بلاعنوان

بلاعنوان

ایک قدیم شہر میں ایک خوش حال تاجر رہتا تھا۔ لوگ اس کی دولت سے کم اور اس کی نرم دلی سے زیادہ واقف تھے۔ اس کا دروازہ ضرورت مندوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا، اور اس کے ہاتھ سے خیر کا سلسلہ کبھی رکتا نہ تھا۔
مگر نرم دل لوگ اکثر ایک آزمائش کا شکار ہوتے ہیں:
وہ دوسروں کی نیت کو اپنے دل کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔
ایک دن ایک شخص تاجر کے پاس آیا۔ اس کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے، چہرے پر ندامت کا رنگ تھا اور آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
اس نے کانپتی آواز میں کہا:
“حضور! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ میں نے آپ کے مال میں خیانت کی، آپ کا نقصان کیا، اور آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اگر سزا دیں تو حق ہے، مگر اگر معاف کر دیں تو عمر بھر احسان مند رہوں گا۔”
تاجر خاموش ہو گیا۔
اس کے سامنے دو راستے تھے:
ایک انصاف کا، دوسرا رحمت کا۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے گہرا سانس لیا اور کہا:
“میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ جاؤ، نئی زندگی شروع کرو۔”
وہ شخص خوشی سے جھک گیا، دعائیں دیں اور رخصت ہو گیا۔
شہر بھر میں تاجر کی سخاوت اور درگزر کے چرچے ہونے لگے۔
لوگ کہنے لگے:
“کیا ظرف ہے! کیا دل ہے! ایسا معاف کرنے والا کم ہی دیکھا۔”
تاجر بھی مطمئن تھا کہ اس نے ایک بھٹکے ہوئے انسان کو سنبھال لیا ہے۔
مگر چند ماہ بعد ایک خبر آئی۔
وہی شخص، جسے معاف کیا گیا تھا، دوبارہ کسی اور کے ساتھ دھوکا کرتے ہوئے پکڑا گیا۔
پھر معلوم ہوا کہ اس نے تاجر کی معافی کو ندامت نہیں، کمزوری سمجھا تھا۔
اس نے توبہ نہیں کی تھی، صرف سزا سے بچنے کا راستہ ڈھونڈا تھا۔
یہ سن کر تاجر کا دل بیٹھ گیا۔
اس نے افسوس سے کہا:
“میں نے سمجھا تھا کہ میں نے ایک انسان کو بچایا ہے، مگر میں نے تو اسے اپنی برائی جاری رکھنے کا موقع دے دیا۔”
اسی شام ایک دانا بزرگ اس سے ملنے آئے۔
تاجر نے اپنا دکھ بیان کیا اور کہا:
“کاش! میں اسے معاف نہ کرتا۔”
بزرگ نے نرمی سے جواب دیا:
“نہیں، پچھتاؤ نہیں۔ تمہارا معاف کرنا غلط نہیں تھا۔”
تاجر حیران ہوا۔
“پھر یہ درد کیوں؟”
بزرگ بولے:
“کیونکہ تم نے معافی دی تھی، مگر حکمت کے بغیر۔”
وہ ذرا رکے، پھر کہنے لگے:
“معافی ایک قیمتی موتی ہے، لیکن ہر ہاتھ میں نہیں رکھا جاتا۔ جو اپنی غلطی پر شرمندہ ہو، اسے معافی نئی زندگی دیتی ہے۔ مگر جو اپنی چالاکی چھپانے کے لیے آنسو بہائے، اسے معافی صرف ایک نیا موقع دیتی ہے کہ وہ دوبارہ نقصان پہنچائے۔”
تاجر خاموش ہو گیا۔
اسے احساس ہوا کہ رحمت اور سادگی میں باریک فرق ہوتا ہے۔
رحمت دل کی خوبی ہے، مگر سادگی اگر بصیرت کے بغیر ہو تو نقصان بن جاتی ہے۔
اس دن کے بعد وہ معاف تو کرتا رہا، مگر پہلے دلوں کو پرکھنا بھی سیکھ گیا۔
سبق
معاف کرنا عظمت ہے، لیکن ہر خطا کار نادم نہیں ہوتا۔
کبھی لوگ اپنی غلطی پر شرمندہ ہوتے ہیں، اور کبھی صرف پکڑے جانے پر۔
“درگزر کرو، مگر آنکھیں بند کر کے نہیں؛ رحم کرو، مگر عقل کو ساتھ رکھ کر۔”
کیونکہ بعض اوقات معافی زخم بھر دیتی ہے، اور بعض اوقات وہی معافی زخم کو دوبارہ کھولنے کا موقع بن جاتی ہے۔
اصل دانائی صرف بخش دینے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ کون معافی کا مستحق ہے اور کون صرف اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner