دو کوے صبح سویرے نکلے،
بالکل روزمرہ کی طرح،
کھانے کی تلاش میں۔
سارا دن اُڑتے رہے،
گلیاں چھان ماریں،
کوڑے دانوں کے چکر لگائے،
لیکن قسمت ایسی سوئی ہوئی تھی
کہ ایک دانہ بھی ہاتھ نہ آیا۔
شام کو دونوں تھکے ہارے واپس لوٹ رہے تھے
کہ اچانک اچ شریف کی جامع مسجد کے صحن میں
ایک منظر نے ان کی آنکھوں میں چمک بھر دی۔
وہاں مولوی جام صاحب بڑے سکون سے بیٹھے
روٹی تناول فرما رہے تھے،
ایسے اطمینان سے جیسے
دنیا میں قحط صرف کوؤں کے لیے آیا ہو۔
دونوں کوے فوراً نیچے اترے
اور ذرا فاصلے پر بیٹھ گئے،
کچھ دیر وہ روٹی کو گھورتے رہے،
بالکل ویسے جیسے ڈاکٹروں کی ٹیم
کسی ایکسرے رپورٹ پر مشاورت کر رہی ہو۔
نوجوان کوا آہستہ سے بولا:
“جناب ایک بات کہوں؟
ہم اس روٹی پر جپٹتے کیوں نہیں؟
ویسے بھی یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ہے!”
بوڑھے کوے نے فوراً گردن گھما کر اسے دیکھا
اور آہستہ سے بولا:
“ارے نادان!
یہ کوئی عام آدمی نہیں،
یہ مولوی جام صاحب ہیں!”
نوجوان کوا حیران ہو کر بولا:
“تو کیا ہوا؟
ہم یہی کچھ تو ہمیشہ کرتے ہے”
بوڑھا کوا ذرا اور قریب ہو کر سرگوشی میں بولا:
“مسئلہ روٹی کا نہیں ہے
مسئلہ فتویٰ کا ہے!”
نوجوان نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا:
“وہ کیسے؟”
بوڑھا بولا:
“اگر ہم نے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی اٹھا لیا
اور مولوی جام صاحب کو غصہ آ گیا نا،
تو کل پورے پاکستان میں
فتویٰ آ جائے گا کہ
کوّا بھی حلال ہے!”
یہ سنتے ہی نوجوان کوے کے پر کانپ گئے۔
بوڑھے نے آخری نصیحت کرتے ہوئے کہا:
“بیٹا،
ایک ٹکڑے کی خاطر
اپنی پوری نسل کو
بریانی کی پلیٹ میں مت ڈلوا!”
یہ سن کر نوجوان کوے نے گھبرا کر فوراً پر سمیٹے،
روٹی کو آخری حسرت بھری نظر سے دیکھا
اور آہستہ سے بولا:
“اچھا استاد جی…
آج کے لیے یہی سمجھ لیتے ہیں
کہ رمضان کی وجہ سے ہمارا بھی روزہ ہے!”
بوڑھا کوا مسکرایا اور بولا:
“ہاں بیٹا…
ورنہ کوئی اور ہوتا تو روٹی تو کیا،
ہم تو پلیٹ بھی ساتھ اٹھا لے جاتے۔
تحریر: عثمان عاشقدو کوے صبح سویرے نکلے،
بالکل روزمرہ کی طرح،
کھانے کی تلاش میں۔
سارا دن اُڑتے رہے،
گلیاں چھان ماریں،
کوڑے دانوں کے چکر لگائے،
لیکن قسمت ایسی سوئی ہوئی تھی
کہ ایک دانہ بھی ہاتھ نہ آیا۔
شام کو دونوں تھکے ہارے واپس لوٹ رہے تھے
کہ اچانک اچ شریف کی جامع مسجد کے صحن میں
ایک منظر نے ان کی آنکھوں میں چمک بھر دی۔
وہاں مولوی جام صاحب بڑے سکون سے بیٹھے
روٹی تناول فرما رہے تھے،
ایسے اطمینان سے جیسے
دنیا میں قحط صرف کوؤں کے لیے آیا ہو۔
دونوں کوے فوراً نیچے اترے
اور ذرا فاصلے پر بیٹھ گئے،
کچھ دیر وہ روٹی کو گھورتے رہے،
بالکل ویسے جیسے ڈاکٹروں کی ٹیم
کسی ایکسرے رپورٹ پر مشاورت کر رہی ہو۔
نوجوان کوا آہستہ سے بولا:
“جناب ایک بات کہوں؟
ہم اس روٹی پر جپٹتے کیوں نہیں؟
ویسے بھی یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ہے!”
بوڑھے کوے نے فوراً گردن گھما کر اسے دیکھا
اور آہستہ سے بولا:
“ارے نادان!
یہ کوئی عام آدمی نہیں،
یہ مولوی جام صاحب ہیں!”
نوجوان کوا حیران ہو کر بولا:
“تو کیا ہوا؟
ہم یہی کچھ تو ہمیشہ کرتے ہے”
بوڑھا کوا ذرا اور قریب ہو کر سرگوشی میں بولا:
“مسئلہ روٹی کا نہیں ہے
مسئلہ فتویٰ کا ہے!”
نوجوان نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا:
“وہ کیسے؟”
بوڑھا بولا:
“اگر ہم نے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی اٹھا لیا
اور مولوی جام صاحب کو غصہ آ گیا نا،
تو کل پورے پاکستان میں
فتویٰ آ جائے گا کہ
کوّا بھی حلال ہے!”
یہ سنتے ہی نوجوان کوے کے پر کانپ گئے۔
بوڑھے نے آخری نصیحت کرتے ہوئے کہا:
“بیٹا،
ایک ٹکڑے کی خاطر
اپنی پوری نسل کو
بریانی کی پلیٹ میں مت ڈلوا!”
یہ سن کر نوجوان کوے نے گھبرا کر فوراً پر سمیٹے،
روٹی کو آخری حسرت بھری نظر سے دیکھا
اور آہستہ سے بولا:
“اچھا استاد جی…
آج کے لیے یہی سمجھ لیتے ہیں
کہ رمضان کی وجہ سے ہمارا بھی روزہ ہے!”
بوڑھا کوا مسکرایا اور بولا:
“ہاں بیٹا…
ورنہ کوئی اور ہوتا تو روٹی تو کیا،
ہم تو پلیٹ بھی ساتھ اٹھا لے جاتے۔
تحریر: عثمان عاشق
