو تمہیں گھر سے نکال دوں گا۔”
زرگل خان نے ماں سے ملنا چھوڑ دیا۔ زینت قبرستان میں اکیلی رہ گئی۔ وہ روز کنوئیں کے پاس بیٹھی اپنے بیٹے کا انتظار کرتی۔ مگر وہ نہیں آیا۔
سال گزرتے گئے۔ زینت بوڑھی ہو گئی۔ لوگ اسے بھول گئے۔ وہ قبرستان کا حصہ بن گئی۔ لوگ کہتے کہ قبرستان میں چڑیل رہتی ہے۔
پھر ایک دن زرگل خان پولیس میں بھرتی ہو گیا۔ وہ اسی تھانے میں آیا۔ اپنے گاؤں کے قریب۔ مگر اس نے کبھی قبرستان کا رخ نہیں کیا۔ اپنی ماں کو بھول چکا تھا۔ یا بھولنا چاہتا تھا۔
“پھر یہ سب کیا ہے؟” میں نے پوچھا۔ “کنواں؟ سفید عورت؟ بچے کا اغوا؟”
زینت نے آنکھیں بند کر لیں۔ “وہ سفید عورت میں نہیں ہوں۔ وہ میری بیٹی ہے۔”
“آپ کی بیٹی؟”
“ہاں،” زینت نے کہا۔ “زرگل خان کی بہن۔ اس کی جڑواں بہن۔ وہ پیدا ہوتے ہی مر گئی تھی۔ میں نے اسے اسی قبرستان میں دفن کیا تھا۔ وہیں، کنوئیں کے پاس۔”
✧ ✧ ✧
اب میں سمجھنے لگا تھا۔
“وہ لڑکی جو کنوئیں سے نکلتی ہے، وہ آپ کی بیٹی کی روح ہے؟”
زینت نے سر ہلایا۔ “وہ تنہا تھی۔ سالوں تنہا۔ پھر اس نے زرگل خان کے بیٹے کو دیکھا۔ اس کا بھتیجا۔ اپنے بھائی کا بیٹا۔ وہ اسے اپنے پاس لے گئی تاکہ وہ تنہا نہ رہے۔”
“لیکن یہ تو…”
“یہ غلط ہے، میں جانتا ہوں۔” زینت نے کہا۔ “لیکن وہ بچہ بھی وہاں خوش ہے۔ وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ ہے۔ اور اب زرگل خان بھی وہاں ہے۔ اپنی ماں کے پاس۔ اپنی بہن کے پاس۔”
میں نے اس کی طرف دیکھا۔ “آپ نے یہ سب کیوں کیا؟ آپ نے اپنے بیٹے کو اس کنوئیں میں کیوں بلایا؟”
زینت کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “میں نے اسے نہیں بلایا۔ وہ خود آیا۔ اپنے بیٹے کے پیچھے۔ اور میں نے اسے روکا نہیں۔ چالیس سال میں نے اپنے بیٹے کا انتظار کیا۔ چالیس سال وہ مجھے ماں کہہ کر نہیں پکارا۔ اب وہ میرے پاس ہے۔ ہمیشہ کے لیے۔”
وہ اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی۔
“رکو،” میں نے کہا۔ “یہ کنگن۔ یہ آپ کی بیٹی کا تھا؟”
زینت نے کنگن کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ “یہ میرا کنگن تھا۔ میں نے اپنی بیٹی کو دیا تھا جب وہ پیدا ہوئی۔ وہ مر گئی تو میں نے اس کے ہاتھ میں یہ کنگن باندھ دیا تھا۔”
“تو پھر یہ یہاں کیسے آیا؟”
زینت نے میری آنکھوں میں دیکھا۔ “تمہیں نہیں لگتا کہ اب بہت سوال ہو گئے؟ کچھ راز رہنے دو۔ کچھ باتیں انہونی ہی رہنے دو۔”
وہ دروازے سے باہر نکل گئی۔ میں نے اس کا پیچھا کیا، مگر باہر کچھ نہیں تھا۔ صرف اندھیری رات اور دور سے آتی ہوئی اذان کی آواز۔
✧ ✧ ✧
ایک مہینہ بعد
میں نے تھانے کی ٹرانسفر کروا لی۔ یہ جگہ اب میرے لیے ممکن نہیں تھی۔ راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔ ہر رات وہ کنواں میری آنکھوں کے سامنے ہوتا تھا۔
