بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

بھولا کلاس کا سب سے نرالا طالب علم تھا۔ ایک دن استاد جی نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اعلان کیا: “بچو! آج میں تم سب کا ‘ذہانت’ کا امتحان لوں گا۔ جو میرے سوال کا صحیح جواب دے گا، اسے آدھی چھٹی پہلے مل جائے گی۔”

سب بچے خوش ہو گئے، مگر بھولا تھوڑا پریشان تھا۔

استاد جی نے پہلا سوال کیا: “یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے پہلا انسان کون تھا؟”

ایک بچے نے فوراً ہاتھ کھڑا کیا: “سر! حضرت آدم علیہ السلام۔”
استاد جی: “شاباش! تم آدھی چھٹی میں گھر جا سکتے ہو۔”

اب استاد جی نے دوسرا سوال کیا: “اچھا یہ بتاؤ، وہ کون سی چیز ہے جو سردی ہو یا گرمی، ہمیشہ ‘ٹھنڈی’ ہی رہتی ہے؟”

دوسرے بچے نے جواب دیا: “سر! برف!”
استاد جی: “بہت اچھے! تم بھی جا سکتے ہو۔”

اب کلاس میں صرف بھولا اور دو تین بچے رہ گئے تھے۔ استاد جی نے بھولے کو کنکھیوں سے دیکھا اور ایک مشکل سوال پوچھا:
“بھولے! یہ بتاؤ کہ ‘بجلی’ کہاں سے آتی ہے؟”

بھولا نے ایک لمحہ سوچا اور پھر بڑے اعتماد سے بولا: “سر! بجلی میرے ‘ماموں’ کے گھر سے آتی ہے۔”

استاد جی کا غصے سے برا حال ہو گیا: “اوئے نالائق! یہ کیسا جواب ہے؟ بجلی تمہارے ماموں کے گھر سے کیسے آ سکتی ہے؟”

بھولا معصومیت سے بولا: “سر! وہ ایسے کہ جب بھی بجلی جاتی ہے، تو میرے پاپا زور سے چِلا کر کہتے ہیں: ‘لو! سالوں نے پھر بجلی کاٹ دی!'”
😂🤣😂😂🤣

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner