ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان سلطنت کا بادشاہ، جس کے ایک اشارے پر تلواریں نیام سے باہر آ جاتیں اور ایک تیوری چڑھانے پر دربار میں سناٹا چھا جاتا، ایک رات عجیب خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔
خواب یہ تھا کہ اس کے منہ کے تمام دانت ایک ایک کرکے جھڑ گئے ہیں۔ صبح ہوتے ہی بادشاہ کی پیشانی پر فکر کی شکنیں تھیں۔ اس نے فوراً حکم دیا:
“دربار سجایا جائے! خواب کے ماہرین حاضر کیے جائیں!”
چنانچہ ملک بھر کے نجومی، حکیم اور خواب شناس دربار میں جمع ہو گئے۔
سب سے پہلے ایک بزرگ معبرِ خواب آگے بڑھا۔ اس نے خواب سنا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر نہایت سادگی سے عرض کیا:
“بادشاہ سلامت! اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے تمام عزیز و اقارب آپ سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔”
یہ سننا تھا کہ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
“بدزبان! منحوس خبر سنانے کی جرات کرتا ہے؟”
فوراً حکم ہوا، اور بیچارے معبر کو کوڑوں کی بارش کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ دیر بعد دوسرا معبر آگے آیا۔ اس نے بھی خواب سنا، مگر الفاظ کے ریشمی غلاف میں وہی بات پیش کی:
“بادشاہ سلامت! مبارک ہو! آپ کو اپنے تمام رشتہ داروں سے زیادہ عمر نصیب ہوگی۔”
یہ سن کر بادشاہ کے چہرے پر بہار آ گئی۔
“واہ! کیا خوش خبری سنائی ہے!”
فوراً خلعت پہنائی گئی، اشرفیوں کی تھیلی دی گئی اور انعام و اکرام سے نوازا گیا۔
دربار کے قریب ایک قدیم برگد کے درخت پر ایک اُلّو بیٹھا یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا۔ وہ دانائی میں مشہور تھا اور خاموشی کو اپنی زبان بنائے رکھتا تھا، مگر آج اس سے رہا نہ گیا۔
اس نے اپنی گردن گھمائی اور ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا:
“عجیب بات ہے! دونوں شخص ایک ہی حقیقت بیان کر رہے تھے۔ ایک نے سچ کو سیدھا کہا تو کوڑے کھائے، دوسرے نے اسی سچ کو خوشنما لباس پہنا دیا تو انعام پا گیا۔”
پھر اس نے اپنی زرد آنکھیں جھپکائیں اور بولا:
“اب بتاؤ، سچ کیا تھا؟”
دربار میں سناٹا چھا گیا۔
بادشاہ کو یہ جملہ تیر کی طرح لگا۔ اس نے غصے سے حکم دیا:
“اس گستاخ اُلّو کو فوراً گرفتار کرو!”
مگر دانائی کے پر اکثر طاقت کے ہاتھ نہیں آتے۔
اُلّو قہقہہ لگا کر بولا:
“جہاں سچ بولنے کی قیمت کوڑے ہوں، وہاں عقل کا تقاضا ہے کہ پر سلامت رکھے جائیں!”
یہ کہہ کر وہ اپنے پروں کو جنبش دیتا ہوا نیلے آسمان میں گم ہو گیا، اور سپاہی ہاتھ ملتے رہ گئے۔
سبق
سچائی صرف حقیقت کا نام نہیں، بلکہ اسے بیان کرنے کے ہنر کا نام بھی ہے۔ ایک ہی بات اگر تلخ لہجے میں کہی جائے تو زہر لگتی ہے، اور اگر حکمت و دانائی کے ساتھ کہی جائے تو شہد معلوم ہوتی ہے۔
اور بعض اوقات…
بادشاہ سچ سے نہیں، سچ کے اندازِ بیان سے ناراض ہوتا ہے۔
#منقول