جانے سے پہلے میں ایک بار پھر قبرستان گیا۔ دن کی روشنی میں۔ کنوئیں کے پاس گیا تو دیکھا کہ منڈیر پر پھول رکھے تھے۔ تازہ پھول۔ اور ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی کھلونا کار۔
میرے دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا۔ وہ کھلونا کار زرگل خان کے بیٹے کی تھی۔ میں نے اسے پہچان لیا۔
میں نے کنوئیں میں جھانکا۔ نیچے اندھیرا تھا۔ لیکن اس اندھیرے میں اب خوف نہیں تھا۔ ایک عجیب سی سکون تھی۔ جیسے کوئی کہہ رہا ہو، “سب ٹھیک ہے۔”
میں نے کنگن وہیں رکھ دیا۔ پھولوں کے پاس۔
پھر میں وہاں سے چلا آیا۔
آج پندرہ سال بعد یہ قصہ لکھ رہا ہوں۔ ریٹائرڈ ہو چکا ہوں۔ اپنے شہر میں بیٹھا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی رات کو جب ہوا چلتی ہے، تو مجھے لگتا ہے جیسے کوئی پکار رہا ہے۔
“انسپکٹر صاحب… انسپکٹر صاحب…”
میں کھڑکی کھولتا ہوں تو باہر کچھ نہیں ہوتا۔ صرف اندھیرا اور دور ستارے۔
پچھلے مہینے ایک خط آیا۔ کوئی پتہ نہیں تھا۔ اندر صرف ایک تصویر تھی۔ اس تصویر میں زرگل خان تھا، اس کا بیٹا تھا، اور ایک بوڑھی عورت تھی – زینت۔ تینوں ساتھ کھڑے تھے، کنوئیں کے پاس۔ سب کے چہرے روشن تھے، خوش تھے۔ اور زرگل خان کے بیٹے کے ہاتھ میں وہی گلابی کنگن تھا۔
تصویر کے پیچھے لکھا تھا:
“ہم سب ٹھیک ہیں۔ فکر نہ کریں۔ اور ہاں، یہاں کوئی چڑیل نہیں ہے۔ صرف ایک ماں ہے، ایک بہن ہے، اور ایک خاندان ہے جو چالیس سال بعد مکمل ہوا۔”
میں نے تصویر فریم کروا کر دیوار پر لگا دی ہے۔ کبھی کوئی پوچھتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں تو میں کہتا ہوں، “یہ میرے دوست ہیں۔”
لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ صرف میرے دوست نہیں ہیں۔ وہ ایک سچ ہیں۔ ایک ایسا سچ جو ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک ایسی حقیقت جسے ہم فسانہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اور وہ کنواں؟ وہ آج بھی ہے۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ رات کو وہاں سے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آتی ہیں۔ اور کبھی کبھار کوئی بوڑھی عورت کنوئیں کے پاس بیٹھی نظر آتی ہے، لمبے سفید بالوں میں کنگھی کرتی ہوئی۔
کوئی اس کے پاس نہیں جاتا۔
لیکن وہ تنہا نہیں ہے۔
اب وہ تنہا نہیں ہے۔
🕯️ خلاصہ: ہر وہ چیز جسے ہم چڑیل کہتے ہیں، کسی کی ماں ہے، کسی کی بہن ہے، کسی کی بیٹی ہے۔ ہمارے معاشرے نے انہیں تنہا کر دیا، گھر سے نکال دیا، قبرستانوں میں دھکیل دیا۔ اور جب وہ واپس آتی ہیں اپنے پیاروں کو لینے، تو ہم انہیں انہونی کہتے ہیں۔ شاید انہونی کچھ نہیں، شاید انہونی صرف وہ حقیقت ہے جسے دیکھنے کی ہمت ہم میں نہیں۔
سوال: اگر آپ کو پتہ چلے کہ آپ کی ماں، جسے آپ نے سالوں پہلے کھو دیا، قبرستان میں زندہ ہے اور آپ کا انتظار کر رہی ہے، تو کیا آپ اسے چڑیل کہیں گے یا ماں؟
