ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا،
“آپ کا جسم کمزور ہے، کیموتھراپی چل رہی ہے، روزہ رکھا تو جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”
لیکن سلیم احمد نے مسکرا کر جواب دیا،
“ڈاکٹر صاحب، جان تو ویسے بھی اللہ کی امانت ہے۔ اگر اُس کے نام پر جائے تو کیا نقصان؟”
سلیم پچپن سالہ کینسر کا مریض تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے اسپتال کے اسی کمرے میں داخل تھا۔ کبھی ڈرپ لگتی، کبھی انجکشن، کبھی ٹیسٹ۔ بال جھڑ چکے تھے، چہرہ زرد ہو چکا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ جیسے دل میں کوئی چراغ جل رہا ہو۔
رمضان کا چاند نظر آیا تو اُس نے بیوی عائشہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا،
“میں پہلا روزہ ضرور رکھوں گا۔”
عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“آپ کی حالت ٹھیک نہیں، ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔”
سلیم نے دھیمی آواز میں کہا،
“زندگی بھر نمازیں بھی قضا ہوئیں، روزے بھی چھوٹے۔ اب اگر آخری رمضان ہو تو خالی ہاتھ نہ جاؤں۔”
اگلی صبح اُس نے سحری میں صرف دو کھجوریں اور تھوڑا سا پانی لیا۔ نیت کی اور آنکھیں بند کر کے دعا کی،
“یا اللہ! قبول فرما لینا۔”
دن جیسے جیسے گزرتا گیا، اُس کی کمزوری بڑھتی گئی۔ دوپہر تک بخار سا محسوس ہونے لگا۔ نرس نے ڈاکٹر کو اطلاع دی۔ ڈاکٹر حارث فوراً کمرے میں آئے۔
“میں نے منع کیا تھا نا؟ شوگر لیول گر رہا ہے، بلڈ پریشر کم ہے۔ یہ ضد آپ کو لے ڈوبے گی!”
سلیم نے مسکرا کر کہا،
“ڈاکٹر صاحب، آج مجھے مت روکیں۔ بس شام تک صبر کرنے دیں۔”
ڈاکٹر نے سر ہلا دیا مگر مانیٹر کی اسکرین پر نظریں جما دیں۔ دل کی دھڑکن کبھی تیز، کبھی آہستہ ہو رہی تھی۔ کمرے میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔
افطاری سے ایک گھنٹہ پہلے سلیم کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ سانس تیز ہونے لگی، ہاتھ ٹھنڈے پڑنے لگے۔ عائشہ گھبرا گئی۔
“ڈاکٹر کو بلائیں!”
ڈاکٹر حارث دوڑتے ہوئے آئے۔ نرس نے ایمرجنسی انجکشن تیار کیا۔ مانیٹر پر لائن بے ترتیب ہونے لگی۔ بیپ کی آوازیں تیز ہو گئیں۔
“فوراً انجکشن لگانا ہوگا!” ڈاکٹر نے کہا۔
جیسے ہی وہ آگے بڑھے، سلیم نے کمزور ہاتھ سے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر سکون۔
“ڈاکٹر صاحب… مجھے جانے دیں… میں اللہ سے ملنا چاہتا ہوں… اذان ہونے والی ہے…”
ڈاکٹر چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئے۔ پیشہ ورانہ ذمہ داری ایک طرف، اور ایک مرنے والے کی آخری خواہش دوسری طرف۔ عائشہ رو رہی تھی،
“انجکشن لگا دیں ڈاکٹر صاحب! میں انہیں کھونا نہیں چاہتی!”
مگر سلیم نے سر ہلایا۔
“بس دس منٹ… صرف دس منٹ…”
کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی۔ باہر مسجد سے اذان کی تیاری کی آواز آ رہی تھی۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔
اچانک مانیٹر پر دل کی دھڑکن بہت آہستہ ہو گئی۔ بیپ کی آواز کمزور پڑنے لگی۔ ڈاکٹر نے نرس کو اشارہ کیا کہ تیار رہو۔
پھر وہ لمحہ آ گیا۔
“اللہ اکبر… اللہ اکبر…”
مسجد سے اذان کی آواز گونجی۔ کمرے میں جیسے نور سا پھیل گیا۔ سلیم نے کانپتے ہاتھ سے گلاس پکڑا۔ عائشہ نے سہارا دیا۔ اُس نے ایک چھوٹا سا گھونٹ پانی کا پیا۔
اور اسی لمحے مانیٹر کی اسکرین پر ایک عجیب سی لہر ابھری۔
وہ عام دھڑکن جیسی نہیں تھی۔ پہلے سیدھی لائن آئی، پھر اچانک ایک اونچی، واضح اور مضبوط Pulse نمودار ہوئی۔ جیسے کسی نے اندر سے زور سے دل کو دھڑکایا ہو۔ بیپ کی آواز ایک لمحے کو بلند ہوئی، پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔
سکرین پر سیدھی لائن آ گئی۔
عائشہ چیخ اٹھی،
“سلیم!”
ڈاکٹر حارث نے فوراً CPR شروع کیا۔ چند منٹ تک کوشش جاری رہی، مگر کوئی ردِعمل نہ آیا۔ آخرکار ڈاکٹر نے گہری سانس لی اور آہستہ سے کہا،
“اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن…”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
مگر ڈاکٹر کی نظریں ابھی بھی مانیٹر پر جمی تھیں۔ انہوں نے نرس سے کہا،
“پچھلے دس منٹ کا ڈیٹا نکالو۔”
ڈیٹا دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ جیسے ہی اذان شروع ہوئی اور مریض نے پانی پیا، اُس کے دل نے آخری بار انتہائی طاقتور دھڑکن دی تھی۔ ایسی مضبوط Pulse جو اس کی حالت کے برعکس تھی۔
ڈاکٹر نے سرگوشی کی،
“یہ ممکن نہیں… اس اسٹیج کے کینسر میں دل اتنی طاقت سے کیسے دھڑک سکتا ہے؟”
نرس نے آہستہ سے کہا،
“شاید یہ ایمان کی طاقت تھی، سر…”
ڈاکٹر خاموش ہو گئے۔ وہ سائنسی آدمی تھے۔ ہر چیز کو اعداد و شمار سے ناپتے تھے۔ مگر آج اُن کے سامنے ایک ایسا لمحہ تھا جس کی کوئی میڈیکل وضاحت نہ تھی۔
اگلے دن جب سلیم کی میت گھر لے جائی گئی، پورا محلہ جنازے میں شریک تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے،
“کتنی خوش نصیبی ہے، پہلا روزہ رکھا اور افطاری کے وقت رخصت ہو گئے…”
ڈاکٹر حارث بھی جنازے میں آئے۔ اُن کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ نمازِ جنازہ کے بعد وہ عائشہ کے پاس گئے۔
“آپ کے شوہر بہت مضبوط انسان تھے۔”
عائشہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا،
“وہ کہتے تھے، اللہ کے سامنے خالی ہاتھ نہیں جانا۔”
ڈاکٹر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج ڈھل رہا تھا۔ وہ لمحہ اُن کے ذہن میں تازہ تھا جب مانیٹر پر وہ غیر معمولی لہر ابھری تھی۔
اُسی رات ڈاکٹر حارث دیر تک اسپتال کے آفس میں بیٹھے رہے۔ انہوں نے مریضوں کی فائلیں بند کیں، پھر سلیم کی رپورٹ دوبارہ کھولی۔ آخر میں آہستہ سے خود سے کہا،
“شاید سائنس ہر چیز کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ کچھ چیزیں دل سے سمجھی جاتی ہیں…”
رمضان کے باقی دنوں میں ڈاکٹر حارث نے بھی روزہ رکھا۔
اور جب پہلی بار افطاری کے وقت اذان ہوئی، تو اُن کے دل میں بھی ایک عجیب سی لہر اٹھی—
ایمان کی
